Sunday , March 26 2017
Home / Top Stories / بینکوں کے نئے قواعد عوام کے لیے پریشان کن

بینکوں کے نئے قواعد عوام کے لیے پریشان کن

رقم جمع کرانے اور نکالنے پر پابندی ،جرمانے اور سرویس چارجس عائد کرنے کی تجویز
حیدرآباد۔6مارچ (سیاست نیوز) ملک میں کرنسی تنسیخ کے بعد سے لین دین اور بینکوں سے رقومات منہاء کرنے کیلئے نئے قوانین کا نفاذ عوام میں الجھن کا سبب بنا ہوا ہے اور نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کیلئے بینکوں نے رقومات جمع کروانے اور منہاء کرنے پر بھی فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے ایس بی اکاؤنٹ رکھنے والوں کیلئے تین معاملتوں کی حد مقرر کی گئی اور اس کے بعد رقم جمع کروانے یا منہاء کرنے پر فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایس بی آئی کے سیونگ بینک اکاؤنٹ رکھنے والوں کو تین مرتبہ رقم جمع کروانے پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی لیکن اس کے بعد جمع کروائی جانے والی رقومات پر 50روپئے اور سروس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ کے حامل کھاتہ داروں کو بھی تین معاملتیں مفت حاصل رہیں گی اور اس کے بعد نقد منہاء کرنے یا جمع کروانے پر فیس ادا کرنی ہوگی۔ یکم اپریل سے عائدکئے جانے والے ان قوانین کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ ملک کے بیشتر بینکوں نے فیس کی رقومات متعین کردی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے کھاتہ داروں کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ اپنے کھاتوں میں اقل ترین رقم رکھیں اقل ترین رقم نہ ہونے کی صورت میں بینک کی جانب سے کھاتہ داروں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مہینہ کے دوران ایس بی آئی کے علاوہ کسی بھی اے ٹی ایم سے رقم منہاء کئے جانے پر کوئی فیس عائد کی جائے گی جبکہ اس کے بعد ایس بی آئی کے علاوہ دیگر کسی بینک کے اے ٹی ایم سے رقم منہاء کرنے کی صورت میں فی معاملت 20روپئے وصول کئے جائیں گے۔ ایس بی آئی کے اے ٹی ایم سے کھاتہ دور کو 5مرتبہ رقم منہاء کرنے کی سہولت مفت حاصل رہے گی جبکہ5مرتبہ رقم کی منہائی کے بعد 6ویں مرتبہ سے 10روپئے فی معاملت چارج عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح 25000ہزار سے زائد کی رقم بینک میں رکھنے والے کھاتہ داروں سے اے ٹی ایم کے ذریعہ منہائی پر کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی اور ایک لاکھ سے زائد کی رقم کھاتہ میں رکھتے ہوئے ایس بی آئی یا کسی دیگر اے ٹی ایم کے استعمال کی صورت میں بھی کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ AXISبینک نے اپنے کھاتہ داروں کو ماہانہ 5معاملتوں کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں کھاتہ دار رقم جمع کرواسکتے ہیں یا منہاء کرسکتے ہیں لیکن اس کے بعد فی معاملت95روپئے اقل ترین فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اسی طرح کھاتہ دار کی بینک شاخ سے ہٹ کر کسی اور شاخ میں نقدی جمع کروانے کی صورت میں جو 50000سے متجاوز ہو ں وہ پانچ معاملتیں مفت ہوں گی جبکہ 6ویں معاملت سے 1000روپئے پر 2.5روپئے یا 95روپئے فی معاملت ادا کرنے ہوں گے۔ایچ ڈی ایف سی بینک نے 4مفت معاملتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد کی معاملتوں پر 150روپئے فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بینک نے کھاتہ دار کی شاخ سے ایک معاملت کے دوران 2لاکھ روپئے کی حد مقرر کی ہے اس سے زائد جمع کروانے یا منہاء کروانے کی صورت میں 1000روپئے پر 5روپئے یا 150روپئے فی معاملت وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آئی سی آئی سی آئی بینک نے ہر ماہ 4معاملتوں کو مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد کی ہر معاملت پر1000 روپئے پر 5روپئے وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کسی اور کی جانب سے رقومات کی منتقلی کی حد کو 50000روپئے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔بینک نے ہر ماہ کسی بھی جگہ سے مہینہ میں ایک مرتبہ نقد منہاء کرنے کی مفت سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے بعد کی ہر معاملت پر 150روپئے یا 1000روپئے پر 5روپئے کی فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ اندرون ایک ہفتہ دیگر بینکوں کی جانب سے بھی اسی طرح کی فیس عائد کرتے ہوئے اعلان کیا جائے گا اور اس طرح کی فیس عائد کئے جانے کے بعد نقد کے بغیر لین دین کو فروغ حاصل ہونے کے علاوہ بینکوں کی آمدنی میں اضافہ ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ملک میں موجود سرکاری ‘ خانگی‘ شیڈولڈ بینکوں کے علاوہ دیگر بینکوں میں اس پر یکم اپریل سے عمل آوری کی جائے گی جس کے ذریعہ بینک کاری نظام مستحکم ہوگا اور عوام کو اپنی رقومات جمع و منہاء کروانے کیلئے فیس ادا کرنی پڑے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT