Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / بیف پر کوئی بھی مکمل امتناع عائد نہیں کرسکتا

بیف پر کوئی بھی مکمل امتناع عائد نہیں کرسکتا

غیرقانونی مسلخ بند کرنے کو یقینی بنایا جائے ، الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ کی فیصلہ

لکھنؤ ۔ /6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسی منصوبہ بندی کرے جس کے تحت غیرقانونی مسلخوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ تاہم عوام کے غذائی حق اور روزگار پر ناجائز پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ۔ لکھنؤ بنچ کے جسٹس امریشور پرتاپ شاہی اور جسٹس سنجے ہرکولی نے کہا کہ غذا اور غذا سے متعلق عادتیں غیرمتنازعہ ہیں اور زندگی کے حق سے مربوط ہیں ۔ جس کی طمانیت دستور ہند کی دفع 21 کے تحت دی گئی ہے ۔ عدالت نے گوشت کے ایک فروخت کرنے والی کی درخواست پر حکومت کو یاد دہانی کی کہ وہ غیرقانونی مسلخوں کے خلاف کارروائی تو کرسکتی ہے لیکن قانونی طوپر گوشت سربراہ کرنے والوں پر امتناع عائد نہیں کرسکتی کیونکہ یہ کئی افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں ۔ دستور میں درج عوام کے بنیادی حقوق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عمل اور پیشہ کی آزادی سے متعلق دفعہ 19 اور زندگی اور آزادی کے تحفظ سے متعلق دفعہ 21 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کوئی بھی صحت بخش غذا کھانا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی غذا کے انتخاب پر امتناع عائد کرنے کا حق نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ صحت ، کلچر ، شخصی غذائی عادتوں ، سماج کے سماجی ۔ معاشی موقف ، واجبی قیمت پر غذائی اشیاء کی دستیابی، آسانی سے دستیابی ، معیار اور غذائی اجناس کی طاقت زندگی کیلئے ضروری ہے ۔ ان سب کا توازن دستور کی سیکولر چھتری کے نیچے بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے ۔  کسی بھی علانیہ یا پوشیدہ کارروائی سے پہلے ان تمام باتوں پر غور کرلینا چاہئیے ۔ کارروائی عاجلانہ بنیادوں پر دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی ہوئی محسوس نہیں ہونی چاہئیے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT