Tuesday , October 24 2017
Home / سیاسیات / بہار کے تعلق سے مرکز کی لاپرواہی دستور کے مغائر :جے ڈی یو

بہار کے تعلق سے مرکز کی لاپرواہی دستور کے مغائر :جے ڈی یو

پٹنہ، 22 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جنتا دل یونائیٹڈ(جے ڈی یو) نے نریندر مودی حکومت پر بہار کو مرکز کی جانب سے ملنے والی رقم کا نصف حصہ اب تک نہ دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ مرکز کی یہ کارروائی امدادِ باہمی وفاقیت کے جذبے اور آئینی نظام کی خلاف ورزی ہے ۔جے ڈی یو کے ریاستی ترجمان راجیو رنجن پرساد نے آج یہاں کہا کہ مرکز کی طرف سے اب تک بہار کے حصے کی آدھی رقم نہ دینا کوآپریٹیو وفاقیت کے جذبے اور آئینی نظام کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ مرکز میں حکمراں پارٹی یا مرکزی حکومت کی خواہش کا موضوع نہیں، بلکہ ’مجموعی بجٹ مدد‘کاآئینی نظام ہے ، جس سے ریاستوں کیلئے بجٹ میں مرکزی امداد کی رقم طے ہوکر انہیں دی جاتی ہے۔ پرساد نے کہا کہ مالی سال 2016-17ء کے ختم ہونے میں صرف 25 دن ہی باقی ہیں اور مرکزی حکومت جان بوجھ کر رقم روک کر بہار کی ترقی اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کو متاثر کررہی ہے ۔ ایسے میں مختلف اشیاء میں منظور رقم کے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں بچے گا۔جے ڈی یو ترجمان نے کہا کہ بہار حکومت مرکز سے خصوصی ریاست کا درجہ دینے اور مرکزی منصوبہ بندی میں مرکز کی طرف سے کم کر دی گئی اس کی حصہ داری بڑھانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے ۔لیکن، ان کے مطالبات کو پورا کرنا تو دور، بجٹ میں مختص کی گئی رقم بھی بہار کو نہیں دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے مودی حکومت پر ریاست کے لوگوں سے اسمبلی انتخابات میں شکست کا بدلہ لینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بہار کے لوگوں نے بی جے پی اور این ڈی اے کو ووٹ نہیں دیا تو مرکز ریاست کے 11 کروڑ لوگوں سے بدلہ لے رہی ہے۔ سینئر بی جے پی لیڈر و سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی پر تنقید میں کہا کہ اس معاملے میں انھیں اپنی ساڑھے آٹھ سال کی مدت یاد کرنی چاہئے ، جب وہ مرکز کو کوستے رہتے تھے ۔ آج ان کیلئے پارٹی اہم ہے یا بہار؟

TOPPOPULARRECENT