Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / بیروزگاری جیسے مسئلہ نے مودی اور ٹرمپ کو اِقتدار تک پہنچایا : راہول گاندھی

بیروزگاری جیسے مسئلہ نے مودی اور ٹرمپ کو اِقتدار تک پہنچایا : راہول گاندھی

 

٭ کانگریس کے دور ِحکومت میں روزگار فراہمی میں ناکامی کا اعتراف
٭ بی جے پی کے نظریات بعض ریاستوں کیلئے ناقابل فہم
٭ ہندوستان میں روزانہ 30,000 نوجوان ملازمتوں کے منتظر
٭ پرنسٹن یونیورسٹی امریکہ میں کلیدی خطاب
پرنسٹن(امریکہ)۔ 20 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے امریکہ میں اپنے خطاب کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ 2014ء میں کانگریس کی شکست کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ پارٹی بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی لہذا مجھے یہ بات کہنے میں ذرہ برابر بھی عار نہیں کہ آج دنیا بھر میں ایسے لوگ جو بیروزگاری سے پریشان ہیں، انہوں نے شاید اپنی ایسی مایوسی اور چڑچڑے پن سے اُکتا کر نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ جیسے قائدین کو منتخب کیا ہے۔ یاد رہے کہ 47 سالہ راہول گاندھی اس وقت امریکہ کے دو ہفتہ طویل دورہ پر ہیں ۔ انہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں طلبہ کے ساتھ منعقدہ ایک مذاکرہ میں کہا کہ روزگار کسی کو بھی بااختیار بنانے کی اہم کنجی ہے اور اس کے ذریعہ ہندوستانی شہری ملک کی ترقی و تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکتے ہیں، لہذا کسی حد تک یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ اس لئے برسراقتدار آئے ہیں کہ انہوں نے ملازمتوں یا روزگار کے تعلق سے عوام کو یہ تیقن دلایا تھا کہ روزگار ہر ہندوستانی اور ہر امریکی کو فراہم کیا جائے گا۔ ہندوستان میں آج بے روزگاروں کی کمی نہیں ہے اور شاید اس کا درد انہیں بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس نوعیت کے (مودی۔ ٹرمپ) قائدین کو اپنا حکمراں منتخب کیا۔ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ بیروزگاری کو لوگ کوئی بڑا مسئلہ تصور نہیں کرتے۔ راہول گاندھی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کو نہیں جانتے لیکن ہمارے وزیراعظم مودی بھی روزگار کی فراہمی کیلئے وہ سب کچھ نہیں کررہے ہیں جو حقیقتاً انہیں کرنا چاہئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ راہول گاندھی نے یہاں ماہرین، بزنس قائدین اور کانگریسیوں سے ملاقات کے دوران بھی بیروزگاری کو بات چیت کا موضوع بنایا۔

قبل ازیں برکلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال مناسب روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ 30,000 نئے بیروزگار نوجوان ملازمتوں کے طالب بن جاتے ہیں جبکہ روزگار کی بنیاد پر حکومت صرف 500 ملازمتوں کے مواقع ہی پیدا کرسکی ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہندوستان اگر چین کے ساتھ مسابقت کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے نوجوانوں کیلئے روزگار فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وہی لوگ جنہوں نے ہم (کانگریس) پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم (کانگریس) روزانہ کی بنیاد پر 30,000 ملازمتیں فراہم نہیں کرسکتے، اب وہی لوگ مودی پر بھی غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔ مودی ہمیشہ اصل مسئلہ کی جانب سے لوگوں کی توجہ ہٹاکر کسی دوسری جانب مبذول کرنے میں ماہر ہیں۔ ہندوستان میں اس وقت بیروزگاری کی وجہ سے ناراضگی کا ماحول پایا جاتا ہے اور ہمیں اس ماحول کو خوشگوار بنانا ہے یعنی ہمیں بیروزگاری سے جن مسائل کا سامنا ہے، ان کی یکسوئی بھی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ پرنسٹن میں راہول گاندھی کے سوال و جواب کا سیشن زیادہ تر روزگار کے موضوع پر مرکوز رہا۔ انہوں نے کہا کہ عصری ٹیکنالوجی سے روزگار میں کٹوتی ہونے کے اندیشے موجود نہیں۔ 21 صدی میں لوگوں کے پاس نئے نئے ویژنس اور نظریات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر ایک کم ہوتا ہے تو پانچ دوسرے نئے اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں بھائی چارگی کا بھی فقدان ہوگیا ہے جو ملک کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ بی جے پی کے نظریات سے قبائیلی طبقہ خود کو مربوط نہیں پاتا۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان میں ایسی کئی ریاستیں ہیں جن کے گلے سے آج تک بی جے پی کا کوئی نظریہ نیچے نہیں اُترا۔ یکساں سیول کوڈ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے اور انہیں ملک کی عدلیہ پر پورا اعتماد ہے۔

TOPPOPULARRECENT