Friday , August 18 2017
Home / اداریہ / بیف کی بریانی

بیف کی بریانی

جب چمن میں بھی بہ انداز قفس تحدید ہے
سوچتا ہوں طاقت پرواز لے کر کیا کروں؟
بیف کی بریانی
مرکز کی نریندر مودی حکومت میں تعلیمی اداروں کے تشخص کو مسخ کرنے کی کوششیں انتہائی تباہ کن حالات کو دعوت دے سکتی ہیں۔ اب تک کئی تعلیمی اداروں کو سیاسی سازشوں کا شکار بنایا جاچکا ہے۔ خاص کر مسلمانوں کے نام سے موسوم تعلیمی ادارے اِن دنوں آر ایس ایس۔ بی جے پی ذہنیت کا شکار ہورہے ہیں۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ’’اقلیتی موقف‘‘ کو ختم کرنے کی سازش کے حصہ کے طور پر کئی حربے اختیار کئے جاچکے ہیں۔ ایک نیا حربہ یہ سامنے آیا ہے کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’بیف بریانی‘‘ فروخت کرنے کا شور مچانے والوں نے اس ادارہ کو بدنام کرنے کی ہرزاویے سے کوشش کی۔ رکن پارلیمانی تحقیقاتی ٹیم نے پولیس کے ساتھ مل کر اس افواہ کی باقاعدہ تحقیقات کی اور اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بیف بریانی کی فروخت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے مسلم تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والوں کو ناکام بنانے کی جو سازش کی جارہی ہے، یہ افسوسناک ہے۔ سازش میں ملوث افراد نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ یہ افواہ گشت کروائی کہ یونیورسٹی کے کینٹین میں ’’بیف بریانی‘‘ (گائے کے گوشت والی بریانی) کو فروخت کیا جارہا ہے۔ افواہ پھیلانے والوں نے یہ بھی یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ بریانی میں استعمال ہونے والا گوشت گائے ہی کا ہے۔ یہ شرارت ایک تاریخی تعلیمی ادارہ کو بدنام کرنے کے لئے کی گئی۔ حکومت نے شرارت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان لوگوں کے خلاف تحقیقات کروانے کا حکم دیا جو یونیورسٹی کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ پارلیمانی تحقیقاتی پیانل کی رپورٹ میں اس افواہ کو غلط قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یونیورسٹی کے کینٹین میں بیف کی بریانی فروخت کرنے کے شواہد دستیاب نہیں ہوتے، اب نظم و نسق کی نیت اور سازش رچانے والوں کی چال واضح ہوچکی ہے تو یونیورسٹی ذمہ داروں کو چوکس ہونے کی ضرورت ہے ناکہ ایسی ناپاک طاقتیں ،مسلم یونیورسٹی کے تشخص کو مزید مسخ کرنے کے نئے ہتھکنڈے اختیار کرنے کی جرأت نہ کرسکیں۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی وہ واحد ادارہ ہے جہاں 100 سال پہلے گائے کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اب بھی برقرار ہے۔ اس تاریخی حقیقت کو آسانی کے ساتھ پوشیدہ رکھنے کی کوشش صرف ان طاقتوں کی ہی ہوسکتی ہے جو فرقہ پرست ذہنیت کے ساتھ تعلیمی اداروں میں نفرت کا زہر پھیلانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کی میئر شکنتلا بھارتی نے اپنی دستوری ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے ملک کی فرقہ وارانہ پرامن فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسی گھناؤنی سازش کرنے والی اس خاتون لیڈر کے خلاف ملک کے قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کے سیکولر کردار کو تباہ کرکے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی آخر کب تک اس ملک اور ملک کے عوام کو اپنے نظریات کی تباہی کا شکار بناتے رہے گی۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بھی نشانہ بنانے والی سازشیں ہورہی ہیں۔ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں جیسے جواہر لال نہرو یونیورسٹی، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے اندر طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والی طاقتوں کو سزا دینے کے لئے تمام امن پسند اور سیکولر ذہن عوام کو متحد ہونا چاہئے۔ مسلم طبقہ کے حقوق کو سلب کرنے کی نیت سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنے کی مبینہ کوششیں کو ناکام بنانا ہر سیکولر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان تعلیمی اداروں کے جس میں حکومت کی سطح پر اقدامات ہونے چاہئیں مگر مرکز کی مودی حکومت اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرکے بظاہر اِن طاقتوں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے جو مسلم نام سے موسوم اداروں کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ تمام سیکولر پارٹیوں کو اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے حکومت کے اختیار کردہ رویہ پر توجہ دینی چاہئے۔ مرکز کی حکومت نے ماضی میں بھی اس یونیورسٹی کے اقلیتی تشخص کو متنازعہ بنانے کیلئے 1981ء میں اے ایم یو ایکٹ میں ترمیم کی تھی اور اب 11 جنوری 2016ء کو جب اس مسئلہ پر قطعی موقف اختیار کیا جانے والا تھا، مرکز نے مکمل طور پر اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ اس سے ملک کے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو حاصل حقوق کو سلب کرنے کی درپردہ سازش ظاہر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی کوششوں میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ اب تاریخی تعلیمی ادارے بھی مسلمانوں سے چھین لینے کی کوشش ہورہی ہے جس کو ناکام بنانا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT