Friday , September 22 2017
Home / فیچر نیوز / بہت سی کرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں

بہت سی کرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں

راجناتھ سنگھ کا مشن کشمیر ناکام
ممبئی کے اسکولوں میں یوگا اور سوریا نمسکار

رشیدالدین
کسی بھی مسئلہ کے حل کیلئے جب تک حقیقی فریقین سے مذاکرات نہ کئے جائیں، اس وقت تک کسی نتیجہ کی امید کرنا دانشمندی نہیں ہے ۔ کشمیر اب محض ایک مسئلہ نہیں رہا بلکہ صورتحال کی سنگینی کے ساتھ مزید پیچیدہ بنتا جارہا ہے ۔ محض چند سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل مسئلہ کا حل نہیں۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے جن سیاسی قائدین سے ملاقات کی ، وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں، برسر اقتدار ہو کہ اپوزیشن یہ قائدین صرف سیکوریٹی کے حصار میں سرینگر تک محدود ہیں۔ اگر وہ واقعی عوام کے ترجمان ہوتے تو آج عوام کے درمیان ہوتے۔ عوام سے پرامن رہنے کی اپیل سے قبل یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ آخر ان کی ناراضگی کی وجوہات کیا ہے۔ 48 دن کے مسلسل کرفیو کے باوجود صورتحال تھمنے کا نام کیوں نہیں لیتی؟ زبانی ہمدردی سے دنیا میں کوئی مسئلہ حل ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے ؟ کشمیر کے بارے میں مرکز کا رویہ ناقابل فہم ہے اور وہ حالات کو طاقت کے بل پر کنٹرول کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ایک طرف کشمیریت ، انسانیت اور جمہوریت کا نعرہ لگایا جارہا ہے تو دوسری طرف مرکز اور ریاستی حکومت تینوں کو پامال کر رہی ہیں۔ کیا کشمیریت یہی ہے کہ عوام کو گھروں میں محروس کردیا جائے۔ انسانیت کیا یہی ہے کہ پیلیٹ گنس کے استعمال کے ذریعہ بے قصوروں کو مستقل طور پر معذور کردیا جائے۔ جمہوریت کیا عوام کو اظہار خیال سے روکنے کا نام ہے ؟ کشمیریت کا جذبہ تو صرف وادی کے وہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں ، جنہوں نے ہندوستان کو تقسیم کے وقت اپنا وطن بنایا جبکہ ان کے پاس پاکستان میں شمولیت کا آپشن موجود تھا۔ کشمیری جذبہ اور انسانیت کا مظاہرہ کشمیریوں نے سخت کرفیو کے دوران بھی کیا ، جب امرناتھ یاتریوں کی بس حادثہ کا شکار ہوگئی۔ فوج اور پولیس نے متاثرین کی مدد نہیں کی لیکن مقامی مسلمانوں نے کرفیو کے باوجود زخمیوں کو دواخانہ منتقل کیا اور اپنا خون دیکر کئی افراد کی جان بچائی ۔ خون دینے کے مسئلہ پر کشمیری نوجوانوں میں مسابقت کا جذبہ دیکھا گیا۔ جس کشمیریت کے جذبہ نے انسانیت کا عظیم مظاہرہ پیش کیا ، ان کو مرکز کی جانب سے نیا درس دیا جارہا ہے ۔ نریندر مودی حکومت سے کوئی پوچھے کہ انسانیت یہی ہے کہ 48 دن سے قید ، بھوکے اور بنیادی ضرورتوں سے محروم افراد کے لئے امداد کے بجائے زائد سیکوریٹی فورسس کو روانہ کیا جائے۔ جن کو علاج کیلئے میڈیسن کی گولی چاہئے، ان کیلئے بندوق کی گولی اور پیلیٹ گنس کیا یہی انسانیت ہے ؟ مرکز نے بی ایس ایف اور سی آر پی ایف کے تقریباً 6000 جوانوں کو کشمیر روانہ کرنے کی تیاری کرلی۔ اس سے دہلی میں بیٹھے افراد کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک ماہ کے وقفہ سے دوسری  مرتبہ کشمیر کا دورہ کیا۔ راجناتھ سنگھ کا مشن کشمیر حالات بدلنے میں ناکام ثابت ہوا ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وزیر داخلہ مسئلہ کی یکسوئی کیلئے ٹھوس ایجنڈہ اور حکمت عملی کے بغیر دو دن کی تفریح کے لئے کشمیر گئے تھے۔ ان کا مشن صرف گیسٹ ہاؤس تک محدود رہا جہاں سیاسی قائدین اور حکومت کے قریبی افراد نے ملاقات کی۔ کشمیر کی صورتحال صرف گیسٹ ہاؤز میں بیٹھ کر یا پریس کانفرنس کے ذریعہ بہتر نہیں بنائی جاسکتی ۔ عوام کے درمیان پہنچ کر ان کے دکھ درد کا احساس کرنا ہوگا ۔

48 دن گزرنے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو اعتماد میں لینے کے قدم نہیں اٹھائے گئے۔ عوام کا اعتماد ہی مرکز اور ریاست کی حکومت سے اٹھ چکا ہے۔ دو روزہ دورہ کے اختتام پر راجناتھ سنگھ نے کشمیر کے تمام گروپس بشمول حریت سے بات چیت کا پیشکش کیا۔ اگر سرینگر میں قیام کے دوران ہی حریت قائدین کو مدعو کیا جاتا تو مزید بہتر ہوتا۔ حریت قائدین گھروں میں نظربند ہیں اور راجناتھ سنگھ ان سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ حریت قائدین سے بات چیت سے زیادہ بہتر سیاسی مبصرین کی نظر میں یہی ہے کہ کشمیر میں حقیقی عوامی نمائندوں کے انتخاب کیلئے تازہ الیکشن کرائے جائیں  جس میں حریت کے دونوں گروپس حصہ لیں۔ موجودہ عوامی نمائندے 15 تا 20 فیصد رائے دہی سے منتخب ہوئے ہیں جنہیں کشمیری عوام کا حقیقی نمائندہ نہیں کہا جاسکتا۔ کشمیر میں رائے دہی کے طریقہ کار اور حقیقی فیصد کے بارے میں حکومت اور سیاسی  پارٹیاں اچھی طرح واقف ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے دراندازی کی جارہی ہے۔ راج ناتھ سنگھ جس علاقہ کا  ذکر رہے ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر ہے جو 1948 ء سے پاکستان کے قبضہ میں ہے ۔ جو علاقہ ہندوستان کا ہے، اسے وزیر داخلہ نے پاکستانی سرزمین قرار دیتے ہوئے دوسرے معنوں میں پاکستانی قبضہ کو درست تسلیم کرلیا۔ انہیں دراصل سرحد پار سے دہشت گردی کہنا چاہئے تھا ۔ کشمیر کے مسئلہ پر مذاکرات کیلئے پاکستانی پیشکش کو ہندوستان نے پھر ایک مرتبہ مسترد کرتے ہوئے دراندازی پر بات چیت کے موقف کا اعادہ کیا ہے ۔ ہند۔پاک تنازعات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر مسئلہ کشمیر کی یکسوئی نہیں کی جاسکتی، جس کا احساس اٹل بہاری واجپائی کو بحیثیت وزیراعظم تھا۔ دونوں ممالک شملہ معاہدہ کی رو سے بات چیت کے پابند ہیں یا پھر ہندوستان شملہ معاہدہ کی تنسیخ کا اعلان کردے۔ سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گرد حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت ہو تو ہندوستان سفارتی سطح پر تعلقات میں کمی کے ذریعہ دنیا کو پیام دے سکتا ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے دہلی میں بیٹھ کر اپنے ملک کی آزادی کو ہندوستانی کشمیریوں کے نام معنون کیا لیکن ہندوستانی حکومت نے خاطر خواہ کارروائی تک نہیں کی ۔

کشمیریت ، انسانیت اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والی حکومت کی عوام سے ہمدردی کی حقیقت اس وقت آشکار ہوگئی جب راجناتھ سنگھ نے پیلیٹ گنس کے متبادل کی تیاری کا اعلان کیا۔ اس کے لئے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کشمیری عوام سے وزیراعظم کی ہمدردی اور نوجوانوں کے ہاتھ میں لیاپ ٹاپ ، قلم اور کتاب دینے کا کڑوا سچ یہی ہے کہ کشمیری عوام کو بہرصورت مظالم سہنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔ پیلیٹ گنس کے استعمال پر پابندی کیوں نہیں جس سے کئی نوجوان اور بچے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایک طرف تعلیمی ترقی کا وعدہ اور دوسری طرف پیلیٹ گنس کی برقراری حکمرانوں کے دوہرے  معیار کو واضح کرتی ہے ۔ ہندوستان کے اور بھی علاقوں میں مختلف تحریکات کے تحت احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن کہیں بھی پیلیٹ گنس کا استمعال نہیں کیا گیا ۔ ہریانہ میں جاٹ اور گجرات میں پٹیل برادری کا پرتشدد احتجاج ہوا لیکن وہاں دور دور تک پیلیٹ گنس کا پتہ نہیں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شائد صرف کشمیر کیلئے ہی انہیں تیار کیا گیا ہے ۔ متبادل کا مطلب احتجاجیوں کو مارنا طئے ہے، بھلے طریقہ کوئی اور ہو۔ منی پور ، تریپورہ ، ناگالینڈ اور آسام میں شورش پسند سرگرمیاں ابھی بھی جاری ہیں لیکن وہاں پر پیلیٹ گنس استعمال نہیں کئے گئے ۔ ان کے استعمال کے ذریعہ ہندوستان نے پاکستان کو پروپگنڈہ کا ایک ہتھیار تھمادیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کشمیر میں سیکوریٹی فورسس سے مسلم دشمن عناصر کا صفایا کرنا ہوگا ۔ کیونکہ حالیہ عرصہ میں جو واقعات پیش آئے ہیں ، ا س میں فورسس کی مسلم دشمنی صاف طور پر جھلک رہی ہے ۔ کشمیر ملک کی وہ واحد ریاست ہے ، جہاں طاقت کا استعمال ضرورت سے زیادہ کیا جارہا ہے ۔ صورتحال پر کنٹرول کرنے میں ناکام محبوبہ مفتی نے اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کیا کہ 95 فیصد عوام امن کے خواہاں ہیں اور 5 فیصد افراد کے سبب صورتحال خراب ہوئی ہے۔ اگر محبوبہ مفتی کے اس استدلال کو درست مان لیا جائے ، تبھی انہیں اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ اگر صرف 5 فیصد افراد ہی گڑبڑ کے ذمہ دار ہے تو پھر وادی کے 95 فیصد علاقہ پر کرفیو کیوں نافذ کیا گیا ؟ کرفیو بھی صرف 5 فیصد علاقہ پر ہونا چاہئے تھا ۔

کس طرح 5 فیصد افراد 95 فیصد کو یرغمال بناسکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ انہوں نے  48 دن میں کتنے کرفیو زدہ علاقوں کا دورہ کیا؟ کتنے ہاسپٹلس پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی ؟ دوسری طرف بی جے پی نے تعلیمی نظام کو زعفرانی کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کا جو مسودہ تیار کیا گیا ، وہ خالص سنگھ پریوار کی ذہنیت کا حامل ہے۔ بی جے پی نے تعلیمی اداروں سے ہندو راشٹر کی سازش پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور تعلیمی اداروں پر مناسب کنٹرول کیلئے فروغ انسانی وسائل کی وزارت پرکاش جاوڈیکر کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے آر ایس ایس قائدین سے کئی گھنٹوں کی مشاورت کے بعد نئی قومی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے پسندیدہ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس کی ریاست مہاراشٹرا سے تعلیمی اداروں میں یوگا  اور سوریا نمسکار کو متعارف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ممبئی کے میونسپل کارپوریشن کے تحت چلنے والے تمام اسکولوں میں یوگا اور سوریا نمسکار کا آغاز کیا جائے گا جس میں اردو کے تقریباً 400 اسکولس شامل ہیں۔ میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی اور شیوسینا کا کنٹرول ہے اور ہندوتوا ایجنڈہ کے ذریعہ یہ پارٹیاں مستقبل قریب میں دوبارہ کارپوریشن پر قبضہ جمانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یوگا اور سوریا نمسکار کے بارے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے واضح کردیا تھا کہ یہ غیر شرعی رسومات ہیں جنہیں مسلمان ہرگز انجام نہیں دے سکتے۔ بعض نادان اور نام نہاد ترقی  پسند مسلمان ان رسومات کی تائید کرتے ہوئے بی جے پی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مرکز کی قومی ، تعلیمی پالیسی کا مقصد ہی یہی ہے کہ کسی طرح تعلیمی نظام کو ہندوتوا کے نظریات سے ہم آہنگ کردیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کی ذہنیت پر ہندوتوا طاری رہے۔ کشمیر کے حالات پر منور رانا کا یہ شعر صادق آتا ہے  ؎
بہت سی کرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں
یہ وہ سچ ہے جسے جھوٹے سے جھوٹا بول سکتا ہے

TOPPOPULARRECENT