Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بیرون ممالک برسر روزگار افراد کے ناگوار حرکات، نکاح کے بعد لڑکیوں کو چھوڑنے کے واقعات

بیرون ممالک برسر روزگار افراد کے ناگوار حرکات، نکاح کے بعد لڑکیوں کو چھوڑنے کے واقعات

عوام میں تشویش کی لہر، انسداد واقعات پر اقلیتی کمیشن تلنگانہ و اے پی کے اقدامات
حیدرآباد 15 مئی (سیاست نیوز) غیر مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے نکاح کے بعد لڑکیوں کو شہر میں چھوڑ کر فرار اختیار کرنے کے واقعات میں ہورہے اضافہ کو روکنے کے لئے ریاست اقلیتی کمیشن آندھراپردیش و تلنگانہ نے فوری اقدامات کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں امریکہ، آسٹریلیا، خلیجی ممالک کے علاوہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی جانب سے کی گئی ایسی حرکات کے سبب عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ چونکہ آئے دن یہ واقعات سننے و دیکھنے میں آرہے ہیں کہ نوجوان کچھ وقفہ کے لئے شہر کا رُخ کررہے ہیں اور اِس دوران دھوم دھام سے شادی کی جارہی ہے لیکن چند ماہ بعد یہ نوجوان روزگار کے سلسلہ میں اُن ممالک کو روانہ ہوجاتے ہیں جہاں وہ ملازمت کررہے ہیں اور اُن مقامات پر لڑکیوں کو طلاق کی دھمکی دینے لگتے ہیں یا پھر اُنھیں طلاق دے دیا جاتا ہے بیرون ملک میں ہونے کی وجہ سے لڑکوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور لڑکیاں بے یار و مددگار تکالیف کا سامنا کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اکثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ بیرون ملک خدمات انجام دینے والے نوجوان شادی کے بعد اخراجات کی ادائیگی میں کوتاہی کے ذریعہ ہراسانی کا سلسلہ شروع کرتے ہیں اور جب مسئلہ شدت اختیار کرجاتا ہے تو بیرون ملک سے ہی علیحدگی اختیار کرنے کا پروانہ جاری کردیا جاتا ہے جوکہ لڑکی کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور صدمہ کا باعث ہوتا ہے۔ صدرنشین ریاستی اقلیتی کمیشن جناب عابد رسول خاں نے دو علیحدہ واقعات میں وزارت اُمور خارجہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اِس طرح کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کو ملک واپس لانے کے اقدامات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اُنھوں نے گزشتہ یوم جاری کردہ ایک صحافتی اعلامیہ میں بتایا کہ اُن سے حیدرآباد کے علاوہ ضلع کریم نگر سے تعلق رکھنے والی دو علیحدہ خواتین رجوع ہوئی ہیں جنھوں نے اِس طرح کے واقعات کی شکایات کرتے ہوئے اپنے شوہروں پر الزام عائد کیا ہے کہ اِن لوگوں نے اُنھیں جسمانی اور ذہنی اذیت دینے کے علاوہ شہر میں تنہا چھوڑتے ہوئے بیرون ملک روانہ ہوگئے اور اخراجات کی ادائیگی سے بھی گریز کررہے ہیں۔ جناب عابد رسول خاں نے بتایا کہ اِس طرح کے واقعات اقلیتوں کے حق میں بہتر نہیں ہیں اور یہ واقعات معاشرتی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اِسی لئے انھیں فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے۔ کمیشن کی جانب سے وزارت خارجہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اِن واقعات میں مداخلت کرتے ہوئے شکایت کنندگان کو راحت پہنچانے کے علاوہ خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے کی خواہش کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT