Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / بیت المقدس میں تین روزہ جھڑپوں کے بعد سکون بحال

بیت المقدس میں تین روزہ جھڑپوں کے بعد سکون بحال

Palestinians clean the Al Aqsa mosque after clashes between Israeli police and Palestinians on the compound known to Muslims as Noble Sanctuary and to Jews as Temple Mount in Jerusalem's Old City September 15, 2015. The U.S. State Department on Monday voiced concern about violence at the compound surrounding Jerusalem's Al-Aqsa mosque, an area revered by Muslims as the Noble Sanctuary and by Jews as the Temple Mount. REUTERS/Ammar Awad

مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں غیرمسلموں کی عبادت پر امتناع لیکن حاضری کی اجازت

یروشلم ۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی مسلمانوں اور اسرائیلی فورسیس کے مابین گذشتہ تین دن سے جاری جھڑپوں کے بعد حساس شہر مقدس میں آج امن و سکون بحال ہوگیا۔ یہودی تعطیلات کے دوران اسرائیلیوں کے خلاف فلسطینی حملوں کے نتیجہ میں ایک شہری ہلاک ہوگیا تھا جس کے بعد ہیکل سلیمانی قریب مسلمانوں اور اسرائیلی فورسیس کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے تھے۔ مسجد اقصیٰ سے متصلہ علاقہ کے علاوہ احاطہ کے باب الداخلہ پر اسرائیلی فورسیس تعینات کئے گئے تھے جہاں گذشتہ تین دن سے فلسطینی مسلمان مظاہرہ کررہے تھے اور اسرائیلی فورسیس کے ساتھ متصادم ہوئے تھے۔ یہودی سال نو کی تعطیل ’روش حشنہ‘ کے موقع پر بڑے پیمانے پر جھڑپیں ہوئی تھیں۔ پولیس نے مسجد کے بہت قریب پہنچنے سے گریز کرتے ہوئے صورتحال کو مزید مشتعل ہونے سے بچا لیا اور محتاط انداز میں کارروائی کی تھی۔

یہودیوں کے 15 مزید مذہبی سیاحوں نے آج صبح کی اولین ساعتوں اس علاقہ میں پہنچ کر مذہبی رسوم ادا کئے۔ اس موقع پر احاطہ کے انتظامات کے نگران مسلم ذمہ دار اور ایک اسرائیلی آفیسر موجود تھے۔ یہ مقام مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کیلئے یکساں مقدس سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے دونوں کے درمیان کشیدگی کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہودیوں کو ہیکل سلیمانی کے احاطہ میں جانے کی اجازت دی گئی لیکن وہاں ان کی عبادت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ پولیس حالیہ 3 دن کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں داخل ہوگئی تھی تاکہ پولیس اور فوج پر سنگباری کے علاوہ آتشیں بم پھینکنے کے بعد وہاں روپوش ہونے والے احتجاجیوں کو منتشر کیا جاسکے۔ اسرائیل کی اس کارروائی پر سارے عالم عرب نے تنقید کی اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ یہ کشیدگی قابو سے باہر ہوجائے گی۔ اسرائیل ۔ فلسطین تصادم میں پرانا شہر یروشلم کا احاطہ ایک اہم اور بنیادی موضوع ہے جس کو یہودی ہیکل سلیمانی کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ مسلمان اس مقام کو ایک مقدس ترین مقام تصور کرتے ہیں اور ان کا ایقان ہیکہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام سے عرش بریں کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس مقام پر غیرمسلم سیاحوں کو ایک مقررہ وقت تک اندر جانے کی اجازت ہے اور کسی بھی غیرمسلم کو وہاں پر عبادت کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔ فلسطینیوں کی سنگباری میں ایک اسرائیلی کی موت کے بعد یروشلم میں پیدا شدہ کشیدگی کے نتیجہ میں اس ہفتہ کے دوران فلسطینی حملوں میں کئی اسرائیلی شہری اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے گذشتہ رات طلب کردہ ایک ہنگامی اجلاس میں اپنے اس عہد کا اظہار کیا تھا کہ تشدد کو کچلنے کیلئے سخت ترین اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے آج اس مقام کا معائنہ بھی کیا جہاں فلسطینیوں کی سنگباری میں ایک 64 سالہ اسرائیلی اپنی کار میں فوت ہوگیا تھا۔ نتن یاہو نے کہا کہ ’’ہم اپنی پالیسی تبدیل کررہے ہیں۔ پیدا شدہ صورتحال ناقابل قبول ہے اور ہم پولیس افسران اور سپاہیوں کو ان افراد کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ نمٹنے کے اختیارات دے رہے ہیں جو اسرائیلیوں پر سنگباری اور بم اندازی کے واقعات میں ملوث ہیں‘‘۔ نتن یاہو نے کہا کہ ’’آتشیں بم اندازی اور سنگباری کرنے والوں کے خلاف ہم اعلان جنگ کرتے ہیں اور یہ چٹان کئی پتھر پھینکنے والوں کے خلاف ایک چٹان رہے گی‘‘۔ وزیر انصاف اعیلت شاکد نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت پتھر یا بم تھامے ہوئے افراد کو ایک قاتلانہ اسلحہ تھامے ہوئے افراد سمجھا جائے گا اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT