Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بیرون ممالک ہندوستانی کرنسی منتقل کرنے کے عمل پر کڑی نظر

بیرون ممالک ہندوستانی کرنسی منتقل کرنے کے عمل پر کڑی نظر

فیما کے تحت سالانہ 2.5 لاکھ ڈالر رقم منتقل کرنے کی گنجائش
حیدرآباد۔6۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت ہند کی جانب سے ترسیل زر کی حد میں کیا گیا اضافہ غیر محسوب رقومات کی بیرون ملک منتقلی میں انتہائی مددگار ثابت ہوا ہے لیکن 8نومبر کو کرنسی کی تنسیخ کے بعد کی گئی ترسیل کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کس نے کس کے کھاتہ میں کتنی رقومات منتقل کی ہیں اور کھاتہ رکھنے والے کی منتقل کرنے والے کی کیا رشتہ داری ہے۔ حکومت ہند نے ترسیل زر کی جو حد مقرر کی ہے اس کیمطابق سالانہ ایک شخص اپنے بیرون ملک رہنے والے رشتہ دار کو 2لاکھ50ہزار ڈالر روانہ کرسکتا ہے اور اس کیلئے اسے کوئی جوابدہ ہونا نہیں پڑے گا۔ حکومت ہند اور ریزرو بینک آف انڈیا نے مئی 2015 میں شروع کردہ اسکیم کے ذریعہ 2.5لاکھ ڈالر تک کی رقومات کی بیرون ملک منتقلی کی گنجائش فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا جو کہ بیرون ملک سیر و تفریح‘ علاج و معالجہ ‘تعلیم‘ عطیات‘ جائیداد کی خریدی‘تحفہ یا پھر بیرون ملک موجود رشتہ داروں کو ادا کرنے کیلئے بھیجی یا لیجائی جا سکتی تھیں۔ حکومت نے FEMA(فارن ایکسچینج منیجمنٹ ایکٹ) میں معمولی ترمیم کے ذریعہ جو مراعات فراہم کی تھیں اس کے ذریعہ کافی دولت ملک سے باہر قانونی طور پر منتقل ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے دی گئی اس چھوٹ کے مطابق ڈھائی لاکھ ڈالر یعنی 1کروڑ 69لاکھ45ہزار ہندستانی روپئے منتقل کرنے کی گنجائش موجود ہے اور یہ رقومات بیرون ملک رہنے والے رشتہ داروں کو روانہ کی جا سکتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران ترسیل زر میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کئی ہندستانیوں نے اس اسکیم کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرون ملک تعلیم و دیگر مقاصد کیلئے کروڑہا روپئے روانہ کئے ہیں۔ سال گذشتہ ترسیل زر کی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں نے 1.6بلین امریکی ڈالر ہندستان سے دیگر ممالک کو منتقل کئے تھے لیکن اس اسکیم کے روشناس کروائے جانے کے بعد ترسیل زر کی اسکیم سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے بیرون ملک رقومات کی جائز منتقلی 4.6بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور نوٹوں کی تنسیخ کے فوری بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھی کئی لوگوں نے اپنے عام غیر مقیم ہندستانیوں کے کھاتوں کا بھی بھرپور استعمال کرتے ہوئے ان کھاتوں کے ذریعہ غیر محسوب رقومات کو منتقل کرنے کے لئے استعمال کیا لیکن ان رقومات کو اب غیر محسوب تصور نہیں کیا جاسکے گا کیونکہ جو رقومات غیر محسوب ہوتی ہیں ان کی منتقلی بینک کے ذریعہ ممکن نہںے ہوپاتی کیونکہ بینک کے ذریعہ ان رقومات کا مکمل حساب حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے جو رقمی منتقلی کی اجازت ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان رقومات کو بیرون ملک منتقل کرنے میں تو کوئی دشواری نہیں ہے لیکن ان رقومات کو واپس ملک لانے کیلئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر جن کے کھاتہ میں یہ رقومات منتقل کی گئی ہیں اور وہی ان رقومات کی واپسی کو یقینی بناتا ہے تو اس صورت میں یہ محسوب آمدنی میں شمار کیا جاسکتا ہے اور ایسا جاسی صورت میں ممکن ہے جب غیر مقیم ہندستانی شہری اس سلسلہ میں اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے رقومات کی واپسی کا عمل شروع کریں۔ تعلیم کے لئے ہندستان سے روانہ کئے جانے والے اخراجات کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن طلبہ کے کھاتوں میں روانہ کردہ یہ رقومات ایک مدت کے بعد ان کی کمائی کے طور پر واپس حاصل کی جا سکتی ہیںاور ایسی صورت میں انہے ںغیر مقیم ہندستانی ہونے کی حیثیت سے فوائد بھی حاصل ہونے لگیں گے ۔ ان امور پر غور کرنے کے بعد کئی لوگوں نے حالیہ عرصہ میں بھاری رقومات کی منتقلی کو یقینی بناتے ہوئے محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے جو بعد ازاں ان کے پاس واپس پہنچنے کی گنجائش ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے حوالہ کے ذریعہ کی جانی والی ترسیل زر پر سخت کنٹرول کیا جاتا ہے تو بھی اس ترسیل و منتقلی پر کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT