Wednesday , July 26 2017
Home / شہر کی خبریں / بینکوں سے رقمی معاملتوں پر بھی فیس کے لزوم پر عوام میں برہمی

بینکوں سے رقمی معاملتوں پر بھی فیس کے لزوم پر عوام میں برہمی

متوسط طبقہ پر زیادہ اثر ہوگا ۔چھوٹے تاجرین کا کاروبار بھی داؤ پر ۔بینکنگ معاملتیں بھی کم ہو سکتی ہیں
حیدرآباد7 مارچ (سیاست نیوز) بینکوں کی جانب سے معاملتوں پر فیس عائد کئے جانے پر شہریو ںمیں برہمی پائی جارہی ہے اور عوام اس اقدام کو معاشی مظالم قرار دے رہے ہیں۔ حکومت نے نقدی سے پاک لین دین کے منصوبہ کے تحت یکم اپریل سے بینکوں کو محدود معالتوں کو مفت رکھنے کی جو منظوری فراہم کی ہے اس کے خلاف ہر گوشہ سے آواز اٹھائی جانے لگی ہے کیونکہ اس اقدام سے صرف غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوگا جبکہ متمول طبقہ بالخصوص وہ کھاتہ دار اور تاجرین کو اثر نہیں پڑے گا جن کے کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع ہوتے ہیں ۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ ملک کی کئی سرکردہ شخصیتوں نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے فیصلہ کو مخالف عوام قرار دینا شروع کردیا ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ حکومت نقد سے پاک لین دین کے فروغ کیلئے عوام پر جبری فیصلہ مسلط کرکے انہیں مجبور کرنے کی پالیسی اختیار کررہی ہے لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کیلئے کئی مشکلات پیدا ہونے لگیں گی جو لوگ صفر بیالنس کھاتہ رکھتے ہوئے بینک کاری نظام سے مربوط ہیں اور معمولی رقومات جمع کرکے اپنے اخراجات اور حسب ضرورت بینک سے رقومات منہا کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا‘ AXIS بینک ‘ HDFCبینک اور ICICI بینک کی جانب سے بینک معاملتوں بالخصوص رقم جمع کروانے یا منہاء کروانے کی صورت میں فیس کی تفصیلات کے اجرا کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرنسی تنسیخ کے باوجود برداشت کا مظاہرہ کرنے والے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔ جناب سید ذبیح الدین جواد نے بتایا کہ حکومت کو نقد سے پاک لین دین کے فروغ کیلئے اس طرح کی کاروائی کے بجائے پہلے تمام تجارتی اداروں کو الکٹرانک ادائیگی کے قابل بنانا چاہئے کیونکہ جب شہری علاقوںمیں 50 فیصد سے زائد ایسے ادارے ہیں جو الکٹرانک ادائیگی قبول کرنے کے متحمل نہیں ہیں تو انہیں ادائیگی کس طرح کی جانی چاہئے؟ انہوںنے کہا کہ اس طرح کی کاروائیوں سے حکومت بینک کاری نظام کو خانگیانے کی کوشش کرہی ہے اور بینک میں جب اپنی رقومات جمع کروانے اور انہیں منہاء کروانے فیس ادا کرنی پڑے تو بینک نظام کا ہی فائدہ ہوگا ‘ عوام کا نہیں۔ محترمہ شاکرہ خانم نے کہا کہ ملازمین اپنے کھاتوںسے ضرورت کے مطابق رقومات منہاء کرتے ہیں اور اے ٹی ایم کی سہولت سے استفادہ کیا جاتا رہا ہے لیکن اب جبکہ اے ٹی ایم اور بینک کے ذریعہ منہا کرنے پر بھی تحدیدات عائد کردی جائیں گی تو ملازم طبقہ مجبوری میں مکمل تنخواہیں یکمشت منہا کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ حکومت کی مختلف اسکیمات سے استفادہ کرنے والے بالخصوص فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے طلبہ کے جو کھاتے کھلوائے گئے ہیں ان میں اقل ترین رقم جمع کرنے کی شرط نہیں ہے لیکن اب جو شرائط کا اطلاق کیا گیا ہے اس کے مطابق ان کھاتوں میں بھی کم از کم 5ہزار روپئے جمع رکھنے ہوں گے جبکہ حکومت کی جانب سے ابتدائی جماعتوں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کو اسکالر یا فیس باز ادائیگی میں اتنی رقم وصول نہیں ہوتی جتنی بینک کھاتے میں جمع رکھنی ہے۔ جناب محمد عبدالنعیم صدر اسکوپ فاؤنڈیشن نے اس طرح کے فیصلوں کو آمرانہ طرز حکمرانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلہ عوامی بغاوت کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ ان فیصلوں کا متوسط طبقہ پر منفی اثر پڑے گا اور چھوٹے تاجرین کے کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوجائیں گے کیونکہ جب حکومت نقد سے پاک لین دین کے فروغ کی بات کررہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں چھوٹے تاجرین کو نقصان پہنچایاجائے کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے وہ لوگ متاثر ہوں گے جن کے مکمل کاروبار کا انحصار نقد رقومات اور لین دین پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3لاکھ سے زائد کی معاملتوں کو نقد میں نہ کرنے کے احکام سے صرف بڑے تاجرین کو نقصان ہو رہا تھا لیکن اب جو کاروائی کی جارہی ہے اس سے چھوٹے تاجرین بھی شدید متاثر ہوں گے۔ مختلف تجارتی و صنعتی تنظیموں کی جانب سے ان فیصلوں کی مخالفت کی جانے لگی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ بینکوں کی جانب سے متعدد مرتبہ رقومات جمع کروانے اور منہاء کرنے پر فیس عائد کیا جانا عوام کو کالادھن جمع کرنے کی ترغیب دینے کے مترادف ثابت ہوگا کیونکہ لوگ جو رقومات بینک میں جمع کرتے تھے اب وہ رقومات اپنے پاس رکھنے پر غور کریں گے ۔ بینک سے نکالنے پر بھاری فیس کی ادائیگی کی جھنجھٹ سے بچنے وہ رقومات کو گھروں میں ہی جمع کرنے میں عافیت تصور کرینگے۔بینک معاملتوں پر فیس عائد کرنے کے فیصلہ سے دستبرداری کیلئے بڑے پیمانے پر احتجاج کی ضرورت کا اظہا ر کیا جانے لگا ہے کیونکہ اسی طرح خاموشی کی صورت میں مزید حالات ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT