Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بیف کا استعمال۔ صرف مسلمانوں پر الزام کیوں؟

بیف کا استعمال۔ صرف مسلمانوں پر الزام کیوں؟

قبائیل اور دیگر طبقات میںگوشت خوری کا رجحان زیادہ، مسلمان سازش کا شکار نہ بنیں

حیدرآباد۔/6 اپریل، ( سیاست نیوز) ملک میں ہر متنازعہ مسئلہ کو مسلمانوں سے جوڑنا سنگھ پریوار اور جارحانہ فرقہ پرست عناصر کی عادت بن چکی ہے۔ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کرنا اُن کی حکمت عملی ہے جس میں وہ کامیاب بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ یکساں سیول کوڈ کا معاملہ ہو یا پھر بیف کے استعمال کا تنازعہ ان دونوں میں بھی مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کے نشانہ پر ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں جس انداز سے جارحانہ فرقہ پرستی کی سیاست نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ہے اس میں مسلمانوں کی حکمت عملی کا فقدان صاف طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی یکساں سیول کوڈ یا پھر بیف کا مسئلہ اٹھایا گیا اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو مسلمان اس سازش کا باآسانی شکار ہوگئے جس کے نتیجہ میں مخالف طاقتوں کو کامیابی حاصل ہورہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یکساں سیول کوڈ اور بیف کا استعمال جیسے معاملات صرف مسلم اقلیت کے مسائل ہیں۔ ملک میں مسلمانوں کے علاوہ کئی دیگر طبقات اور خاص طور پر قبائیل سے تعلق رکھنے والے افراد ایسے ہیں جو ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں جہاں قبائیل کا غلبہ ہے بی جے پی یکساں سیول کوڈ کے بجائے وہاں تمام قبائیل کی روایات اور اصولوں کی انفرادیت کو برقرار کھنے کا وعدہ کررہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح شمال مشرقی ریاستوں میں بی جے پی نے کھلے عام یہ وعدہ کیا کہ اتر پردیش کی طرح بیف پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کیرالا جیسی ریاست میں ملاپورم لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار نے کھلے عام عوام سے یہ وعدہ کیا کہ اگر انھیں منتخب کیا جائے گا تو وہ صحت بخش گوشت کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ اس طرح فرقہ پرست طاقتوں اور ان کی سیاسی تنظیم بی جے پی کا دوہرا معیار بے نقاب ہوتا ہے۔ اترپردیش، راجستھان، گجرات اور بعض دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں گزشتہ دنوں بڑے جانوروں کی منتقلی کے نام پر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والوں پر جس طرح مظالم ڈھائے گئے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ راجستھان میں تو ایک ضعیف شخص کو شرپسندوں نے مار مار کر ہلاک کردیا۔ اس طرح ملک میں بیف کے ساتھ ہی مسلمانوں کے نام کو جوڑنے کی سازش کی جارہی ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مسلمانوں سے زیادہ خود ہندوؤں میں گوشت خوری اور بالخصوص بیف کے استعمال کا رجحان زیادہ ہے۔ آج بھی ہر ریاست کے قبائیلی علاقوں میں تہواروں کے موقع پر بڑے جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ ملک کے کئی نامور شخصیتوں نے بھی کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ بیف کا استعمال کرتے ہیں۔ حال ہی میں تلنگانہ ریاست کے ایک کلکٹر نے عوام کو بیف کے استعمال کا مشورہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ اس کے استعمال سے بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ کلکٹر کے اس مشورہ پر فرقہ پرست طاقتوں نے احتجاج ضرور کیا لیکن جس علاقہ میں یہ مشورہ دیا گیا وہاں بیف کے استعمال کی اکثریت بتائی جاتی ہے اور استعمال کرنے والوں کا تعلق مسلمانوں سے نہیں ہے۔ بیف کے مسئلہ پر ملک میں شدت اختیار کرتی نفرت کی سیاست سے نمٹنے کیلئے اکابرین ملت کی رائے میں مسلمانوں کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا چاہیئے تاکہ مخالف اسلام و مخالف مسلمان سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ اکابرین کا یہ احساس ہے کہ مسلمان اس مسئلہ پر فوری مشتعل ہونے کے بجائے اگر حکمت عملی کے ساتھ خاموشی اختیار کرلیں تو ملک کے دلت، عیسائی اور پسماندہ ہندو طبقات خود بیف کے حق میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلہ کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ موجودہ حالات میں تمام ایسے طبقات کی لڑائی صرف مسلمان لڑ رہے ہیں حالانکہ استعمال کرنے والوں کی شرح مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کی ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں چاہتی بھی یہی ہیں کہ مسلمانوں کو کسی طرح مشتعل کرتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلیں۔ ہندوستان کی تمام ریاستوں میں گوشت کے استعمال کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہر ریاست میں نان ویجیٹیرین عوام کی تعداد ویجیٹیرین سے کہیں زیادہ ہے۔ اتر پردیش جہاں یوگی آدتیہ ناتھ کی بی جے پی حکومت نے غیرقانونی مسالخ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی تحریک شروع کی ہے وہاں 47 فیصد عوام ویجیٹیرین ہیں جبکہ نان ویجیٹیرین یعنی گوشت کھانے والوں کی آبادی 53 فیصد ہے۔ راجستھان جہاں دو دن قبل ایک مسلمان کو جانور کی منتقلی پر ہلاک کردیا گیا صرف وہاں 75 فیصد آبادی ویجیٹیرین ہے جبکہ 25 فیصد لوگ نان ویجیٹیرین ہیں۔ ٹاملناڈو میں 98 فیصد عوام گوشت کا استعمال کرتے ہیں جبکہ آندھرا پردیش میں 98 ، تلنگانہ میں 99، کرناٹک 79 اور کیرالا میں 97 فیصد آبادی نان ویجیٹیرین ہے۔

TOPPOPULARRECENT