Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / بیرونی ممالک میں پوشیدہ ہندوستانیوں کی دولت کا کوئی اندازہ نہیں

بیرونی ممالک میں پوشیدہ ہندوستانیوں کی دولت کا کوئی اندازہ نہیں

بلیک منی کی تلاش اور تعاقب میں سرکاری اداروں کی معمولی پیشرفت
نئی دہلی ۔ 6 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کالا دھن کا پتہ چلا کر ہندوستان واپس لانے کیلئے سرکاری کوششوں کے باوجود خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی اور تحقیقاتی ادارے یہ تخمینہ لگانے کی جدوجہد میں ہے کہ کس قدر ہندوستان کی دولت چوری چوری چپکے چپکے بیرون ملک چلی گئی ہے جس کا ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہے۔ اب جبکہ پناما پیپرس نے ہندوستان کے متمول اور بااثر افراد کی ایک اور فہرست جاری کی ہے جنہوں نے اپنا کالا دھن بیرونی بینکوں میں محفوظ کروایا ہے۔ حکام نے باوثوق ذرائع سے یہ معلوم کیا ہے کہ سال 2004-03 کے دوران ہندوستان سے تقریباً 505 بلین ڈالر (33,83,500 کروڑ) منتقل کردیئے گئے ہیں، کالا دھن کے معاملہ سے نمٹنے کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے وابستہ عہدیداروں نے بتایا کہ بلیک منی کا تعاقب کرنے میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہندوستان ہنوز بہت دور ہے جہاں تک ہماری کوششوںکا تعلق ہے کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے سے قاضر ہیں۔ اسپیشل انوسٹگیشن ٹیم کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ نشاندہی کی کہ ہمیں جو بھی اطلاعات اور تفصیلات حاصل ہوتی ہیں، وہ بیرونی ذرائع سے فراہم ہوئی ہے جس کی بنیاد پر ہمیں کارروائی کرنی پڑتی ہے ۔ HSBC جنیوا ہو یا پھر Liechtenstein ہو ، خفیہ کھاتوں کی اطلاعات بیرونی ممالک سے آئی ہے۔ بلیک منی پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے  نگرانکار جسٹس ایم بی شاہ نے بتایا کہ اس مسئلہ پر بہت کچھ کام کیا گیا ہے لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔

انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ درآمدات اور برآمدات کی سہولیات کے بیجا استعمال پر کنٹرول کیلئے نئی تحدیدات عائد کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلیک منی اینڈ امپوزیشن آف ٹیکس ایکٹ 2015 پر سختی کے ساتھ عمل آوری کے بہترین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے حکومت ہند بلیک منی کی بازیابی کیلئے ممکنہ کوشش میں ہے، حتیٰ کہ بلیک منی کے رضاکارانہ اعلان کیلئے مواقع اور ترغیبات  بھی دیجارہی ہے ۔ اس طرح کی اسکیم پہلی مرتبہ 1951 ء میں شروع کی گئی تھی جس کے باعث محاصل کی شکل میں 10.89 کروڑ روپئے وصول ہوئے تھے ۔ سال 2014 ء میں مودی حکومت اقتدار میں آنے تک مزید اسکیمات روشناس کروائی گئی تھیں۔ 1997 ء میں شروع کی گئی ذرائع آمدنی کی رضاکارانہ انکشاف کی اسکیم سب سے زیادہ کامیاب رہی جس سے 9,745 کروڑ روپئے کے محاصل وصول ہوئے۔ تاہم مودی حکومت کا سب سے پہلا اور اہم اعلان  بلیک منی پر اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم کا قیام تھا جبکہ بلیک منی ایکٹ کے تحت جولائی ۔ستمبر 2015 ء کے دوران تین ماہ کی مہلت بھی دی گئی تھی اور اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے جملہ 644 رضاکارانہ انکشاف کے معاملت پیش کئے جس میں 4,164 کروڑ کے بیرونی اثاثہ جات کا انکشاف کیا گیا اور 446 کروڑ روپئے ٹیکس بطور جرمانہ وصول کئے گئے۔ سرکاری حکام نے یہ اعتراف کیا کہ ٹیکس اور جرمانہ کی شکل میں ادا شدہ رقم معمولی سی ہے کیونکہ بلیک منی رکھنے والے بڑے بڑے اژدہے ہنوز بلوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ گو کہ مختلف ایجنسیاں اور SIT بلیک منی کا پتہ چلانے کی جان توڑ کوشش میں ہے لیکن یہ واضح اندازہ نہیں لگایا جاسکا کہ ہندوستان کی کتنی دولت بیرونی ممالک میں پوشیدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT