Monday , September 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / بینکرس کی من مانی سے حکومت کی نیک نامی متاثر

بینکرس کی من مانی سے حکومت کی نیک نامی متاثر

سنگاریڈی میں جائزہ اجلاس، ریاستی وزرا ء پی سرینواس ریڈی اور ہریش راؤ کا اظہار برہمی

سنگاریڈی۔/16ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع میدک میں کسانوں کے زرعی قرضہ جات کی معافی جدید زرعی قرضہ جات کی اجرائی، انشورنس رقم کی ادائیگی، خشک سالی اور کسانوں کی زبوں حالی کا جائزہ لینے کلکٹریٹ سنگاریڈی میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاستی وزراء ٹی ہریش راؤ، پوچارم سرینواس، ڈپٹی اسپیکر اسمبلی پدما دیویندر ریڈی، چنتا پربھاکر، مدن ریڈی، بابو موہن اراکین اسمبلی، سدھاکر ریڈی ایم ایل سی، راجمنی یادو چیرمین ضلع پریشد، دیویندر ریڈی چیرمین ڈی سی سی بی، رونالڈ راس کلکٹر ضلع میدک، سیتا پتی شرما نمائندہ ایس ایل بی سی، سریندر ریڈی، لیڈ بینک منیجر کے علاوہ بینکرس اور اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک دونوں ریاستی وزراء ٹی ہریش راؤ اور پوچارم سرینواس ریڈی نے بینکرس اور انشورنس کمپنیوں پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ پوچارم سرینواس ریاستی وزیر زراعت نے کہا کہ تلنگانہ حکومت 17ہزار کروڑ روپئے مالیتی زرعی قرضہ جات کو معاف کرنے کا تاریخی اقدام کیا ہے۔ حکومت نے بینکرس سے کہاکہ وہ کسانوں کو قرضہ جات کی ادائیگی کیلئے پریشان نہ کریں۔ حکومت ان کے قرضہ جات 4اقساط میں ادا کرنے کا وعدہ کیا جس میں سے دو قسطیں بینکرس کو ادا کی جاچکی ہیں لیکن کسانوں کی جانب سے عمومی طور پر شکایتیں وصول ہورہی ہیں کہ بینکرس کسانوں کو سود ادا کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ بینکرس کا یہ عمل آمرانہ اور ناقابل قبول ہے۔ اس موقع پر پوچارم سرینواس ریڈی نے انتہائی برہمی کے عالم میں بینکرس کے طرز عمل پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکومت کو کسانوں کی بدحالی پر رحم آرہا ہے لیکن بینکرس کو کسانوں پر کوئی رحم نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کے احکام کی کوئی پرواہ ہے ۔ انہوں نے بینکرس سے کہا کہ زرعی موسم خریف کے قرضہ جات فوری جاری کریں اور کسانوں کو کسی بھی قسم کی ادائیگی کیلئے پریشان نہ کیا جائے۔ ٹی ہریش راؤ وزیر آبپاشی نے بھی بینکرس اور انشورنس ادارہ جات کی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بینکرس اور انشورنس کمپنیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے باعث حکومت کی نیک نامی متاثر ہورہی ہے۔ باالفاظ دیگر بینکرس اپنی من مانی کرتے ہوئے کسانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان ایک لاکھ روپئے زرعی قرض حاصل کرنے پر کپاس کیلئے 13ہزار اور دھان کیلئے ڈھائی ہزار روپئے بطور انشورنس فیس وصول کئے جارہے ہیں۔ ضلع بھر میں 90 کروڑ روپئے کسانوں سے انشورنس کیلئے وصول کئے گئے لیکن فصل کی ناکامی پر کوئی بھی انشورنس کمپنی ایک روپیہ بھی بطور انشورنس کسانوں کو ادا نہیں کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ حکومت بینکرس کی ہٹ دھرمی اور من مانی کے خلاف آر بی آئی سے شکایت کرے گی جبکہ انشورنس کمپنیوں کی دھوکہ دہی پر ہائی کورٹ سے رجوع ہونے غور کرے گی۔ وزراء نے کہا کہ مویشی اور ڈیری کیلئے بینکرس قرضہ جاری کریں۔ اس موقع پر بینکرس نے اعتراف کیا کہ وہ کسانوں سے سود کی رقم وصول کئے ہیں چونکہ ان کا کمپیوٹر سسٹم سودی رقم کا خانہ پُری ہونے کے بعد ہی قرض کی معافی کا عمل مکمل کررہا تھا۔ ایس ایل بی سی نمائندہ نے تمام بینکرس کو ہدایت دی کہ وہ وصول کردہ سودی رقم کو واپس کسانوں کو ادا کردیں۔

TOPPOPULARRECENT