Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / بیف لیجانے کا شبہ ، مسلم بی جے پی ورکر کی پٹائی!

بیف لیجانے کا شبہ ، مسلم بی جے پی ورکر کی پٹائی!

 

ناگپور 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کے جلال کھیڑہ ٹاؤن میں جب گاؤ دہشت گردوں نے ایک مسلم شخص کو بیف لے جانے کے الزامات پر زدوکوب کیا تو وہ شاید واقف نہ تھے کہ اُن کے ٹارگٹ کا تعلق برسراقتدار بی جے پی سے ہے۔ چہارشنبہ کی دوپہر پیش آئے واقعہ کے بعد متاثرہ شخص 36 سالہ سلیم اسماعیل شیخ کو دواخانہ لیجانا پڑا۔ ناگپور پولیس نے اس حملے کے سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کرچکی ہے، جو خودساختہ گاؤ رکشکھوں کی سلسلہ وار پرتشدد کارستانیوں میں تازہ واقعہ ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے آج کہاکہ ایک شخص کو بیف لے جانے کے شبہ میں ہجوم نے زدوکوب کیا۔ ضلع ناگپور کے قصبہ کاتول کے رہنے والے سلیم شیخ کو جو اپنی موٹر سیکل پر کل سہ پہر گھر واپس جارہا تھا، پانچ، چھ افراد نے ناگپور رورل کے دیہات بھارسنگی میں روکا اور اُس سے موٹر سیکل سے اُتر جانے کے لئے کہا۔ اُس کی موٹر سیکل کی ڈکی میں موجود گوشت دکھانے کے لئے ہدایت دی، اُس کی مزاحمت پر ہجوم نے اُسے زدوکوب کیا۔ ناگپور رورل کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شیلیش بلکاؤڑے نے کہاکہ سلیم کے چہرے اور گردن پر حملے سے زخم آئے۔ اُسے ناگپور کے ایک اسپتال سے رجوع کیا گیا جہاں مرہم پٹی کے بعد اُسے ڈسچارج کردیا گیا۔ متاثرہ شخص نے نامعلوم افراد کے خلاف ایک مقدمہ درج کروایا ہے۔ پولیس کو فوری کارروائی کرنا پڑا کیونکہ اِس واقعہ سے متعلق ویڈیو جھلکیاں وائرل کردی گئی ہیں۔ دو ملزمین کل رات گرفتار کرلئے گئے اور آج صبح دیگر کو پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ 35 سالہ اشون آئیک، 42 سالہ رامیشور تیواڑے، 36 سالہ موریشور پنڈورکر اور 25 سالہ جگدیش چودھری گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 326 (رضاکارانہ طور پر خطرناک ہتھیاروں وغیرہ شدید زخمی کردینا) اور 34 (مشترکہ مقصد کے فروغ کے لئے کئی افراد کی جانب سے کارستانی) کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ دفعہ 326 کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔ سلیم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ گوشت کی تجارت کررہا تھا۔ تاہم، متاثرہ شخص کی بیوی زرین اسماعیل نے ان الزامات کی تردید کردی اور بیان کیا کہ وہ بیف کی تجارت نہیں کرتے ہیں۔ ’’میرا شوہر کاٹن ٹریڈر ہے۔ وہ مٹن مقامی مسجد کمیٹی کے زیراہتمام تقریب کیلئے لارہا تھا۔‘‘ ایس پی کے بموجب ضبط شدہ گوشت فارنسک لیباریٹری ناگپور کو جانچ کے لئے روانہ کردیا گیا ہے۔ پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ کیا یہ لوگ ’’گاؤ رکھشک‘‘ ہیں۔ اِس واقعہ کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جارہی ہے۔ یہ واقعہ وزیراعظم نریندر مودی کے برسرعام بیان کے دو ہفتے بعد پیش آیا ہے کہ گایوں کے تحفظ کے نام پر لوگوں کو ہلاک کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم، یہ بات صاف ظاہر ہے کہ گاؤ دہشت گردوں کو روکنے مودی حکومت کچھ خاص نہیں کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT