Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بینکوں سے نقد کی عدم اجرائی پر کھاتہ داروں میں تشویش

بینکوں سے نقد کی عدم اجرائی پر کھاتہ داروں میں تشویش

جمع رقم نکالنے پر مجبور ، اے ٹی ایم میں رقم کی عدم موجودگی کا سلسلہ برقرار
حیدرآباد۔6اپریل (سیاست نیوز) بینکوں میں نقد کی عدم اجرائی عوام کیلئے باعث تشویش بنتی جا رہی ہے اور لوگ اپنے کھاتوں میں جمع جملہ رقم منہاء کرنے کیلئے مجبور ہونے لگے ہیں۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے کے بعد سے شہریو ںمیں پائی جانے والی بے چینی اب تک برقرار ہے۔ دنوں شہرو ںمیں آج بھی بیشتر اے ٹی ایم مراکز میں نقدی موجود نہیں ہے اور نقد منہاء کرنے کے لئے بینک پہنچنے والوں کو 2لاکھ سے زائد نقد کی ادائیگی کے متعلق بینک عہدیدار بہانہ کرنے لگے ہیں جو کہ عوام کو تشویش میں مبتلاء کرنے کا اہم سبب بننے لگا ہے۔ دونوں شہروں میں مختلف بینکوں سے رجوع ہونے والے کھاتہ داروں کی یہ عام شکایت ہوتی جا رہی ہے کہ انہیں ان کی مطلوبہ رقم منہاء کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے جو کہ ان کی اپنی جمع کردہ رقم ہے۔ کھاتہ داروں کا کہنا ہے کہ جب رقم بینک کھاتہ میں جمع کی جا چکی ہے تو اسے منہاء کرنے سے روکا جانا درست نہیں ہے لیکن بینک ملازمین منہائی کیلئے پہنچنے والے کھاتہ داروں کو کہہ رہے ہیں کہ بینک میں درکار نقد نہ ہونے کے سبب وہ نقد کی اجرائی سے قاصر ہیں جبکہ بینک ملازمین کا کہنا ہے کہ مختلف بینکوں کی جانب سے معاملتوں پر فیس عائد کئے جانے کے بعد جو کھاتہ دار بینک سے رجوع ہوا کرتے تھے ان میں بھی قابل لحاظ کمی دیکھی جا رہی ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ جو لوگ بینک کاری نظام سے خود کو مربوط رکھے ہوئے ہیں انہیں بحالت مجبوری بینک میں رقومات جمع کرواتے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ کھاتہ دارو ںمیں احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ انہیں بینک میں جمع رقم کی منہائی کے وقت مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے بہتر یہی ہے کہ بینکوں میں رقومات جمع نہ کروائی جائیں۔بینک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نقدی کے بغیر لین دین کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ان کوششوں میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومت کے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سب سے پہلے عوامی شعور درکار ہے لیکن عوام میں شعور اجاگر کئے بغیر عوام پر فیس اور جرمانوں کے فیصلہ مسلط کرتے ہوئے انہیں مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے سبب عوام بینک کاری نظام کو مستحکم کرنے کے بجائے بینک کاری نظام سے دور ہونے لگے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ کھاتہ داروں کو ان کی مطلوبہ رقومات کی اجرائی کو ممکن بنایا جائے جبکہ بعض بینکوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے 2لاکھ سے زائد کی معاملتوں کو نقد میں نہ کرنے کی پابندی عائد کردی ہے تو ایسی صورت میں بینک اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کس طرح رقومات جاری کرے؟ شہریو ںکا کہنا ہے کہ بجائے صورتحال کو گنجلگ بنانے کے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر بینکو ںکو ہدایت جاری کرے کہ کھاتہ داروں کی رقومات کی اجرائی میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT