Sunday , April 23 2017
Home / ہندوستان / بیرونی ممالک پر ہندوستانیوں پر حملے‘صورتحال ابتر نہیں

بیرونی ممالک پر ہندوستانیوں پر حملے‘صورتحال ابتر نہیں

صرف میڈیا ہوا کھڑا کر رہا ہے آر ایس ایس ‘ امریکہ کی حمایت میں اتر آئی
کوچی 14 مارچ ( سیاست ڈآٹ کام ) آر ایس ایس کے ایک کارکن نے ‘ جو سنگھ کے بیرونی ممالک کے امور کے ذمہ دار ہیں ‘ بیرونی ممالک میں ہندوستانیوں پر یکا دوکا حملوں کا ہوا کھڑا کرنے کیلئے میڈیا کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں کو عمومی صورتحال نہیں بنایا جانا چاہئے ۔ ار ایس ایس کے وشوا وبھاگ کے کو آرڈینیٹر سدانند ساپرے نے تاہم بیرونی سرزمین پر ہندوستانیوں پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے واقعات کو روکا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے صورتحال کو اچھالا جا رہا ہے ۔ جی ہاں ۔ اس طرح کے کچھ واعات ہیں جہاں ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے ۔ یہ میڈیا کی فطرت ہے ۔ امریکہ میں ہندوستانیوں پر ہوئے حالیہ حملوں سے متعلق سوال پر مسٹر ساپرے نے کہا کہ اس صورتحال کو عمومی صورتحال کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہئے ۔ یوگانڈا میں 1960 کی دہائی میں ہندوستانیوں پر ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی شہری کو ایدھی امین کے دور میں یوگانڈا میں نشانہ بنایا گیا تھا  ان پر حملے کئے گئے تھے اور ملک سے باہر کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایسا امریکہ میں ہو رہا ہے ؟ ۔ کیا ایسا آسٹریلیا میں ہو رہا ہے ؟ ۔ انہو ںنے کہا کہ ہمیں ہر بات کو ایک طرز میں ڈھالنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ایسے کئی امریکی شہری ہیں جو ہندوستانیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مسٹر ساپرے نے یہ ریمارکس امریکہ میں ہندوستانی شہریوں پر ہو رہے حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں کئے ۔ وہ یہاں ایک تقریب میں حصہ لے رہے تھے ۔ کچھ سال قبل آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں ہندوستانیوں پر ہوئے حملوں کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات میں غلطی ہندوستانی شہریوں کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ تمام ہندوستانیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے وہاں کچھ افراد سے بات چیت کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ایسی نہیں ہے ۔ تمام ہندوستانیوں کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے ۔ اصل میں میڈیا کو ہر چیز کا ہوا کھڑا کرنے کی عادت ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ یکا دوکا پیش آنے والے واقعتا ہیں اور ہر جگہ ہوتے ہیں۔ خود ہندوستان میں بھی ایسے وقاعات پیش آتے ہیں۔ انہوں نے ممبئی میں بہار سے تعلق رکھنے والے افراد پر ہوئے حملوں کا حوالہ دیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT