Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بینک قرض کیلئے 1.5 لاکھ درخواستیں وصول

بینک قرض کیلئے 1.5 لاکھ درخواستیں وصول

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے 1000 درخواست گذاروں کو جاری کردہ پروسیڈنگ لیٹرس منسوخ
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے سبسیڈی و بینک قرض سے متعلق اسکیم کیلئے دیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں داخل کی گئی ہیں اور ان میں 8153 افراد کا انتخاب کرنا عہدیداروں کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ بینک لون و سبسیڈی اسکیم کیلئے درخواستیں داخل کرنے کی 15 مارچ آخری تاریخ تھی اور کارپوریشن کو ایک لاکھ 51ہزار 911 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ حکومت نے مالیاتی سال 2016-17کے بجٹ میں سبسیڈی اسکیم کیلئے 150کروڑ روپئے مختص کئے ہیں تاہم اب تک موصولہ درخواستوں کیلئے مجموعی سبسیڈی کی ضرورت 2700کروڑ ہے۔ اقلیتی بہبود اور فینانس کارپوریشن کے عہدیدار اہل درخواست گذاروں کے انتخاب کے سلسلہ میں اُلجھن کا شکار ہیں کیونکہ جو نشانہ مقرر کیا گیا ہے وہ موصولہ درخواستوں سے انتہائی کم ہے۔ اسی دوران کارپوریشن میں تقریباً 1000 درخواست گذاروں کو پروسیڈنگ لیٹرس جاری کردیئے گئے اور ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا۔ ایسے وقت جبکہ درخواستوں کے ادخال کا مرحلہ جاری تھا اور درخواستوں کی جانچ کا کام باقی ہے کس طرح عہدیداروں نے امیدواروں کو پروسیڈنگ لیٹرس جاری کردیئے جس کی بنیاد پر وہ متعلقہ بینک سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اندرونی افراد کی ملی بھگت سے یہ لیٹرس جاری کردیئے گئے جس کا مطلب امیدوار کا منتخب ہونا ہے۔ اسی دوران منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ نے اس معاملہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جاری کردہ تمام لیٹرس کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں جو بھی ذمہ دار پائے جائیں ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ منیجنگ ڈائرکٹر نے حیرت کا اظہار کیا کہ درخواستوں کی جانچ سے قبل کس طرح کسی امیدوار کو پروسیڈنگ لیٹر جاری کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ وہ کارپوریشن میں کسی بھی بدعنوانی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور عہدیدار کسی رتبہ کا کیوں نہ ہو اسے معطل کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام درخواستوں کی جانچ اور اہلیت کا پتہ چلانے کے بعد ہی منتخب امیدواروں کو کارپوریشن مکتوب جاری کرے گا۔ اس سے قبل بینکوں کو ٹارگٹ الاٹ کیا جائے گا۔ انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں شفیع اللہ نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت سے مشاورت جاری ہے۔ قرعہ اندازی یا پھر کمپیوٹرائزڈ سلیکشن میں سے کسی ایک طریقہ سے اہل امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قدر بڑی تعداد میں درخواستوں کی جانچ میں وقت لگ سکتا ہے۔ وہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ مقررہ ٹارگٹ میں اضافہ کیا جائے کیونکہ حکومت نے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کے اعتبار سے ہر ضلع کو رقمی کوٹہ مقرر کرتے ہوئے درخواستوں کی جانچ کا آغاز ہوگا۔ فی الوقت حکومت نے جو کوٹہ مقرر کیا ہے اس کے مطابق حیدرآباد میں داخل کی گئی 86,129 درخواستوں میں سے 3125 کا انتخاب کیا جانا ہے۔ رنگاریڈی میں 16948 امیدواروں میں سے 1132 کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع کے مقررہ کوٹہ میں عادل آباد 543 ، نظام آباد 709، کریم نگر 443، ورنگل 357، کھمم 287، نلگنڈہ 340، میدک 616 اور محبوب نگر601 شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT