Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / بیت المقدس

بیت المقدس

آہِ دلِ سوزاں بھی اُنہیں راس نہ آئی
وہ آکے پلٹ جاتے ہیں اکثر مرے گھر تک
بیت المقدس
عالم اسلام کا یہ المیہ ہے کہ اس کو زِچ کرنے والے طاقتور گروپس کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ جب سے امریکی صدارتی انتخاب ہوا ہے، اسرائیل کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیاں بہت جلد منظر عام پر آئیں گی، اس سے پہلے ہی مسلم دنیا میں سازشوں کو ہوا دینے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جارہا ہے۔ اب نئی سازش کے تحت بیت المقدس، فلسطین اور مشرق وسطی اصل نشانہ پر ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اپنے سفارت خانوں کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ امریکی سفارت خانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کی شرارت ڈونالڈ ٹرمپ کے ذہن کی اختراع ہے تو آنے والے دنوں میں عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو گہرا کیا جائے گا۔ اسرائیل اور امریکہ کے سفارت خانوں کی بیت المقدس منتقلی کی صدر فلسطین محمود عباس، مفتی اعظم فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب الشیخ محمد حسین نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کے علاوہ فرانس کے وزیر خارجہ ژان مارخ ایفو نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے عزائم کے خلاف انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا تو اس کے انتہائی سنگین نتائج نکلیں گے۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کی ساری امن پسند دنیا مذمت کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے ذریعہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہیں۔ عموماً عالمی سطح پر فلسطین ۔ اسرائیل کے موضوع پر غوروخوض ہوتا ہے۔ عالمی قائدین اسرائیل کی زیادتیوں کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے خلاف سخت کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔ اس طرح فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں 70 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کے لئے زور دیا گیا۔ کانفرنس ایک ایسے وقت منعقد ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گٹھ جوڑ کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن کو درہم برہم کرنے والی سازشیں رچی جارہی ہیں۔ بیت المقدس کو سفارت خانوں کی منتقلی ایک بڑی سازش ہے۔ امریکی صدر کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کو سازشی پالیسیوں سے گریز کرنا چاہئے۔ ایک بڑے ملک کے صدر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مختلف مسائل پر یکطرفہ اور جارحانہ موقف اختیار کریں۔ مشرق وسطیٰ کے بشمول ساری دنیا میں امن کے لئے اہم کردار ادا کرنا ان کا فریضہ بن گیا ہے۔ امن کے لئے ہر ملک کے درمیان راہ ہموار کرنا ضروری ہے۔ صدر فلسطین محمود عباس نے وِٹیکن کے دورہ کے موقع پر اسرائیلی و امریکی عزائم کی مخالفت کرتے ہوئے سفارت خانوں کی منتقلی کی مذمت کی۔ بلاشبہ اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے امریکی نومنتخب صدر ایک بھیانک غلطی کرنے جارہے ہیں تو اس سے امن کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ نے فلسطین کے تعلق سے اب تک جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی، اس کے برعکس ڈونالڈ ٹرمپ کا رول قابل افسوس ہوگا۔ بیت المقدس کو نشانہ بنانے کی اپنی دیرینہ سازشوں کے حصہ کے طور پر اگر اسرائیل نے اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا تو اُسے ’’سارے عالم اسلام پر حملہ ‘‘متصور کیا جائے گا۔ ساری دنیا کے مسلمانوں پر اب تک کئے جانے والے مظالم کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے بیت المقدس میں سفارت خانوں کو منتقل کیا جائے تو عالم اسلام کو ہرگز خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے۔ اسرائیل کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ وہ بیت المقدس (یروشلم) کو اپنا دارالحکومت بنائے۔ اگر اس کوشش کو کامیاب کرنے میں ڈونالڈ ٹرمپ اپنا رول ادا کرتے ہیں، تو یہ انتہائی خطرناک ہوگا۔ فلسطینی عوام کو مختلف طریقوں سے نقصان پہونچانے میں سرگرم اسرائیل اور اس کے حلیف ممالک کو ان کے عزائم میں کامیاب ہونے نہیں دیا جانا عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔ حیرانی اور افسوس اس بات پر ہے کہ عالم اسلام کے تعلق سے مغرب کی تنگ نظری اور تعصب پسندانہ پالیسیوں کا علم و تجربہ رکھنے کے باوجود دنیائے اسلام یا مسلم دنیا کا حرکت میں نہ آنا بھی ایک المیہ سے کم نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT