Monday , June 26 2017
Home / سیاسیات / بہار و یو پی میں بیک وقت انتخابات کروانے بی جے پی کو چیلنج

بہار و یو پی میں بیک وقت انتخابات کروانے بی جے پی کو چیلنج

چیف منسٹر نتیش کمار کا جوابی وار ۔ صدارتی انتخاب پر بی جے پی کو اتفاق رائے کیلئے پہل کا مشورہ
پٹنہ 12 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے بی جے پی کی جانب سے بہار میں تازہ اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کے چیلنج کو آج قبول کرلیا ہے تاہم انہو نے ساتھ ہی بی جے پی کو چیلنج کیا ہے کہ وہ بھی اترپردیش میں بہار کے ساتھ تازہ اسمبلی انتخابات کروائے ۔ انہوں نے پارٹی سے کہا کہ وہ بہار اور اترپردیش میں این ڈی اے ارکان کی لوک سبھا نشستوں پر بھی دوبارہ انتخابات کروائے ۔ اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر اور بی جے پی لیڈر کیشو پرساد موریہ نے کل نتیش کمار کو چیلنج کیا تھا کہ اگر انہیں اپنی حکومت کے ترقیاتی کاموں پر اتنا ہی بھروسہ ہے تو وہ بہار اسمبلی تحلیل کرواتے ہوئے دوبارہ انتخابات کروائیں۔ نتیش کمار نے آج رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کیشو پرساد موریہ سے کہا کہ اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ بہار کے ساتھ یو پی میں بھی بیک وقت اسمبلی انتخابات کروائے ۔ انہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اگر بی جے پی ‘ اترپردیش میں بھی انتخابات کروانے تیار ہوجاتی ہے تو وہ بہار اسمبلی کو کل بھی تحلیل کرنے تیار ہیں۔ نتیش کمار نے یہاں ایک پروگرام کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست میں وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار ہیں۔ لیکن یہ انتخابات اترپردیش اسمبلی کے انتخابات کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ بہار اور اترپردیش میں بیک وقت انتخابات ہونے چاہئیں۔ نتیش کمار نے کہا کہ تمام این ڈی اے اور بی جے پی کے ارکان کو بھی اترپردیش اور بہار میں اپنے لوک سبھا حلقوں سے مستعفی ہوجانا چاہئے تاکہ وہاں بھی تازہ انتخابات کروائے جاسکیں۔ بی جے پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی ۔ تاہم اسے بہار میں عظیم اتحاد کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ صدارتی انتخاب سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نتیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے آگے آئے ۔ مرکزی حکومت اگر اس مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا نہیں کرتی ہے تو یہ اپوزیشن کا ذمہ ہے کہ وہ صدارتی امیدوار نامزد کرے ۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں پہل کرے ۔ نتیش کمار نے کہا کہ اس مسئلہ پر چونکہ اپوزیشن جماعتوں کا ایک سے زائد مرتبہ اجلاس ہوچکا ہے اس لئے انہیں اپنے امیدوار کے انتخاب کیلئے زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا ۔ انہوں نے گاندھی جی کے خلات امیت شاہ کے ریمارکس کی بھی مذمت کی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT