Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / بیرون ممالک غیرمحسوب دولت مہنگی ثابت ہوگی : ارون جیٹلی

بیرون ممالک غیرمحسوب دولت مہنگی ثابت ہوگی : ارون جیٹلی

حکومت کی اسکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں کو انتباہ، کالادھن مخفی رکھنا مشکل، وزیرفینانس کا خطاب

نئی دہلی ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے بعض شہریوں کے پاس غیرمحسوب دولت ہونے اور ٹیکس سے محفوظ مقامات پر انہیں رکھے جانے کی اطلاعات کے دوران وزیرفینانس ارون جیٹلی نے خبردار کیا ہیکہ غیرقانونی اثاثہ جات کو باقاعدہ بنانے گذشتہ سال متعارف کردہ سنگل ونڈو سے استفادہ نہ کرنے والوں کو یہ غلط مہم جوئی انتہائی مہنگی ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ملک غیرمحسوب دولت کی لعنت سے نمٹنے کیلئے 2017ء سے عالمی پیمانہ پر قوانین کا اطلاق ہوگا۔ اس کے بعد انفرادی طور پر کسی کیلئے اپنی دولت چھپائے رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ صنعتی ادارہ سی آئی آئی کے سالانہ سشن سے خطاب کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے بتایا کہ جی 20 کی پہل ، FATCA اور باہمی معاملتوں پر 2017ء سے عمل ہوگا۔ دنیا ایک شفاف ادارہ میں تبدیل ہونے جارہی ہے اور ان حالات میں غلط مہم جوئی میں ملوث رہنے والوں کیلئے یہ انتہائی مہنگی ثابت ہوگی۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک اخبار نے پنامالافرم موساک فونیسکا کے افشا ہوئے دستاویزات کی بنیاد پر یہ اطلاع دی کہ 500 سے زائد ہندوستانی بشمول چند مقبول و معروف نام اس فہرست میں شامل ہیں جن کا ٹیکس سے بچنے کیلئے اس فرم کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ جیٹلی نے کہاکہ گذشتہ سال غیرمحسوب اثاثہ جات کے انکشاف کیلئے حکومت نے جو سنگل ونڈو پالیسی متعارف کی، اس سے استفادہ نہ کرنے والوں کو عنقریب اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا۔ اس اسکیم سے بعض نے اس سے استفادہ کیا ہے لیکن چند نے نہیں کیا۔ 2015ء کے بجٹ میں انہوں نے بیرون ملک غیرقانونی اثاثہ جات رکھنے والوں کیلئے سخت تعزیری قانون کا اعلان کیا تھا۔ آج میڈیا میں انہوں نے بعض اطلاعات دیکھی ہیں جو نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا پر اثرانداز ہونے والی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہم سب کیلئے ایک سخت یاد دہانی ہے۔ گذشتہ سال حکومت نے 90 دن کیلئے سنگل ونڈو پالیسی کا اعلان کیا تھا اور حکومت کو جملہ 4,147 کروڑ روپئے کے غیرمعلنہ بیرونی ملک دولت کی تفصیلات معلوم ہوئی تھی۔ ایسے لوگ جو اس معاملہ میں بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں انہیں 30 فیصد ٹیکس اور 30 فیصد جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے جاریہ سال بجٹ میں اندرون ملک کالادھن رکھنے والوں کو اثاثہ جات کے انکشاف کی حوصلہ افزائی کیلئے پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس کا جون میں آغاز ہوگا اور انہیں جملہ رقم کا 45 فیصد ٹیکس و جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ صنعت کی اصل پہچان تجارتی صلاحیت اور ساتھ ہی اس کی مؤثر کارکردگی ہے۔
ٹیکس نادہندگان کے خلاف مثبت طرزعمل
قرضوں کی دانستہ طور پر عدم ادائیگی کے بڑھتے واقعات بشمول شراب کے تاجر وجئے ملیا کے حوالے سے وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ صنعتیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی لڑائی میں مصروف ہیں اور اسے قرضہ جات کی عدم ادائیگی یا دانستہ گریز جیسے واقعات میں مثبت و اخلاقی طرزعمل اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے وجئے ملیا کا نام لئے بغیر جنہوں نے 9000 کروڑ روپئے کا قرض ادا نہ کیا اور تحقیقاتی ایجنسیوں و قرض دہندگان کی کارروائی سے بچنے کیلئے برطانیہ چلے گئے، کہا کہ صنعتیں پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں اور ایسے واقعات نے ان مشکلات میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ جب حالات پلٹ سکتے ہیں تو قرض ادا نہ کرنے والوں کا موقف بھی تبدیل ہوسکتا ہے لہٰذا صنعتی لیڈرس کو ہمیشہ مثبت اور اخلاقی طرزعمل اختیار کرنا ہوگا کیونکہ ان کی یہی روش فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اس وقت 7,686 دانستہ طور پر قرض نادہندہ ہیں جو پبلک سکٹر بینکوں کو 66,190 کروڑ روپئے ادا شدنی ہیں۔ ان میں 6,816 مقدمات درج کئے ہیں اور 1669 مقدمات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT