Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / بین الاقوامی سطح پر جہادی طاقتوں کے عروج کے پس پردہ پاکستان

بین الاقوامی سطح پر جہادی طاقتوں کے عروج کے پس پردہ پاکستان

روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ کے ادارتی صفحہ پر مضمون کی اشاعت ‘ انتہا پسندوں کی قیادت کی سرپرستی کا الزام
نیویارک۔7فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے طاقتور  محکمہ سراغ رسانی نے  طویل مدت سے بین الاقوامی جہادی طاقتوں کے منتظم کا کام کیا ہے اور ممکن ہے کہ دولت اسلامیہ کے عروج کے پس پردہ بھی یہی پاکستانی محکمہ ہو ۔ امریکہ کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ کے بموجب پاکستان کی کئی غیر ملکی سڑکوں میں دخل اندازی پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے روزنامہ نے ان اقتباسات کی اہمیت اُجاگر کی جن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے طالبان کی جارحانہ کارروائیوں میں سہولت فراہم کی ہے ۔ روزنامہ نیویارک ٹائمز کے ادارتی صفحہ پر شائع شدہ مضمون میں کہا گیا ہے کہ یہ رویہ صرف افغانستان کیلئے ایک مسئلہ نہیں ہے ۔ پاکستان کئی غیر ملکی تنازعات میں ملوث ہے ۔ محکمہ سراغ رسانی طویل عرصہ سے بین الاقوامی جہادی طاقتوں کے منتظم کا کام کرتا رہا ہے جن میں سے بیشتر سنی انتہا پسند ہیں ۔ یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ ممکن ہے کہ پاکستان دولت اسلامیہ کے عروج میں بھی ملوث ہو ۔ کہا گیا ہے کہ حالانکہ پاکستان نے طالبان اور القاعدہ کی سرپرستی کی تردید کی ہے اور نشاندہی کی ہے کہ خود پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے ۔ کئی تجزیہ نگاروں نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کیسے فوج نے اسلامی عسکریت پسند گروپس کو پروان چڑھایا ہے اور انہیں قومی تحریکوں کو کچلنے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ خاص طور پر پختون اقلیت کو پاکستان میں اور بیرون ملک کچلنے کیلئے دہشت گرد طاقتوں کو پاکستان میں استعمال کیا ہے ۔ پاکستان افغانسان کو اپنا پچھواڑہ سمجھتا ہے اور اُس کا پختہ یقین ہے کہ وہ اپنے کٹر حریف ہندوستان کو افغانستان میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔

اس نے پختہ ارادہ کیاہے کہ پاکستان کو موقع موقع سے استعمال کرے گا ۔ ان کو مزید پروان چڑھانا اس کا ایجنڈہ ہے اور جو ایسا نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی اس نے پختہ کر رکھا ہے ۔ القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کے سلسلہ میں بھی پاکستان کا یہی رویہ ہے ۔ نیویارک ٹائمز کی شمالی افریقہ کی نامہ نگار کیرولوٹا گال نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ اطلاعات کے بموجب پاکستان کا دولت اسلامیہ کے عروج میں بھی ہاتھ رہا ہے  ۔ ممکن ہے کہ یہ بات حیران کن معلوم ہو کہ اس علاقہ کے تین پُرتشدد جہادی تنظیمیں علی الاعلان پاکستان میں قائم ہیں ۔ گال نے دہشت گرد قائدین کی فہرست پیش کی ہے جو آزادانہ طور پر پاکستان میں مقیم ہیں ۔ سرفہرست سراج الدین حقانی ہے جو حقانی نٹ ورک کے قائد اور طالبان کی قیادت میں دوسرے مقام پر ہے ۔ وہ پورے پاکستان کا آزادی کا دورہ کرتے ہیں ۔ پاکستانی محکمہ سراغ رسانی کے ہیڈ کوارٹرس برائے افغان مہم کابھی روالپنڈی میںدورہ کرچکے ہیں ۔ طالبان کے نئے قائد ملا اختر منصور علی الاعلان فوج اور مجلس قیادت سے پاکستانی قصبہ کوئٹہ کے قریب ملاقاتیں کرتے ہیں ۔ القاعدہ کے قائد ایمن الزواہری کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے ۔ تازہ ترین اطلاع کے بموجب وہ بلوچستان کے جنوب مغربی گوشہ میں پناہ گزین ہیں اور جنوبی افغانستان میں تربیتی کیمپس قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ نیویارک ٹائمز نے الزام عائد کیاہے کہ پاکستان کے دینی مدرسہ طویل مدت سے پاکستانی محکمہ سراغ رسانی کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ یہ مدرسے نسلی اقلیت کے افراد کو تربیت دیتے ہیں ۔ ان کے تربیتی ادارہ پختون قبائل کے مراکز ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT