Friday , October 20 2017
Home / بچوں کا صفحہ / بینڈیڈ کا قصہ

بینڈیڈ کا قصہ

پیارے بچو! ارل ڈکسن برنسویک ، نیوجرسی میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا ۔ وہ جانسن اینڈ جانسن کمپنی کیلئے روئی یا کاٹن خریدنے کا کام کرتا تھا ۔ ارل کی بیوی جوسفن جب بھی ر سوئی میں کام کرتی تھی تو اکثر اس کے ہاتھ کی انگلی چاقو سے کٹ جاتی یا پھر کسی گرم چیز سے وہ جل جاتی ۔ ارل اپنے گھر میں روئی کے ساتھ اپنی کمپنی کی بنی کچھ دوائی بھی رکھتا تھا جسے وہ پٹی کی مدد سے جوسفن کے زخم پر باندھ دیتا تھا ۔
ارل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ ایک ایسی پٹی بنائے جو ایک جگہ ٹکی رہے ، جسے باندھنا آسان ہو ، یہاں تک کہ اُسے زخمی شخص یا کوئی بھی ایک ہی ہاتھ کے استعمال سے باندھ سکے ۔ ارل نے اس بات پر بھی توجہ دی کہ اس طرح کی پٹی انفیکشن سے زیادہ سے زیادہ بچاؤ کرسکے اور اس کا مدت اثر دیرتک برقرار رہے ۔  یہ 1920 ء کی بات ہے ۔ ایک دن ڈکسن نے رسوئی کی میز پر 3 انچ چوڑے ڈاکٹری ٹیپ کو پھیلادیا اور اس پر چپکنے والا حصہ اوپر کی طرف رکھا پھر اس کے بالکل بیچ میں جالی دار کپڑے کو رکھ دیا تاکہ چپکنے والا حصہ نظر آتا رہے ۔ پیڈ کو صاف رکھنے اور گوند کو سوکھنے سے بچانے کیلئے اس نے اسے کپڑوں کے ٹکڑوں سے ڈھک لیا ۔ جب ڈکسن نے اپنی اس ایجاد کے بارے میں جانسن اینڈ جانسن کمپنی کے ڈائرکٹر جیمس جانسن سے ذکر کیا تو انھوں نے اس کارنامے میں چھپی ایجاد کی خوبیوں کو فوراً بھانپ لیا ۔ جانسن نے ڈکسن کی اس ایجاد کو رجسٹر کرایا کیونکہ اس کی کمپنی نے اسے تھوڑا سدھارکر بنانے اور بیچنے کا فیصلہ کیا تھا اور جلد ہی ڈکسن کی ایجاد ’’بینڈیڈ‘‘ اپنے عالمی شہرت یافتہ نام کے ساتھ بازار میں بکنے لگی اور ڈکسن ارل کو ترقی دے کر کمپنی کا نائب صدر بنایا گیا ۔ شروعات میں بینڈیڈ پٹیاں ہاتھ سے تیار کی جاتی تھیں اور 3انچ چوڑی اور 18 انچ لمبی ہوتی تھیں۔ لیکن 1925 ء میں جانسن اینڈ جانسن نے ایک مشین لگائی جو پٹی کو تین انچ لمبی اور تین چوتھائی انچ چوڑی شکل میں کاٹتی تھی ۔ آج کل بازار میں پانی سے محفوظ بینڈیڈ بھی ملتی ہے جس کے لگانے سے بھیگنے کے باوجود زخم کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT