Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بیف ایکسپورٹ پر اجارہ داری کیلئے کمپنیوں میں رسہ کشی لیکن نشانہ پر مسلمان

بیف ایکسپورٹ پر اجارہ داری کیلئے کمپنیوں میں رسہ کشی لیکن نشانہ پر مسلمان

40 بڑے ایکسپورٹرس کی اکثریت غیر مسلم،اُتر پردیش میں 35لاکھ ہندو کاروبار سے وابستہ،گاؤ رکھشکوں کی مہم کے پسِ پردہ حقائق منظر عام پر

حیدرآباد۔/8اپریل، ( سیاست نیوز) بیف کے مسئلہ پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے شدت اختیار کرنے پر بظاہر سنگھ پریوار کی جانب سے بڑے جانور کے تقدس کا اظہار دکھائی دے رہا ہے لیکن اس کے پسِ پردہ ملک سے بیف کی برآمدات پر اجارہ داری کیلئے بڑی کمپنیوں کے درمیان جاری رسہ کشی کی اطلاعات ملی ہیں۔ اگرچہ 2014 میں نریندر مودی حکومت کے قیام کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں بیف کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ گاؤ رکھشک بڑے جانور کی تقدیس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے کاٹنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نریندر مودی حکومت سے قربت رکھنے والے بیف کے بڑے ایکسپورٹرس چاہتے ہیں کہ دیگر کمپنیوں کے مقابلے اس کاروبار پر ان کی اجارہ داری قائم ہوجائے۔ چونکہ ان بڑے ایکسپورٹرس کو بی جے پی کی سرپرستی حاصل ہے لہذا ان علاقوں میں جہاں چھوٹے ایکسپورٹرس کا کاروبار ہے وہیں پر بیف کے خلاف مہم میں شدت دیکھی جارہی ہے۔ اُتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے قیام کے ساتھ ہی غیر قانونی مسالخ کے نام پر جس طرح کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اس کے پس پردہ بڑے ایکسپورٹرس کی سازش کارفرما بتائی جاتی ہے۔ بیف کے تمام بڑے ایکسپورٹرس کا تعلق جین، اگروال اور برہمن طبقات سے ہے جن کے پاس گوشت کے استعمال پر سخت پابندی ہے لیکن کاروبار کے معاملہ میں وہ گوشت کی برآمدات کے ذریعہ کروڑہا روپئے کا کاروبار کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے نامور بیف ایکسپورٹرس کا بی جے پی سے قریبی ربط ہے۔ یہ کمپنیاں عوام کو گمراہ کرتے ہوئے مسلم اور عربی ناموں کے ساتھ اپنے کاروبار چلارہی ہیں تاکہ بیرونی ممالک میں یہ تاثر قائم ہو کہ ان اداروں سے حاصل ہونے والا گوشت حلال ہے۔ اس طرح مسلم اور عربی ناموںکا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہندوستان کے 4 بڑے بیف ایکسپورٹرس میں الکبیر ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے مالکین ستیش سبھروال اور اتول سبھروال بتائے جاتے ہیں، کمپنی کا ہیڈ آفس ممبئی میں ہے۔ دوسری کمپنی عریبین ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ ہے جس کے مالک سنیل کپور ہیں جو ممبئی سے کاروبار چلاتی ہے۔ تیسری ایکسپورٹ کمپنی ایم کے آر فروزن فوڈ ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ ہے جس کے مالک مدن ہیں۔ چوتھی کمپنی چندی گڑھ کی پی ایم ایل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹیڈ ہے جس کے مالک اے ایس بندرا بتائے گئے ہیں۔ بیف ایکسپورٹ کے بارے میں کئی حیرت انگیز اور دلچسپ انکشافات منظرِ عام پر آئے۔ صرف اُتر پردیش میں بیف، چکن اور مٹن کی تجارت سے 50 لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے اُن میں 35 لاکھ غیر مسلم ہیں جبکہ 15 لاکھ مسلمان ہیں۔ ملک کے بڑے ایکسپورٹرس میں 40 سے زائد غیر مسلم کمپنیاں ہیں جو عربی ناموں سے اپنے ادارے قائم کرتے ہوئے خلیجی ممالک کو بیف کی برآمد کررہے ہیں۔ بی جے پی جو اُتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں بیف پر پابندی کی مہم چلارہی ہے لیکن گوا، میگھالیہ، کیرالا، میزورم اور ناگالینڈ میں وہ بیف سربراہی کے حق میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اُتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ نے غیر قانونی مسالخ کے خلاف جو مہم شروع کی ہے اس سے گاؤ رکھشا کا تعلق بہت کم ہے جبکہ بیف کی تجارت کرنے والے بڑے ایکسپورٹ ہاؤز اور کمپنیوں کی ایماء پر اس کارروائی کا آغاز کیا گیا تاکہ بیف کی برآمدات پر اپنا تسلط قائم ہوجائے۔ ایک اندازہ کے مطابق سالانہ 50,000 کروڑ کا بیف ایکسپورٹ کا کاروبار ہورہا ہے۔ غیر قانونی سلاٹرس کے نام پر چھوٹے اور متوسط تاجروں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑی کمپنیاں انھیں اپنے قابو میں کرنا چاہتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے سنگھ پریوار اور گاؤ رکھشکوں کا استعمال کرنا بی جے پی کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ صورتحال کو کشیدہ بناکر مسلمانوں کو گائے کے دشمن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ایک طرف اس معاملہ کو ہندو۔ مسلم تنازعہ سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن کاروبار سے وابستہ افراد کی تعداد کو دیکھیں تو جانور کی فروخت سے لیکر گوشت کی برآمدات تک مختلف زمروں میں کام کرنے والے افراد کی اکثریت غیر مسلم ہے۔ کیا یوگی حکومت 35لاکھ سے زائد غیر مسلموں کو روزگار سے محروم کرنے کیلئے تیار ہوگی۔ ماہرین کے مطابق جب بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری اس کاروبار پر قائم ہوجائے گی تو کسی نہ کسی نہ بہانے کارروائیوں کو روک دیا جائے گا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ آپسی تجارتی رقابت اور حکومت کی سرپرستی میں زائد فائدہ حاصل کرنا بھی اس مہم کا اہم مقصد ہے۔ سڑک کے راستے ایک یا دو بڑے جانور کو دودھ کے حصول کیلئے بھی اگر مسلمان منتقل کریں تو انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن کسی نے آج تک بڑی کمپنیوں اور ان کے سلاٹر ہاوزس پر احتجاج یا دھاوا نہیں کیا جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں بڑے جانور آٹو میٹک مشینوں کے ذریعہ ذبح کئے جاتے ہیں اور گوشت کو بھاری قیمت پر خلیجی اور دیگر ممالک کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ گاؤ رکھشکوں کو اگر حقیقی معنوں میں بڑے جانور کے تقدس کا خیال ہو تو انھیں چاہیئے کہ پہلے ایکسپورٹ کمپنیوں اور ان کے آٹو میٹک سلاٹر ہاؤزس کا رُخ کریں۔ان حقائق سے یہ ثابت ہوگیا کہ بیف کے کاروبار کا معاملہ ہو یا ایکسپورٹ کا حتیٰ کہ بیف کے استعمال ان تینوں معاملات میں بھی مسلمانوں سے زیادہ دیگر طبقات وابستہ ہیں۔ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں جس انداز سے مسلمانوں کے خلاف بیف کے نام پر مہم چلارہی ہیں اس سے مقابلہ کیلئے مسلمانوں کو ان حقائق کو پیش کرنا ہوگا جن سے خود فرقہ پرست طاقتیں بے نقاب ہوجائیں گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT