Monday , August 21 2017
Home / دنیا / بیرونی فوجیوں کو شام سے ’ تابوت ‘ میں واپس جانا ہوگا

بیرونی فوجیوں کو شام سے ’ تابوت ‘ میں واپس جانا ہوگا

ملک پر حملہ کی ہر شامی شہری پوری شدت سے مدافعت کریگا ۔ وزیر خارجہ ولید المعلم کا بیان
دمشق 6 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے آج خبردار کیا کہ سعودی عرب ہو یا کوئی دوسری بیرونی زمینی افواج ہوں اگر وہ شام میں داخل ہونگی تو انہیں لکڑی کے تابوتوں میں واپس ہونا پڑیگا ۔ انہوں نے باغی گروپس پر زور دیا کہ وہ اپنے حواس میں آئیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ باغی گروپس ملک کے شمالی علاقہ میں حکومت کی افواج کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ جاریہ ہفتے کے اوائل میں سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی زیر قیادت فوجی مہم کے حصے کے طور پر اپنی بری افواج بھی شام کو روانہ کرنے کی خواہش مند ہے تاکہ شام میں آئی ایس کے خلاف جدوجہد کی جاسکے ۔ آئی ایس کا شام اور عراق میں ایک وسیع علاقہ پر کنٹرول ہے ۔ ولید المعلم نے کہا کہ روایتی فہم اور منطق یہ تجویز کرتی ہے کہ سعودی عرب کی افواج یہاں مداخلت نہیں کرینگی لیکن سعودی عرب کی قیادت دور اندیش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شام میں کسی بھی طرح کی زمینی مداخلت ‘ شامی حکومت کی منظوری کے بغیر کی جاتی ہے

تو اسے جارحیت سمجھا جائیگا اور اس کی ہر شامی شہری مدافعت کریگا ۔ انہوں نے دمشق میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان فوجیوں کو جو شام آئیں گے لکڑی کے تابوتوں میں واپس جانا پڑے گا ۔ انہوں نے اس جملہ کو ایک گھنٹے تک چلی پریس کانفرنس میں تین مرتبہ دہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی شام پر حملہ کریگا اور زمینی افواج روانہ کریگا ان سب پر اس جملے کا اطلاق ہوتا ہے ۔ روس کی وزارت دفاع نے جمعرات کو یہ بات بتائی اور کہا کہ اس کے پاس یہ واجبی شبہ ہے کہ ترکی شام پر فوجی قبضہ کرنے کیلئے تیاریاں کر رہا ہے ۔ ترکی نے تاہم ایسے کسی منصوبے کی تردید کی ہے ۔ المعلم نے یہ تبصرہ ایک ہفتے کے بعد کیا ہے جبکہ شامی حکومت اورا پوزیشن کے مابین راست بات چیت کے جنیوا میں انعقاد کی کوششیں تاخیر کا شکار ہوگئی ہیں۔ شامی حکومت کی فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT