Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بیف فیسٹول‘ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کے گروپوں میں کشیدگی

بیف فیسٹول‘ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کے گروپوں میں کشیدگی

طلبہ کی دوڑ کو روکنے پولیس مداخلت ‘ کیمپس میں چوکسی‘احتیاطی گرفتاریاں‘گائے کی پوجا کرنے راجہ سنگھ کی دھمکی
حیدرآباد۔ 7 ڈسمبر (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں بیف فیسٹیول کے انعقاد کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے اور پولیس نے آج اس پروگرام کو روکنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت آج طلباء کی احتیاطی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید طلباء تنظیموں کے کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی تاکہ بیف فیسٹیول کے انعقاد کو ناکام بنایا جاسکے۔ بیف فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے تشہیر  کیلئے عثمانیہ یونیورسٹی طلباء تنظیموں نے یونیورسٹی آرٹس کالج تا آندھرا مہیلا سبھا کمان تک 2K رن کا انعقاد کیا لیکن ایسٹ زون پولیس نے اس پروگرام کو ناکام بناتے
ہوئے بائیں بازو جماعتوں سے تعلق رکھنے والی طلباء تنظیموں کے 29 ارکان کو گرفتار کرلیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 10 ڈسمبر کو 24  طلباء تنظیموں کی جانب سے بیف فیسٹیول کے پیش نظر حیدرآباد سٹی پولیس اور انٹلیجنس عملہ چوکس ہوچکا ہے اور اس پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ انٹلیجنس ایجنسیوں نے بیف فیسٹیول کے پس پردہ بعض قائدین کے ملوث ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے اور بیف فیسٹیول کے لئے طعام فراہم کرنے والی ایک ہوٹل کا بھی پتہ لگایا ہے۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بیف فیسٹیول کے انعقاد پر عثمانیہ یونیورسٹی اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے بیف فیسٹول کے خلاف بطور احتجاج گائے کی پوجا کرنے کی دھمکی دی ہے جب کہ ہندو توا سخت گیرحامی  دائیں بازو تنظیموں کی جانب سے اس فیسٹیول کو ناکام بنانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔  اس دوران  ایک اور تنظیم نے ’ پورک فیسٹول ‘ کا اہتمام کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ خنزیر کا گوشت کھانے والوں اور اس کے کاروبار سے ایک طبقہ کی کثیر تعداد وابستہ ہیں ۔ ان دھمکی اور جوابی دھمکیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے پولیس اعلیٰ عہدیدار نے عثمانیہ یونیورسٹی میں جاری سرگرمیوں پر سخت چوکسی اختیار کی ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی پوری تیاریاں ہوچکی ہیں۔عثمانیہ یونیورسٹی کے حکام نے کشیدگی کوملحوظ رکھتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ یہ ایک خالص تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہے جہاں ان مقاصد کے علاوہ دیگر سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT