Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بینک کھاتوں پر سائبر حملوں سے بچنے عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت

بینک کھاتوں پر سائبر حملوں سے بچنے عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت

فیس بک سے اے ٹی ایم تک رسائی ، سائبر جرائم کی دنیا میں روز بروز اضافہ
حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) بینک کھاتوں کو سائبر حملوں کے ذریعہ نشانہ بنانے والے مجرم کیسے کھاتوں تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں؟ سائبر دنیا جرائم کی وسیع ددنیا بنتی جا رہی ہے اور اس دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے کئی ایسے پسماندہ ممالک کے مجرم بھی کوشاں ہیں جن کی حالت سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس سائبر دنیا سے بہرہ ور ہوں گے کیونکہ ان ممالک کا شمار بھوک وافلاس میں مبتلاء ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ تو ہے عالمی سائبر دنیا کا نیٹ ورک جسے ختم کیا جانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اور اس صورتحال سے بچنے کیلئے صرف چوکنا رہنا ہی واحد راستہ ہے۔ اسی طرح معمولی سائبر مجرم جو تفصیلات یکجا کرتے ہوئے کھاتوں کو نشانہ بناتے ہیں ان کا طریقہ ٔ کار بہت آسان ہے اور اکثر اس میں فیس بک کے استعمال کی شکایات موصول ہوتی ہیں جہاں فیس بک اکاؤنٹ رکھنے والے اپنی مکمل نہ سہی اتنی تفصیلات تو رکھتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سائبر مجرمین ان کے کھاتوں تک بہ آسانی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ بینک اکائونٹ تک رسائی حاصل کرنے والے یہ ہیکرس ابتداء میں فیس بک پر موجود تاریخ پیدائش اور مکمل نام وغیرہ حاصل کرتے ہوئے ان کے صحیح ہونے کی جانچ کر لیتے ہیں اور جب اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ یہ تفصیلات درست ہیں تو وہ انکم ٹیکس کی ویب سائٹ پر موجود اس شخص کی تفصیل تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور پھر انہیں انکم ٹیکس کی ویب سائٹ کے ذریعہ درست موبائیل نمبر و پین کارڈ کی تفصیل حاصل ہوجاتی ہے جس کے ذریعہ وہ موبائیل کی گمشدگی کی شکایت درج کرواتے ہوئے پین کارڈ کی نقل جمع کرواتے ہوئے اسی نمبر کی ڈپلیکیٹ سم حاصل کرلیتے ہیں اور موبائیل کے قابل استعمال ہوتے ہی بینک کھاتہ پر ڈاکہ زنی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ وہ انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعہ اکاؤنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور جب پاسورڈ پوچھا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم پاسورڈ فراموش کر چکے ہیں اس کے ساتھ ہی حاصل کردہ موبائیل نمبر کے نئے سم کارڈ پر نیٹ بینکنگ کا نیا پاسورڈ بذریعہ ایس ایم ایس وصول ہوجاتا ہے اور اسی کے ساتھ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقومات کی منتقلی کا عمل شروع ہونے لگتا ہے۔ اس پورے عمل کے لئے ہیکرس کو ایک یا دو دن درکار ہوتے ہیں اور اس دوران مکمل رقومات کی منتقلی ایسے اکاؤنٹ میں لائی جاتی ہیں جن تک رسائی عہدیداروں کی بھی ممکن نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات یہ کھاتے بین الاقوامی ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT