Sunday , August 20 2017
Home / آپ کے سوال / بیت الخلاء میں جانب قبلہ رخ کرنا

بیت الخلاء میں جانب قبلہ رخ کرنا

سوال :  یہ مسئلہ زیر غور ہے کہ ایک مدرسہ اناث کی پرانی بوسیدہ عمارت کی از سر نو تعمیر کی گئی اور ایک حصہ میں ایک کمرہ میں چند بیت الخلاء تعمیر کئے گئے جن کا رخ جانب قبلہ ہے۔ اس کو استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟  شرعی احکام کیا ہیں ؟ براہ کرم جواب  ارسال فرمائیں تو مہربانی ہوگی۔
معلمات مدرسہ ، رنگا ریڈی
جواب :  احناف کے نزدیک بیت الخلاء میں قبلہ کی جانب رخ یا پشت کرنا دونوں منع ہیں ۔ خواہ آبادی میں ہوں یا صحراء و بیاباں میں۔ لہذا مدرسہ کے ذمہ دار اصحاب کو چاہئے کہ شرعی حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے جانب قبلہ رخ اور پشت دونوں سے احتراز کریں۔

پڑوسی کو تکلیف دینا
سوال :۔   ایک شخص اور ان کی بہن کے درمیان ان کی والدہ مرحومہ کے مکان کی تقسیم کے موقع پر حسب رضامندی ہر دو فریق یہ تحریر موجود ہے کہ بہن کے مکان کے چھت اور ہرسہ طرف چار انچ کی چسپیدہ دیوار ان کی ہے اور کھلی اراضی بھی ان کی ہے ۔ اب مرحومہ بہن کے فرزند کا ادعا یہ ہیکہ چار انچ کے علاوہ دیوار کے جس حصہ پر چھت ہے وہ بھی انہی کی ہے ۔ دوسری نزاع یہ ہے کہ مرحومہ بہن کے مذکورہ مکان کی چھت کا پانی بھائی کے گھر میں گررہا ہے ۔ بھائی کی خواہش ہے کہ اس تکلیف کا سدباب ہو لیکن مرحومہ کے لڑکے اس کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں ۔
محمد قاسم رسول، سبحان پورہ
جواب : ۔  مذکورہ درسوال دیواروں سے متعلق جب فریقین کی رضامندی کا ثبوت تحریراً موجود ہے تو اب نزاع کی کوئی گنجائش نہیں‘ حسب تصفیہ ہرسہ طرف چار انچ کی دیوار بہن کی رہے گی اس لئے ان کے ورثاء کو اس سے اتفاق کرلینا چاہیئے اگر وہ دیوار کا حجم بڑھانا چاہتے ہوں تو چار انچ کی دیوار سے متصل اندرونی حصہ میںمزید دیوار اٹھالینے کا ان کو اختیار حاصل ہے ۔ قطع نظر دیواروں کی نزاع کے ہر صورت میں بہن کے مکان کی چھت کا پانی بھائی کے حصہ مکان میں گررہا ہو تو اس کی شرعاً اور قانوناً بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس لئے اس امر کے سدباب کئے جانے کی بھائی کی طرف سے کی جانے والی خواہش حق بجانب ہے ۔ مرحومہ بہن کے لڑکے پر لازم ہے کہ وہ اس کا سدباب کرے کیونکہ پڑوس کو جبکہ وہ رشتہ دار بھی ہو دوگنا حق رکھتا ہے ‘ اپنی طرف سے کوئی تکلیف دینا تو بڑی بات ہے ۔ پڑوسی ہونے کا حق یہ ہے کہ اس کو کوئی تکلیف ہو تو اس کو بھی دور کرنے میں پڑوسی کو تعاون عمل کرنا چاہیئے ۔

امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجود سے سر اٹھانا
سوال :  بعض وقت دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اس قدر جلدی میں ہوتے ہیں کہ امام کے رکوع سے اٹھنے کا انتظار نہیں کرتے اور اس سے قبل اٹھ جاتے ہیں ۔ شرعی لحاظ سے اگر کوئی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے سر اٹھالے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ :
محمد سالم مہدی، نارائن گوڑہ
جواب :  مقتدی پر امام کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی مقتدی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے ا پنا سراٹھالے تو فقہاء نے صراحت کی کہ اس کے لئے دوبارہ رکوع اور سجدہ میں چلے جانا مناسب ہے تاکہ امام کی اقتداء اور اتباع مکمل ہوسکے اور امام کی مخالفت لازم نہ آئے ۔ دوبارہ رکوع اور سجدہ میں جانے سے تکرار متصور نہیں ہوگی ۔ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص : 171, 170 میں ہے : من الواجب متابعۃ المقتدی امامہ فی الارکان الفعلیۃ فلو رفع المقتدی رأسہ من الرکوع اوالسجود قبل الامام ینبغی لہ ان یعود لتزول المخالفۃ بالموافقۃ ولا یصیر ذلک تکرار!

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
سوال :  آپ کے اس کالم میں شرعی مسائل اور اس کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کی نشاندہی کی جاکر اسلامی نقطہ نظر سے رہبری کی جاتی ہے۔ آج مسلمان میں بداخلاقی، مفاد پرستی ، خود غرصی ، کوٹ کوٹ کے بھر چکی ہے ۔ دوسروں کے کام آنا ، ہمدردی کرنا ، خیر خواہانہ جذبہ رکھنا ناپید ہے ۔ ایک دوسرے کی شکایت کرنا ، احترام کے  خلاف گفتگو کرنا، توہین کرنا عام ہوتے جارہا ہے ۔ ان حالات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں مذکورہ احوال پر رہبری فرمائی جائے تو بہت بہتر ہے ؟
محمد عمران ، شاہین نگر
جواب :  اسلام میں اکرام مومن کی کافی اہمیت ہے۔ دوسروں سے متعلق حسن ظن رکھنا اور اچھا سلوک کرنا اخلاقی فریضہ ہے ۔ دوسروں کیلئے آپؐ کے دل میں ہمیشہ ہمدردی اور مہربانی کے جذبات موجزن رہے ۔اس مسئلہ میں آپؐ کے نزدیک اپنے بیگانے ، آزاد اور غلام کی کوئی تمیز  نہ تھی ۔ آپؐ اکثر فرمایا کرتے تھے : ’’ میرے سامنے دوسروں کی ایسی باتیں نہ کیا کرو جنہیں سن کر میرے دل میں ان کے متعلق کوئی کدورت پیدا ہوجائے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں سب سے صاف دل (سلیم الصدر) کے ساتھ ملوں ‘‘ (ابو داؤد : السنن ، 183:5 ، حدیث 4860 : الترمذی 71:5 ، حدیث 3896 ، مطبوعہ قاہرہ 1965 ء) ۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے دو افراد کے متعلق آپؐ کو کوئی شکایت پہنچائی ۔ جسے سن کر آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپؐ نے حضرت عبداللہؓ بن مسعود کو کنایۃً فرمایا کہ ’’ اس طرح کی باتیں مجھے نہ پہنچایا کرو ‘‘ (الترمذی ، محل مذکور ، البخاری ، 127:4 ) ۔ اس کے برعکس آپؐ اپنے پاس بیٹھنے والوں کو ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ دوسروںکے حق میں اچھی باتیں کیا کریں۔ ایک موقع پر فرمایا : ’’ لوگوں کی میرے سامنے سفارش کرو تاکہ تم اجر پاؤ اور اللہ ا پنے نبیؐ کی زبان پر جو چاہے فیصلہ جاری کردے (البخاری ، الادب ، مسلم (البر) ، 1026:4 ، حدیث 2627 ) ۔ یہی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ تھا کہ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ میں نے اللہ سے پختہ عہد لے رکھا ہے کہ اگر (ولو بالفرض) میری زبان سے کسی کے حق میں کوئی غیر مفید دعا یا جملہ نکل بھی جائے تو اللہ تعالیٰ متعلقہ فرد کو اس کے بدلے میں رحمت ، دل کی پاکیزگی اور روز قیامت میں قربت عطا فرمادے (مسلم ، 2000:4 ، حدیث 2600 تا 2604 ) ، آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ اخلاق کی بلندی یہ نہیں کہ تم اس کے ساتھ نیکی کرو جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اور اس کے ساتھ برائی کرو جو تمہارے ساتھ برائی کرے ، بلکہ صحیح اخلاق تو یہ ہے کہ ہر شخص سے نیک سلوک کرو خواہ وہ تم سے برے طریقہ ہی سے پیش آئے یا تم سے زیادتی کرے‘‘۔ اسی بناء پر آپؐ کے نزدیک نیکی کا مفہوم حسنِ خلق ، یعنی دوسروں سے اچھا برتاؤ تھا ۔ آپؐ کا ارشاد ہے ’’ البر حسن الخلق ‘‘ (مسلم ، 1980:4 ، حدیث 2552 ) ۔ آپ نے فرمایا:’’ ا کمل المؤمنین ایماناً احسنھم خلقا ‘‘ (الترمذی : السنن : 3 ، 469 ، حدیث 1162 ، ابو داؤد 6:5 ، حدیث 4682 )۔ ایمان کی تکمیل اخلاق اور طر ز معاشرت کی تکمیل کے بغیر نہیں ہوسکتی ، فرمایا ’’ ان خیارکم احسنکم اخلاقاً ‘‘ (البخاری ، 121:4 ، کتاب 78 ، باب 39 ) ، یعنی تم میں وہی بہتر ہے جس کا اخلاق دوسروں سے اچھا ہو ۔ ایک بار آپؐ نے فرمایا کہ ’’ اچھے اخلاق والے کو اچھے اخلاق کی وجہ سے روزے دار اور قائم اللیل کا درجہ مل جاتا ہے (ابو داؤد : السنن ، 141:5 ، حدیث 4798 ) آپؐ کے نزدیک حسن خلق سے مراد چہرے کی بشاشت ، بھلائی کا پھیلانا اور لوگوں سے تکلیف دہ امور کا دور کرنا ہے (الترمذی ، 363:4 ، حدیث 20005 ) ۔
صرف یہی نہیں بلکہ آپؐ اس جذبے کو پورے انسانی معاشرے میں رواں دواں دیکھنا چاہتے تھے، ارشاد ہے : تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک دوسروں کیلئے بھی وہی پسند نہ کرنے لگو جو خود اپنے لئے پسند کرتے ہو ‘‘ (مسلم ، 67:1 ، حدیث 45 ، احمد بن حنبل : مسند ، 272:3 ) ۔ ایک موقع پر فرمایا : ایک دوسرے سے نہ تو رو گردانی اختیار کرو اور نہ ایک دوسرے کے اندرونی معاملات کی خواہ مخواہ ٹوہ لگاؤ اور اے اللہ کے بندو ! سب بھائی بھائی ہوجاؤ ‘‘ (مسلم 1985:4 ، حدیث 2563 ، البخاری 128:4 ، کتاب الادب) ۔ یہی وجہ تھی کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آپؐ کے درِ دولت سے پوری طرح مستفید ہوتے رہے۔

مسجد میں سلام کرنا
سوال :  جمعہ کے دن لوگ خطبہ سے بہت پہلے مسجد میں جمع ہوجاتے ہیں اور قرآن مجید بالخصوص سورہ الکہف ، سورۃ یسین کی تلاوت کرتے ہیں اور دوسرے حضرات اوراد و وظائف میں مشغول رہتے ہیں۔ بعض حضرات مسجد کے اندرونی حصہ میں داخل ہوکر بلند آواز سے سلام کرتے ہیں ۔ کیا اس طرح سلام کرنا شرعی لحاظ سے کیا حکم رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص سلام کردے تو کیا قرآن کی تلاوت میں مشغول افراد پر سلام کا جواب دینا ضروری ہے یا نہیں ؟
یعقوب قریشی، نانل نگر
جواب :  یہ سلام کا وقت نہیں، جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ وہ سلام نہ کرے ۔ اگر وہ سلام کردے تو بیٹھنے والوں پر اس کے سلام کا جواب دینا  ضروری نہیں۔
عالمگیری جلد 5 کتاب الکراھۃ ص : 361 میں ہے : السلام تحیۃ الزائرین ، والذین جلسوا فی المسجد للقراء ۃ والتسبیح ولانتظار الصلوۃ ما جلسوافیہ لدخول الزائرین علیھم فلیس ھذا اوان السلام فلا یسلم علیھم و لھذا قالوا لو سلم علیھم الدخول وسعھم ان لا یجیبوہ کذا فی القنیۃ۔

نجاشی کا اسلام
سوال :  روایتوں میں ہمیں ملتا ہے کہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی جب انتقال کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھی ۔ بعض کتابوں میں مجھے یہ بات ملی کہ نجاشی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
لہذا آپ سے التجا ہے کہ ملک حبش کے بادشاہ نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں ۔
حافظ ادریس انصاری، نیو ملے پلی
جواب :  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں افریقی ملک ، حبشہ  (Ethopia) پر اصحمہ بن ابجر نامی نجاشی حکومت کرتا تھا ۔ یہ وہی نیک دل حکمراں تھا جس کی سرپرستی میں 5 نبوی میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے جانے والے مسلمانوں نے نہایت امن و سکون سے وقت گزارا تھا ۔
6 ھ/ 628 ء میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نام بھی ایک والا نامہ تحریر فرمایا ، جسے حضرت عمرؓ و بن امیہ الضمری اس کے پاس لے کر گئے ۔ نجاشی نے یہ نامہ مبارک پڑھا تو اس نے فوراً اسلام قبول کرلیا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ آپ وہی نبی امی ہیں جن کا اہل کتاب انتظار کر رہے ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰؑ نے راکب الحمار (گدھے کے سوار) کے عنوان سے حضرت عیسیٰؑ کی آمد کی بشارت دی ہے ، اسی طرح راکب الجمل (اونٹ سوار) سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خوش خبری دی ہے اور مجھے آپؐ کی رسالت کا اس درجہ یقین ہے کہ عینی مشاہدے کے بعد بھی میرے یقین میں اضافہ نہ ہوگا (ابن قیم : زادالمعاد ، 3 : 690 ، الزرقانی : شرح المواھب ، 343:3 ۔ 345 )
اس کے علاوہ اس نے اپنے بیٹے کو حبشہ کے ساٹھ آدمیوں کے ہمراہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا لیکن سوء اتفاق سے ان کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی اور اس پر سوار تمام لوگ ہلاک ہوگئے۔ رجب 9 ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو نہ صرف اس کی موت کی اطلاع دی بلکہ اس پر غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی (البخاری ، کتاب الجنائز)۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جانشین کو بھی اسلام کی دعوت دی ، مگر اس کا اسلام لانا ثابت نہیں ہے۔؎

TOPPOPULARRECENT