Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / بیف تنازعہ: غلطی کا اعتراف نہ کرنے پر قانونی کارروائی

بیف تنازعہ: غلطی کا اعتراف نہ کرنے پر قانونی کارروائی

مرکز۔ ریاست تعلقات بھی متاثر ہوں گے، دہلی پولیس نے کیرالا بھون پر کسی کو خوش کرنے کیلئے دھاوا کیا: اومین چنڈی
تھرواننتاپورم۔28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)کیرالا میں کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف حکومت نے خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی میں واقع کیرالا ہائوز میں ’’بیف‘‘ کی سربراہی کی شکایت پر پولیس نے جو دھاوا کیا اگر وہ اس غلطی کا اعتراف نہ کرے تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکز و ریاست کے مابین تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ ریاستی کابینہ نے آج منعقدہ اجلاس میں کیرالا ہائوز واقع نئی دہلی پر پولیس دھاوے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر مرکز دہلی پولیس کی دی گئی وضاحت پر ہی انحصار کرے تو پھر قانونی کارروائی شروع کی جائیگی۔ چیف منسٹر اومین چنڈی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے اس رویہ کی صورت میں ریاست کے ساتھ روابط بھی متاثر ہوں گے۔ دہلی پولیس کا یہ موقف ہے کہ اس نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے قانون کے مطابق صرف معائنہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یہ دھاوا گیسٹ ہائوز میں ریاستی عہدیداروں کی اجازت کے بغیر کیا گیا اور پولیس نے اپنے تمام حدود سے تجاوز کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکز و ریاست کے مابین روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دھاوے کے بارے میں دہلی پولیس کا موقف کسی صورت ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔ ہمیں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اس مسئلہ پر روانہ کئے گئے مکتوب کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز کا یہ جواب ریاستی حکومت کے موقف سے ٹکراتا ہے اور مرکز اس معاملہ میں دہلی پولیس کی تائید کرتا ہے تو پھر قانونی کارروائی یقینی بنائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں گائے کے گوشت پر امتناع ہے اور کیرالا ہائوز میں یہ گوشت سربراہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس بھینس کا گوشت جس پر امتناع نہیں ہے وہ آج سے کیرالا ہائوز میں سربراہ کیا جارہا ہے اور اس معاملہ میں کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں کی جائیگی۔ اومین چنڈی نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مسئلہ پر کیرالا کے موقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھاوا ’’کسی کو خوش کرنے کی دانستہ کوشش‘‘ تھی اور اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ عوام کے ذہنوں میں خوف پیدا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے شکایت کرنے والوں کو اس قدر اہمیت دے دی کہ ان کی شکایت کس حد تک درست ہے اس پر غور کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ وہ شکایت ملتے ہی فوری کیرالا ہائوز پہنچ گئی۔ دہلی پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے اومین چنڈی نے کہا اس واقعہ سے ہندوستان کے وفاقی نظام پر اثر پڑا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر اس غلطی کا اعتراف کرلیا جائے تو کیرالا اپنے موقف میں نرمی لانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے ملک میں گائے ذبیحہ پر امتناع کی ضرورت کے بارے میں تبصرے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اس تنازعہ میں الجھنا نہیں چاہتے اور کیرالا میں بھی گائو ذبیحہ پر امتناع عائد ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس تنازعہ کا آئندہ ماہ بلدی انتخابات پر کوئی سیاسی اثر پڑے گا، چنڈی نے کہا کہ کیرالا کے عوام ہر پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں کسی بھی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 26 اکٹوبر کو دہلی پولیس نے کیرالا ہائوز میں بیف سربراہ کرنے کی شکایت پر وہاں دھاوا کیا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا اور مختلف گوشوں سے اس واقعہ کی مذمت کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT