Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / بیف تنازعہ پر قتل کا واقعہ ۔ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کا نتیجہ

بیف تنازعہ پر قتل کا واقعہ ۔ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کا نتیجہ

سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا الزام۔ یہ ایک اتفاقی واقعہ تصور کیا جائے، مرکزی وزیر مہیش شرما کا اصرار
دادری؍ نئی دہلی ۔ یکم اکٹوبر، (سیاست ڈاٹ کام ) اب جبکہ ذبیحہ گاؤ اورگوشت کے استعمال کی افواہ پر ایک 50سالہ شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دینے کے بعد کشیدہ حالات کے دوران مرکزی وزیر مہیش شرما نے آج اس واقعہ کو اتفاقی قرار دیا ہے۔ دوسری طرف فرقہ وارانہ نوعیت کے اس واقعہ پر بی جے پی اور حکمران سماجوادی پارٹی کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اُتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں واقع اس گاؤں میں پولیس کی بھاری جمعیت متین کردی گئی ہے اس کے باوجود متوفی اخلاق کے افراد خاندان دوسرے مقام پر منتقلی کی تیاری میں ہیں کیونکہ انہیں مزید حملوں کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ پیر کی شب یہ افواہ پھیل گئی کہ ایک مسلم خاندان نے ذبیحہ گاؤ کے بعد اس کا گوشت استعمال کیا ہے۔ تقریباً 200افراد پر مشتمل ہجوم نے 50سالہ اخلاق کو مار مار کر ہلاک اور ان کے 22سالہ فرزند دانش کو زخمی کردیا تھا۔ مرکزی وزیر شرما جو کہ اس علاقہ کے رکن پارلیمنٹ ہیں ‘ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کو اتفاقی تصور کیا جانا چاہیئے اور فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے خیال میں یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور اس واقعہ کیلئے جو بھی ذمہ دار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تاہم حکمران سماجوادی پارٹی نے اخلاق کی ہلاکت کیلئے بی جے پی کو مورد الزام ٹہرایا اور کہا کہ 2017 میں اُتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فرقہ وارانہ صف بندی کیلئے منظم طریقہ پر تشدد بھڑکارہی ہے۔

ریاستی وزیر جناب محمد اعظم خاں نے بتایا کہ مظفر نگر تشدد کے بعد اتر پردیش میں بی جے پی منظم طریقہ سے فسادات برپا کررہی ہے تاکہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ سماجوادی پارٹی لیڈر کے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ریاست میں جنگل راج کیلئے حکومت اُتر پردیش ذمہ دار ہے۔ اور حکومت اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے پیشہ ور مجرموں اور مافیا کی سرپرستی کررہی ہے جس کے باعث ریاست میں مکمل نراجیت حاوی ہوگئی ہے۔ دریں اثناء کانگریس نے بھی اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ انتخابی مفادات کیلئے اُتر پردیش کو فرقہ وارانہ فسادات کی تجربہ گاہ بنادیا ہے تاکہ پارٹی کے ووٹ بینک میں اضافہ کیا جاسکے۔ اگرچیکہ وزیر اعظم مسلسل ترقی کے بارے میں چرچے کررہے ہیں لیکن بی جے پی اپنا حقیقی چہرہ ظاہر کرتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت پھیلارہی ہے۔ کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر آر پی این سنگھ نے عوام سے اپیل کی کہ بی جے پی کے گھناؤنے عزائم سے چوکس رہیں۔ جبکہ متوفی اخلاق کے فرزند سرتاج جو کہ انڈین ایر فورس میں برسر خدمت ہیں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے والد کے قتل کے سلسلہ میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے میں ان سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرے والد کا قصور کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں ماردیا گیا۔خاطیوں کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی حرکت کی جرأت نہ کرسکے۔ سرتاج نے بتایا کہ ان کا خاندان نقل مکانی کیلئے مجبور ہوگیا ہے کیونکہ کسی بھی وقت پر دوبارہ حملہ کیا جاسکتا ہے۔ متوفی اخلاق کی اہلیہ نے مذکورہ واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ ایک مسلم شخص کو ماردینے کے واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ اس واقعہ کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس کے قانون شکن اور مجرم عناصر سے زیادہ اکھلیش یادو حکومت ذمہ دار ہے کیونکہ نہ صرف دادری گاوں بلکہ دوسرے مقامات پر عوام کشیدہ حالات سے باہر نہیں آسکے جہاں پر ریاستی حکومت نے اشرار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی عام آدمی پارٹی لیڈر اشوتوش نے یہ ادعا کیا کہ پولیس تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے پس پردہ بی جے پی کار فرما ہے اور یہ مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر سے مسٹر شرما کو ہٹادیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT