Saturday , October 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / بیدر میں مجلس بلدیہ کی انہدامی کارروائی کا آغاز

بیدر میں مجلس بلدیہ کی انہدامی کارروائی کا آغاز

عہدیداروں کی منتخب نمائندوں سے تلخ کلامی، صدر نشین فاطمہ انور علی کی جرأت مندی پر کمشنر رفو چکر

بیدر۔13؍مارچ۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔آج صبح بیدر میں شہر میں اندرون (بابِ داخلہ عثمانیہ ) نئی کمان میں واقع وہائٹ ہائوس نامی شاپنگ کاملیکس کومجلس بلدیہ بیدر کے کمشنر کی نگرانی میں منہدم کرنے کیلئے بلدیہ کا عملہ مع ساز و سامان جے سی پی وغیرہ کے ساتھ انہدامی کارروائی کا آغاز شروع کردیا ۔اسی طرح محلہ منیار تعلیم میں واقع ایک زیرِ تعمیر بلڈنگ کو بھی منہدم کرنے کیلئے کارروائی شروع کردی گئی۔جیسے ہی انہدامی کارروائی کی اطلاع عوام تک پہنچی ہزاروں کی تعداد میں شہریان نے مذکورہ عمارتوں کا رُخ کرنے لگے اس موقع پر نوجوان عوامی قائد جناب نبی قریشی رکن بلدیہ بیدر نے کمشنر بلدیہ سے سنجیدگی کے ساتھ اس ضمن میں بات چیت کرتے ہوئے دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن کمشنر بلدیہ نے ان کی ایک نہیں سنی اور کہا کہ سرکاری احکامات کی رو سے یہ کارروائی کی جارہی ہے۔لہذا اس معاملہ میں بات کرنا ہے تو دفتر آکر بات کریں۔اور انہدامی کارروائی کرنے والے عملہ کو بلا روک ٹوک کام کو جاری رکھنے کی بات کرتے ہوئے پولیس آفیسر سے کہا کہ اگر کوئی  ان کے  کام میں کوئی دخل دے رہا تو انھیں گرفتار کیا جائے ۔جناب نبی قریشی نے کہا کہ  مجلسِ بلدیہ عوامی کے ٹیکسس پر  منحصر ہے  جبکہ میں عوام کا منتخب نمائندہ ہوں اور عوام مجھ سے رجوع ہورہی ہے اسی لئے میں عوامی مسائل پر حق نمائندگی ادا کررہا ہوں  آفیسر کا اس طرح کا رویہ ٹھیک نہیں ہے ۔انھوں نے کمشنر  کی یہ انہدامی کاروائی کو غیر قانونی بتایا ۔ کمشنر بلدیہ بیدر نے نہایت ہی برہمی کا اِظہار کرتے ہوئے عوام اور عوامی منتخب نمائندوں سے تلخ کلامی سے پیش آئے جس پر شہریانِ بیدر نے اپنی سخت برہمی کا اِظہار کرتے ہوئے کمشنر کے تبادلہ کا مطالبہ  کرتے ہوئے نعرہ بازی کی ۔بعد ازاں صدر نشین مجلسِ بلدیہ محترمہ فاطمہ انور علی نے جہاں انہدامی کارروائی انجام دی جارہی تھی وہاں فوری پہنچ گئیں اور ا س کارروائی پر کمشنر بلدیہ پر سخت برہمی کااِظہار کرتے ہوئے جرا ء ت مندی کے ساتھ بلدی عملہ کو کام روک دینے کی ہدایت دی ۔جس پر کمشنر بلدیہ نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے وہاں سے رفو چکرہوگیا۔محترمہ فاطمہ انور علی نے منیار تعلیم پہنچ کروہاں پر انہدامی کارروائی روک دیا۔انھوں نے برہم عوام سے کہا کہ کمزور بن کر خاموشی اختیار نہ کریں ‘آپ لوگ میرا ساتھ دیں اور اپنے کاروبار بند کرکے میرے ساتھ مجلسِ بلدیہ بیدر کے دفتر آئیں ۔ہزاروں کی تعداد میں عوام نے محترمہ فاطمہ انور علی کے ہمراہ جلوس کی شکل میں سڑکوں پر امڈ پڑا اسی درمیان بیدر کے رکن اسمبلی  جناب محمد رحیم خان کو واقعہ کی اطلاع موصول ہوئی تو وہ فوری اس عوامی جلوس کے ساتھ جُڑ گئے۔جناب محمد رحیم خان رکن اسمبلی بیدر اور محترمہ فاطمہ انور علی صدر نشین بلدیہ بیدر کی قیادت میں مجلسِ بلدیہ کمشنر سے اس سلسلہ میںبات کی۔کافی دیر تک گفت و شند کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ دو دن کے بعد ایک اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے کہ اس طرح کی تعمیرات پر کس طرح کے اقدام اُٹھائے جائیں ۔رکن اسمبلی بیدر جناب محمد رحیم خان ‘محترمہ فا طمہ  انور علی صدر نشین بلدیہ اور کمشنربلدیہ بیدر نے ایک پریس کانفرنس طلب کی اور صحافیوں کو بتایا کہ مجلسِ بلدیہ بیدر کی جانب سے غیر قانونی تعمیر شدہ بلڈنگ کو نوٹس ایک نہیںدو مرتبہ دی جاچکی ہے ۔جبکہ مالکین بلڈنگ نے ایک بھی نوٹس کا جواب نہیں دیا ۔ایسی صورت میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی ہے۔جناب محمد رحیم خان نے کہا کہ ہم نے کمشنر بلدیہ بیدر سے بات کی ہے انھوں نے کہا کہ رہائشی علاقے میں شاپنگ کامپلیکس کی تعمیر غیر قانونی ہے ۔جس کی ہم منظوری نہیںدی ہے۔اگر اس طرح کی غیر قانونی تعمیر ہوتی ہے تو ہم ایسی تعمیر کومنہدم  کردیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میںکوئی مثبت حل نکالیں گے ۔محترمہ فاطمہ انور علی نے کہا کہ مذکورہ کامپلیکس کے مالکین نے مجھے پوری تفصیل نہیں بتائی اور انھوں نے مجلسِ بلدیہ کی جانب سے جاری نوٹس کا بھی مجھ سے ذکر نہیں کیا‘مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ مجلسِ بلدیہ بیدر سے نوٹس جاری کی گئی تھی جس کا جواب وہ نہیں دئیے ہیںیہ غلطی ہے ہم اس غلطی کو پہلے صحیح کرلیں اور انھوں نے کہا کہ بیدر کے رکن اسمبلی رحیم خان اور کمشنر بلدیہ اور دیگر ذمہ داران کے ساتھ ایک اجلاس طلب کرکے اس ضمن میںمثبت فیصلہ کیا جائے گا۔ کمشنر بلدیہ مسٹر ہیگڈے نے کہا کہ سب سے پہلے میں یہ بات بتادوں کہ میں نے انہدامی کارروائی کرنے سے قبل انھیںایک نہیں دو دو نوٹس جاری کئے مگر مالکین نے ان نوٹس کو نظر انداز کردیا اور کوئی جواب نہیںدیا اس کے بعد ہی میں  نے انہدامی کارروائی کے احکامات دئیے ۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات جب ہورہے تھے اُس وقت مجلسِ بلدیہ خاموش کیوں رہی ؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں نے سخت کارروائی کرتے ہوئے اس ضمن میں دو عہدیداران کو معطل کیا ہے۔ صحافیوں کے ستفسار  انھوں نے  بتایا کہ آیا دو دن منعقد ہونے والے اجلاس تک انہدامی کارروائی روک دی جائے گی تو انھوں نے جواب میں کہا کہ  یہ انہدامی کارروائی جاری رہے گی‘رُکے گی نہیں ۔ جبکہ بلڈنگ مالکین کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں مصدقہ دستاویزات ہیں ہم نے کوئی غیر قانونی تعمیر نہیں کی ہے۔ٹیکس ادائیگی اور مٹیشن ‘و دیگر دستاویزات ہمارے پاس ہیں پھر بھی اس طرح کی کارروائی ہمارے لئے  نقصان کا باعث ہے ۔ شہر کوخوبصورت بنانے اور پارکنگ کے نام پر اس طرح کی انہدامی کارروائی سے شہرکی خوبصورتی و ترقی نہیںہوگی بلکہ شہر میں بے روزگاری بڑھے گی ۔مجلسِ بلدیہ کو چاہئے کہ شہریان کو پینے کے پانی ‘  بنیادی سہولیات ‘ شہر کی صاف صفائی‘ گندی نالیوں کی نکاسی ‘سڑکوں کی تعمیر‘ جہاں بوریلس ناکارہ ہیں ان کی درستگی ‘اور آوارہ کتوں کو پکڑ نے کی مہم‘اور شہر کی بنیادی ترقی عوامی منتخب نمائندوں کی رائے لے کر انجام دینے کے بجائے یہ انہدامی کارروائیاں عوامی رسوائیاں کا باعث بنتے ہیں جس سے برسر اقتدار حکومت کا چلنا مشکل ہوجاتا ہے ۔انہدامی کارروائی کے موقع پر ایس پی بیدر کی نگرانی میں پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا جہاں عوام کی آمد و رفت کو  بند کردیا گیا تھا ۔ سرکل انسپکٹر بسویشور بھجنتری نے دونوں مقامات پر نگرانی کررہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT