Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / بینکوں نے مسلمانوں کو صرف % 2 قرض جاری کیا

بینکوں نے مسلمانوں کو صرف % 2 قرض جاری کیا

ملک کی 15 فیصد آبادی کے ساتھ امتیازی رویہ ، مرکز کی چشم پوشی
ممبئی ۔ 14 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلمانوں کو قرض کی اجرائی کے معاملہ میں بینکوں کا معاندانہ رویہ سب پر عیاں ہے لیکن آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوال نے اعداد و شمار کے ذریعہ اس پر مہر ثبت کردی ہے۔ ممبئی کے ایک سماجی کارکن ایم اے خالد نے حق اطلاعات قانون کے تحت تقریباً نصف درجن بینکوں کی تفصیلات معلوم کیں اور ترجیحی شعبہ کے قرضہ جات کے معاملہ میں مسلمانوں کو سال 2014-15 اور سال 2015-16 میں 30 ستمبر تک صرف 2% قرضہ جات ایصال کئے گئے ۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ موجودہ این ڈی اے دور میں مسلمانوں کو مزید نظرانداز کیا گیاہے ۔ مسلمانوں کو قرضہ جات کے معامہ میں کوئی رہنمایانہ ہدایات نہیں ہیں لیکن بینکوںکا یہ ماننا ہے کہ مجموعی قرض کا 15 فیصد انھیں دیا جانا چاہئے کیونکہ 2011 ء مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی 14.2 فیصد ہے ۔ اس کے برعکس مسلم قائدین اور معاشی ماہرین کا یہ موقف ہے کہ مسلمانوں کو قرض 15 فیصد سے بھی زیادہ ہونا چاہئے ۔ ایم اے خالد جو پبلک سکٹر بینکس کی تفصیلات طلب کیں جن میں الٰہ آباد بینک کا حوصلہ افزاء رجحان رہا جہاں 31 مارچ 2015 ء تک اقلیتوں کو قرض 7.07% رہا اور 30 ستمبر تک یہ بڑھ کر 7.19% ہوگیا ۔ کارپوریشن بینک کا مظاہرہ بالکل برعکس رہا جس نے 1.90% فیصد مسلمانوں کو قرض جاری کئے ۔ اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو ترجیحی شعبہ میں زیادہ سے زیادہ قرض کیلئے کوئی ٹھوس کوششیں نہیں کی گئیں ۔ خالد نے کہا اس سے وزیراعظم نریندر مودی کا ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ‘‘ نعرہ کھوکھلا ثابت ہوچکا ہے ۔ دیگر بینکوں میں بینک آف مہاراشٹرا ، وجئے بینک اور آندھرا بینک بھی شامل ہیں۔ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ بینکوں نے مسلم آبادی والے علاقوں کو منفی یا ’’ریڈزون‘‘ قرار دیا ہے ۔کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں میں اکثریت خود روزگار سے وابستہ ہے اور قرضوں میں اضافہ سے ان کی معاشی حالات بہتر و مستحکم ہوسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT