Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / بینکوں میں طویل قطاریں، کئی اے ٹی ایمس خالی

بینکوں میں طویل قطاریں، کئی اے ٹی ایمس خالی

l رقم کی قلت پر غیرملکی حکومتیں برہم  l  ای ڈی کی 50 بینکوں کے ریکارڈ کی جانچ  l نوٹوں کی تنسیخ ایک مردہ
نومولود: کانگریس  l  105 ہلاکتوں کا سماج وادی پارٹی کا ادعا   l اور کتنی جانیں لوگے؟ ممتا بنرجی کا سوال

نئی دہلی ۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بینکوں کی تمام شاخوں پر طویل قطاریں دیکھی گئیں جبکہ بینک صارفین رقمی ضروریات کی تکمیل کیلئے جدوجہد کرتے دیکھے گئے۔ اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے ایک ماہ بعد بھی اکثر اے ٹی ایم نقد رقم سے خالی ہیں۔ ملک گیر سطح پر نقد رقم کی شدید قلت دیکھی جارہی ہے جس کی بناء پر آر بی آئی کے مقرر کردہ روزانہ 2000 روپئے کے اے ٹی ایمس سے حصول اور ہر ہفتہ 24 ہزار روپیوں کے حصول کی حد کی پابندی بھی ناممکن بن گئی ہے۔ تاہم آر بی آئی کا دعویٰ ہیکہ کافی تعداد میں نوٹ سربراہ کئے جارہے ہیں۔ ویانا کنونشن میں کئی ممالک بشمول روس، یوکرین، قازقستان اور دیگر کئی ممالک نے حکومت ہند کی جانب سے اعلیٰ مالیتی کرنسی کی تنسیخ پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔ ویانا میں ہندوستان کی جانب سے اعلیٰ مالیتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے موضوع پر ایک کنونشن منعقد کیا جارہا ہے جس میں تمام ممالک کے سفارتکاروں نے وزیراعظم نریندر مودی کے اس اچانک فیصلہ کی مذمت کی۔ سفارتی کور کے ٹیم نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ وزیرخارجہ سشماسوراج کو اس سلسلہ میں ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے  حکومت کے اس اقدام پر اپنی فکرمندی ظاہر کرچکے ہیں۔ کئی ممالک نے ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج درج کروانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ دریں اثناء انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے آج اپنی کارروائی کا آغاز کردیا اور 50 سے زائد بینکوں کے ریکارڈ کی جانچ شروع کردی۔ ای ڈی نے کہا کہ وہ ان بینک کھاتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جس میں نوٹوں کی تنسیخ کے بعد بھاری رقمیں جمع کروائی گئی ہے۔ اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی کی ترجمان سشمیتا دیو نے کہا کہ مرکزی معتمد مالیا ہسمکھ ادھیا اور آر بی آئی کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہیکہ کافی مقدار میں نئے نوٹ سربراہ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے نوٹوں کی تنسیخ کو حکومت کی مکمل طور پر ناکامی اور مردہ بچہ کی ولادت کے مماثل قرار دیا کیونکہ اس اقدام سے حکومت کے دعویٰ کے مطابق کالے دھن پر کوئی اثر نہیں مرتب ہوا۔ بریلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے آج دعویٰ کیا کہ اعلیٰ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ سے تاجر، کاشتکار اور غریب عوام بری طرح متاثر ہیں اور تاحال حکومت کے اس اقدام کے نتیجہ میں 105 ہلاکتیں واقع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالادھن رکھنے والوں پر حکومت کے اس اقدام کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے حکومت سے سوال کیاکہ وہ اور کتنی جانیں لے گی؟۔

TOPPOPULARRECENT