Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بینکس کیاش لیس ہوگئے اور عوام بے گھر

بینکس کیاش لیس ہوگئے اور عوام بے گھر

حیدرآباد ۔ 7 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ ریاست کو کیاش لیس اکنامی میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مگر حقیقت میں ریاست کے تمام بینکس کیاش لیس میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ بینکوں میں رقم نہیں ہے ۔ صرف نو کیاش کے بورڈس ہیں طلب کے مطابق رقم نہ ملنے سے عوام کی برہمی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ کئی مقامات پر عوام اور بینک ایمپلائز کے درمیان بحث و تکرار ہورہی ہے ۔ عوام سڑکوں پر راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ پرانے شہر کے 90 فیصد اے ٹی ایم غیر کارکرد ہیں ۔ راتوں میں برقعہ پوش خواتین کو عابڈس ، معظم جاہی مارکٹ کے علاوہ دیگر اے ٹی ایم کی قطاروں میں دیکھا جارہا ہے ۔ حکومت کی ترجیحات تبدیل ہوگئی ہے ۔ بینکوں میں زیادہ سے زیادہ نئی کرنسی پہونچانے کے لیے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ریاست کو نقد رقمی لین دین سے پاک بنانے کے لیے جنگی خطوط پر اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کو منسوخ کرنے کے 29 دن بعد بھی تلنگانہ کے عوام بینکوں اور اے ٹی ایم سنٹرس کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہیں ۔ کئی سرکاری ایمپلائز اور خانگی ملازمین رخصت لگا کر بینکوں کی قطاروں میں کھڑے ہیں کبھی انہیں پیسے مل رہے ہیں کبھی کاونٹر تک پہونچنے تک ہی بینک میں رقم ختم ہوجارہی ہے ۔ وظیفہ یابوں کی بری حالت ہے ۔ گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے سے شوگر ، بلڈپریشر کے علاوہ دوسرے مریض مزید بیمار و پریشان ہورہے ہیں ۔ ریاست کے تمام بینکس کو طلب کے مطابق آر بی آئی کی جانب سے رقم روانہ نہیں کی جارہی ہے ۔ جس سے تمام بینک جہاں کیاش لیس ہوگئے ہیں وہیں اے ٹی ایم غیر کارکرد ہوگئے ہیں ۔ پرانے شہر میں بینکوں اور اے ٹی ایم میں رقم نہ کے برابر ہے ۔ پرانے شہر کے کئی بڑے گھرانے کے افراد بشمول خواتین راتوں میں نئے شہر کے اے ٹی ایم سنٹرس پر اپنی جمع رقم نکالنے کے لیے قطاروں میں کھڑی ہیں ۔ ریاست کو کیاش لیس اکنامی میں تبدیل کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں مگر بینک میں پیسہ نہیں ہے ۔ سوئپنگ مشین طلب کے مطابق نہیں ہے تو جیب میں ڈبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ رکھنے کا فائدہ کیا ہے ۔

کیاش لیس اکنامی کے لیے سماج کتنا تیار ہے ۔ اس پر عمل آوری کے لیے انفراسٹرکچر تیار ہے کیا اس پر غور کریں ۔ بغیر کیاش لیس سوسائٹی کی باتیں کرنا کتنا درست ہے ۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی جملہ آبادی میں صرف 2 فیصد آبادی کیاش لیس اکنامی پر انحصار کرتی ہے ۔ 80 فیصد کاروبار نقدی لین دین پر ہوتا ہے ۔ تلنگانہ کی قریب 4 کروڑ آبادی ہے ۔ جس میں قومیائے ہوئے بینکوں اور ان کے برانچس کی تعداد 3200 خانگی اور کارپوریٹ بینک اور ان کے برانچس کی تعداد 850 ہے ۔ دیہی علاقوں میں امدادی بینکوں کی تعداد 200 ہے ۔ ریاست کے بیشتر ایسے مواضعات ہیں جہاں بینکوں کی سہولت نہیں ہے ۔ ریاست کی 4 کروڑ آبادی میں دیڑھ کروڑ آبادی ایسی ہے جس کے پاس بینک اکاونٹ ہیں ۔ نوٹ بندی کے بعد 80 لاکھ افراد نے اپنے بینک اکاونٹ کھولنے کے لیے بینکوں میں درخواستیں داخل کی ہیں ۔ کئی بینکوں میں عملے کی قلت ہے ۔ ڈیجیٹل لین دین کے لیے سوئپنگ مشینوں کی ضرورت ہے تاہم سارے ملک میں سوئپنگ مشینوں کی تعداد 15 لاکھ ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں 75 ہزار تا 80 ہزار سوئپنگ مشین دستیاب ہیں ۔ ریاست کے بینکوں میں 60 ہزار کروڑ کے منسوخ شدہ نوٹ جمع ہوچکے ہیں تاہم آر بی آئی نے صرف 15 ہزار کروڑ روپئے کی نئی کرنسی تلنگانہ کو جاری کی ہے ۔ جس میں 98 فیصد نئی کرنسی 2 ہزار روپئے کے نوٹوں پر مشتمل ہے ۔ جس سے ریاست میں کرنسی بحران اور چلر کی قلت دونوں پیدا ہوگئے ہیں ۔ ریاست میں کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے ۔ غیر منظم شعبہ میں کام بند ہوجانے سے کئی مزدور اپنے اپنے ریاستوں اور اضلاع کو روانہ ہورہے ہیں ۔ غریب و متوسط طبقہ کی آمدنی گھٹ گئی ہے اور اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT