Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بینکوں اور اے ٹی ایمس کا مستقبل خطرہ میں۔ اسمارٹ فون سے تمام بینکنگ سہولیات کی دستیابی

بینکوں اور اے ٹی ایمس کا مستقبل خطرہ میں۔ اسمارٹ فون سے تمام بینکنگ سہولیات کی دستیابی

حیدرآباد۔/8ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتیں جس طرح کیاش لیس اکانومی کیلئے تیزی سے اقدامات کررہی ہے اس سے دونوں ریاستوں میں بینک، اے ٹی ایمس کا مستقبل خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ دونوں حکومتوں نے عوام کو بینک اور اے ٹی ایم کے بجائے الیکٹرانک پے منٹ سے متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ 8 نومبر کو مرکز کی جانب سے نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد عوام الیکٹرانک پے منٹ کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ آندھرا پردیش میں اے ٹی ایمس کی جملہ تعداد 8036 ہے جبکہ تلنگانہ میں 8969 اے ٹی ایمس ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوام تیزی سے الیکٹرانک پے منٹ ذرائع اختیار کریں اور سماج کیاش لیس اکانومی کو قبول کرلے تو اے ٹی ایمس کا استعمال کرنے والوں کی تعداد کافی حد تک گھٹ جائے گی ۔ نئے اے ٹی ایمس کا قیام مسدود ہوجائے گا کیونکہ ایک اندازہ کے مطابق ایک اے ٹی ایم کے قیام پر 6 لاکھ روپئے کا خرچ آتا ہے اور مینٹننس پر ماہانہ 50 ہزار روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ اے ٹی ایم مشین کی لاگت 2.5 لاکھ ہے جبکہ ایر کنڈیشنڈ اور کیمرے کی تنصیب پر 2 لاکھ روپئے کا خرچ آتا ہے۔ بلاوقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے 1.3 لاکھ کے خرچ سے برقی سسٹم کی تنصیب عمل میں آتی ہے۔ اس طرح ایک اے ٹی ایم کے قیام پر 5 لاکھ 80 ہزار روپئے کا خرچ آئے گا۔ اس کے علاوہ الیکٹریسٹی بل، کرایہ اور دیگر اخراجات تقریباً 50 ہزار تک ہوسکتے ہیں۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ آندھرا اور تلنگانہ حکومتوں کی جانب سے الیکٹرانک پے منٹ سسٹم متعارف کیا جاچکا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد عوام کرنسی کی قلت سے بچنے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے علاوہ دیگر ذرائع کا استعمال کررہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ تیزی سے جاری رہا تو اسمارٹ فون سے تمام بینکنگ سہولتیں سوائے کیاش ڈپازٹ کے دستیاب ہوجائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اسٹونیا وہ واحد ملک ہے جہاں صد فیصد کیاش لیس ادائیگی پر عمل کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں شہری علاقوں میں عوام تیزی سے اس نظام کے عادی ہوسکتے ہیں تاہم دیہی علاقوں میں اس کیلئے وقت لگ سکتا ہے۔ یوں بھی دیہی علاقوں میں بینکوں اور اے ٹی ایمس کی تعداد کم ہے۔ آندھرا میں 8036 اے ٹی ایمس میں صرف 5900 کارکرد ہیں جبکہ 1577 کو نئی کرنسی کے تحت تیار کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ تلنگانہ کے 8969 اے ٹی ایمس میں 50 فیصد سے زائد غیر کارکرد بتائے جاتے ہیں۔ بینکوں نے اے ٹی ایمس میں پابندی کے ساتھ رقم جمع کرنے کا سلسلہ مسدود کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT