Friday , July 28 2017
Home / اداریہ / بیان کافی نہیں ‘ کارروائی ضروری

بیان کافی نہیں ‘ کارروائی ضروری

کچھ عمل سے ذرا ثبوت تو دو
صرف باتوں کا اعتبار ہی کیا
بیان کافی نہیں ‘ کارروائی ضروری
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک بار پھر گائے کے نام پر تشدد کی مذمت کی ۔وزیر اعظم اس سے قبل بھی دو مرتبہ گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کی مذمت کرچکے ہیں۔ آج حکومت نے کل سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا اور اس اجلاس میں وزیر اعظم نے گائے کے نام پر تشدد کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے ۔ اس طرح سے ان کااشارہ گاؤ دہشت گردوں کی سمت تھا جو کسی کو بھی بیف رکھنے یا بیف کھانے کے نام پر حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد پر قابو پانے میں اپوزیشن جماعتوں کی مدد کی بھی خواہش کی ہے اور کہا کہ یہ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور گائے کے نام پر تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ مودی اس سے قبل بھی اس طرح کا اظہار خیال کرچکے ہیں ۔ حیدرآباد میں پہلی مرتبہ تو انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ جو لوگ رات بھر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں وہ دن میں گاؤ رکھشک کا چولا پہن لیتے ہیں ۔ ان کی سرگرمیاں غیر قانونی ہیں اور اس طرح کے عناصر پر انہیں بہت زیادہ غصہ آتا ہے ۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ گاؤ رکھشکوں کے نام پر غیر سماجی عناصر سرگرم ہوگئے ہیں اور جب خود وزیراعظم یہ بھی مانتے ہیں کہ گائے کا تحفظ اپنی جگہ لیکن اس کے نام پر انسانوں کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا جاسکتا تو پھر کس وجہ سے ان گاؤ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے ؟ ۔ وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ ریاستی حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔ اس کیلئے بھی وزیر اعظم کو پہل کرنی چاہئے کیونکہ ایسے واقعات ان ریاستوں میں زیادہ ہو رہے ہیںجہاں بی جے پی کی حکومتیں قائم ہیں۔ وزیر اعظم کو اپنے قول و فعل میںسنجیدگی کا احساس پیدا کرنے کیلئے کم از کم بی جے پی ریاستوں میں ان گاؤ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے انہیں صرف بیان بازی کرنے کی بجائے باضابطہ ہدایت جاری کرنی چاہئے ۔ یہ تیسری مرتبہ ہے جب وزیر اعظم نے اس مسئلہ پر زبان کھولی ہے ۔ انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف بیان بازی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ اگر وہ واقعی اپنے بیان میں سنجیدہ ہیں اور حقیقت میں یہ سمجھتے ہیں کہ گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہوسکتی تو پھر انہیں بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں ان گاؤ دہشت گردوںکے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا ۔ اس کیلئے انہیں اپوزیشن سے تعاون طلب کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ انہیں صرف پارٹی قائدین اور پارٹی حکومتوں کے نام ایک ہدایت جاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ پہلو یہ بھی ہے کہ صرف ریاستی حکومتوں پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔ اس کیلئے انہیں باضابطہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب تک ملک میں درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں جہاں محض شک و شبہ کی بنیاد پر انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔عوامی سطح پر بے حسی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک بھری ٹرین میں ایک معصوم نوجوان حافظ قرآن کو بیف کھانے والا قرا ر دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ نہ ٹرین میں موجود دوسرے مسافر حرکت میں آتے ہیں اور نہ پلیٹ فارم پر موجود سینکڑوں کی بھیڑ اس تعلق سے لب کشائی کرنے کی ہمت جٹا پاتی ہے ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ گاؤ دہشت گردوں کو اب تک بھی سیاسی اور قانونی پشت پناہی حاصل ہورہی ہے ۔ کسی بھی ریاست میں پولیس نے گاؤ دہشت گردوں کے خلاف جامع کارروائی نہیں کی بلکہ متاثرین کے خلاف ہی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ انصاف رسانی میں معاون ہوسکتا ہے اور نہ ہی قانون کی بالا دستی کو یقینی بناسکتا ہے ۔ جتنے بھی لوگ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہو رہے ہیں اور بے قصوروں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں وہ کھلے عام سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے جبکہ ان کے ویڈیوز اور دھمکی آمیز بیانات اور عزائم واضح ہیں۔ مودی کو محض سیاسی چالبازی کی خاطر اپوزیشن کی صفوں کو مطمئن کرنے کیلئے بیان بازی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ۔ انہیں واقعتا اگر قانون اور ملک کی صورتحال کی فکر ہے تو پھر اس کیلئے عملی طور پر حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ پہلے خود بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں گاؤ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بناتے ہوئے اس کے ذریعہ دوسری ریاستوں کیلئے مثال پیش کرنا ہوگا اسی وقت ان کے بیان کو سنجیدہ کہا جاسکتا ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT