Saturday , April 29 2017
Home / دنیا / بین الاقوامی طلباء کیلئے امیگریشن پالیسی میں تبدیلی ضروری

بین الاقوامی طلباء کیلئے امیگریشن پالیسی میں تبدیلی ضروری

لندن ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی یونیورسٹیوں نے حکومت سے خواہش کی ہیکہ اگر طلباء  کیلئے نئی امیگریشن پالیسی وضع کی جائے تو اس سے بین الاقوامی طلباء کو اپنی تعلیم کیلئے برطانیہ کا انتخاب کرنے میں آسانی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ ان کی  حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ یاد رہیکہ حالیہ دنوں میں جو سروے کیا گیا ہے اس میں بین الاقوامی طلباء کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ خصوصی طور پر ہندوستانی طلباء نے برطانیہ کا رخ کرنا بند کردیا ہے۔ اس موقع پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی مجلس ’’یونیورسٹیز یوکے‘‘ نے جاریہ ہفتہ اس معاملہ میں تشویش کا اظہار کیا کیونکہ طلباء کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ امیگریشن پالیسی کے سخت ہونے سے بین الاقوامی طلباء میں یہ غلط پیغام جارہا ہیکہ یو کے میں ان کا خیرمقدم نہیں ہوگا۔ اس موقع پر یونیورسٹیز یوکے کی صدر اور یونیورسٹی آف کنیٹ کی وائس چانسلر ڈیم جولیا گڈ فیلو نے بتایا کہ برطانیہ بین الاقوامی طلباء کو طویل مدتی مائیگرنٹس کی حیثیت سے دیکھتا ہے تاہم اس کے باوجود طلباء کی تعداد میں تخفیف کئے جانے کیلئے بھی زبردست دباؤ ہے جس سے طلباء میں یہ غلط پیغام جارہا ہے کہ وہ یوکے کو غیرمطلوب ہیں اور ان کا خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ تعلیمی مقاصد کیلئے بین الاقوامی طلباء کی پہلی منزل بننا چاہتا ہے تو امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کرنی ہوگی تاکہ بین الاقوامی طلباء اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ کا انتخاب کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT