Friday , June 23 2017
Home / مضامین / بیف کے حق میں گوا میں مسلم ۔ عیسائی اتحاد

بیف کے حق میں گوا میں مسلم ۔ عیسائی اتحاد

ظفر آغا

ایک عرصہ بعد کچھ اچھی خبر ملی، خبر یہ ہے کہ گوا میں چرچ اور مسلم گروپ نے آپس میں مل کر یہ طئے کیا ہے کہ وہ دونوں متحد ہوکر حکومت کی جانب سے گائے کے گوشت پر پابندی نافذ کئے جانے والے قانون کی مخالفت کریں گے۔ اس فیصلہ کی تفصیل یہ ہے کہ گوا میں گوا کے باشندوں نے ایک پلیٹ فارم بنایا ہے جس کا نام رکھا گیا ہے ’’ گوا فار بیف ‘‘ یعنی گوا بیف کے حق میں ، اس پلیٹ فارم میں گوا کے ہر طرح کے باشندے ہیں لیکن اس کو گوا کیتھولک چرچ اور گوا قریشی میٹ اسوسی ایشن کی تائید حاصل ہے۔ دراصل قریشی میٹ اسوسی ایشن نے گوا ہائی کورٹ میں ایک رٹ داخل کی ہے جس میں وہ مرکزی حکومت کے اس قانون کی مخالفت کررہی ہے جس کے ذریعہ حکومت نے سارے ملک میں گائے ، بھینس اور یہاں تک کہ اونٹ جیسے جانور کی ذبیحہ و خرید وفروخت پر پابندی لگادی ہے۔ قریشی میٹ اسوسی ایشن کی جانب سے انور بیوپاری نام کے شخص نے میڈیا کو یہ اطلاع دی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں گوا چرچ کے ساتھ رابطہ میں ہے اور چرچ اس معاملے میں ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ انوربیوپاری نے اس سلسلہ میں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں جو رکاوٹ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس کا بھی کھل کر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا میں کہا کہ ’’ یہ مسئلہ ( یعنی ذبیحہ کیلئے مذکورہ جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی ) ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ دو ماہ میں بقرعید آنے والی ہے اور اگر یہ قانون اسی طرح لاگو کردیا گیا تو مسلمان بقرعید میں قربانی کیسے کریں گے۔‘‘

گوا میٹ ایکسپورٹ اسوسی ایشن نے اس سلسلہ میں جو قدم اٹھایا ہے وہ نہ صرف ایک اچھی پہل ہے بلکہ اس میں سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے دو اہم سبق بھی ہیں۔ اولاً تو جیسا انور بیوپاری نے کہا کہ اگر ذبیحوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد رہی تو سارے ملک میں مسلمانوں کو بقرعید میں قربانی کرنا محال ہوجائے گا۔ اس نقطہ نظر سے مرکزی حکومت کا یہ قانون نہ صرف متنازعہ ہے بلکہ آئین کے بھی خلاف ہے کیونکہ آئین کے تحت اس ملک کے ہر باشندے کو اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کی آزادی ہے اور مسلمانوں کی یہ آزادی بقرعید میں اس قانون کے تحت مجروح ہوسکتی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ راقم الحروف نے اپنے پچھلے کالم میں یہ نکتہ اٹھایا تھا۔ مگر حیرت اس بات کی ہے کہ اس معاملہ میں نہ تو کسی مسلم تنظیم نے کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی کہیں علماء کرام کی جانب سے اس کی مخالفت کی کوئی آواز سنائی دی۔ ہندوستانی مسلمانوں کی نام نہاد قیادت پر ایک سکوت جاری ہے جو چونکا دینے والا ہے۔ کیا موجودہ مسلم قیادت نے بی جے پی کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ خاموشی کیوں ؟۔ دوسری جانب قربانی جیسے شرعی معاملہ پر آنچ آنے کے اندیشہ کے باوجود علماء کرام کیوں خاموش ہیں، طلاق معاملہ کی طرح اب علماء کو اسلام خطرہ میں کیوں نہیں نظر آرہا ہے۔ مسلم قیادت کی یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ اپنے آپ کو ملی معاملات کا ٹھیکہ دار بتانے والے نام نہاد قائد بے سود ہوچکے ہیں اور حکومت وقت کے اشاروں پر ناچنے کو تیار ہیں۔

الغرض اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے ہندوستان میں ہر ہائی کورٹ میں ایسی ہی ایک رٹ داخل ہونی چاہیئے جیسی کہ گوا ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ میں بھی اس سلسلہ میں ایک عرضی داخل ہوگئی ہے اور سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اس سلسلہ میں جواب دو نوٹس جاری کردی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق حکومت دباؤ میں ہے اور اس متنازعہ قانون میں تبدیلی کیلئے تیار ہے۔ یعنی اگر گوا میٹ ایکسپورٹ اسوسی ایشن کی طرح لوگ مودی حکومت کے خلاف کھڑے ہوں تو حکومت کو دبایا جاسکتا ہے۔راقم الحروف لکھتا رہا ہے کہ اقلیتوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خوف غلامی کی علامت ہے اور اگر خوفزدہ رہے تو پھر غلامی ہی قسمت بن جائے گی۔ اس لئے آئینی حدود میں رہتے ہوئے پُرامن طریقہ سے مسلمانوں کو بھی اس ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیئے لیکن یہ جدوجہد نہ تو جذباتی ہونی چاہیئے اور نہ ہی مذہبی لب و لہجہ میں ہونی چاہیئے کیونکہ اگر کوئی نعرہ تکبیر لگائے تو پھر دوسری جانب سے جے سیا رام کا نعرہ لگے گا۔ اور اس تکرار میں پھر مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو 1992 میں بابری مسجد سانحہ کے موقع پر ہوا تھا۔ یاد رکھیئے کہ مسلم روایتی اور مذہبی قیادت محض جذباتی اور مذہبی نعروں پر منحصر ہے اس لئے روایتی مسلم قیادت نہ صرف بے سود ہوچکی ہے بلکہ قوم کے لئے نقصاندہ ثابت ہوچکی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر قیادت کرے کون؟ اس سلسلہ میں گوا کے مسلمانوں نے راستہ دکھایا ہے۔ گوکہ گوا میں مسلمان نمک کے برابر ہیں لیکن انہوں نے ذبیحہ کے سلسلہ میں بے خطر ہائی کورٹ کا رُخ کیا ہے اور انہوں نے اس سلسلہ میں بے حد دانشمندی سے کام لیا ہے۔ یعنی انہوں نے ایک پلیٹ فارم بنایا جس میں گوا چرچ کو بھی شامل کیا۔ گوا میں عیسائیوں کی تعداد تقریباً 50 فیصد ہے۔ اس مسلم ۔ کرسچین اتحاد سے گوا حکومت بھی ڈر گئی اور اس نے ابھی تک اس معاملہ میں مرکزی قانون کی کھل کر حمایت نہیں کی۔

یعنی گوا کے مسلمانوں کی طرح ہر ضلع میں وہاں کے پڑھے لکھے مسلم افراد کو ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیئے اور اس پلیٹ فارم کا کوئی جدید نام ہونا چاہیئے۔ اس پلیٹ فارم کو آئینی حدودکے دائرے میںاپنی جدوجہد کرنی چاہیئے۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پلیٹ فارم کا ایک سوشیل الائنس بنانا چاہیئے جیسے گوا میں مسلمانوں نے چرچ کے ساتھ اتحاد کرکے اپنی طاقت بڑھائی ہے۔ ویسے بھی اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کے ساتھ مل کر اسی طرح کا اتحاد ہونا چاہیئے۔ مثلاٰ یو پی اور دیگر ریاستوں سے دلتوں پر مظالم کی خبریں آرہی ہیں لیکن اس معاملہ میں بھی مسلم قیادت خاموش ہے۔ اس وقت اقلیتوں اور دلتوں کا فوراً ایک سوشیل اور سیاسی اتحاد بن جانا چاہیئے۔ یعنی اگر کسی بھی ضلع میں دلت آئینی حدود میں کوئی احتجاج کریں تو اس میں مسلمانوں کی شرکت برابر کی ہونی چاہیئے اور لوکل جو بھی پلیٹ فارم بنے اس کی جانب سے فوراً دلتوں کے حق میں بیان جاری ہونا چاہیئے۔ پھر یہ رمضان کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں آئے دن افطار پارٹیاں ہوتی ہیں ان پارٹیوں میں خصوصاً دلتوں کو مدعو کرنا چاہیئے تاکہ آپسی بھائی چارہ بڑھے۔
گوا کے مسلمانوں سے سبق لے کر مسلمانوں کو بے خوف و خطر اپنے آئینی حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیئے۔ اس کے لئے لوکل پلیٹ فارم بننے چاہیئے جو دوسری مظلوم قوموں کے ساتھ اتحاد قائم کرے اور اس پلیٹ فارم کی قیادت روایتی افراد و علماء کے ہاتھوں میں نہیں ہونی چاہیئے ۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں، جوش نہیں بلکہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے مسائل حل ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT