Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ

بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ

حسرتِ دل کی تلافی کی یہی صورت ہے
آپ پوچھیں بھی تو انکار کئے جاؤں گا
بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ
ہیگ سے کام کرنے والی بین الاقوامی عدالت انصاف نے ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت پر حکم التوا جاری کردیا ہے ۔ عدالت نے پاکستان سے یہ بھی واضح طور پر کہا کہ اسے ہندوستان کو جادھو تک رسائی بھی دینی چاہئے ۔ عدالت نے ہندوستان کے اندیشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان جادھو کو اس کیس کی سماعت کی تکمیل اور قطعی فیصلے تک سزا پر عمل آوری روک دے ۔ پاکستان نے تاہم اس عدالت کے فیصلے کو وہ قبول نہیں کرتا اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہونچایا جائے گا ۔ عدالت نے حالانکہ اس معاملہ میں عبوری اقدامات سے متعلق ہی فیصلہ کیا ہے لیکن یہ بات طئے ہے کہ اس فیصلے کے نتیجہ میں جادھو کو سزائے موت سے بچانے کیلئے دوسرے قانونی طریقے اختیار کرنے کیلئے وقت مل جائے گا ۔ ہندوستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع ہوتے ہوئے کہا تھا کہ بارہا درخواست کے باوجود پاکستان نے ‘ جادھو تک رسائی کی اجازت نہیں دی ہے اور اسے اندیشہ ہے کہ عدالت کی جانب سے قطعی فیصلے سے قبل ہی اس کی سزا پر عمل آوری کردی جائے گی ایسے میں عدالت کو اس سزا پر حکم التوا جاری کرنا چاہئے ۔ عدالت نے ہندوستان کی دونوں ہی درخواستوں کو قبول کرلیا ہے اور پاکستان سے کہا کہ وہ وینا کنونشن پر عمل آوری کرتے ہوئے جادھو تک ہندوستان کو رسائی فراہم کرے اور اس کی سزائے موت پر تعمیل روک دی جائے ۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان نے جادھو تک قونصل جنرل کے ذریعہ رسائی فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے ۔ عدالت کے اس فیصلے سے ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی اور راحت ملی ہے ۔ اب اس کیس کی تفصیلی سماعت کے دوران کسی طرح کے اندیشے لاحق نہیں ہونگے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا ۔ اس کا سوال عدالت کے دائرہ کار سے متعلق بھی ہے ۔ پاکستان نے یہ ادعا کیا ہے کہ وہ کلبھوشن جادھو کے خلاف ٹھوس ثبوت عدالت میں فراہم کریگا ۔ وہ ابھی بھی اس معاملہ میں محض تنقیدوںاور الزام تراشیوں سے کام لے رہا ہے ۔
ہندوستان نے پاکستان پر بارہا زور دیا تھا کہ وہ جادھو تک رسائی فراہم کرے اور اس کے خلاف جو مقدمہ چلایا گیا تھا اس کا ثبوت بھی ہندوستان کے حوالے کیا جائے ۔ پاکستان نے ایسا نہیں کیا حالانکہ ایسا کرنا اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا ۔ اب پاکستان بین الاقوامی عدالت انصاف میں ثبوت پیش کرنے کی بات کر رہا ہے اور ہندوستان پر تنقیدیں کر رہا ہے ۔ در اصل یہ سفارتی شکست کی خفت کو مٹانے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے ۔ اگر واقعی اس کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ فوجی عدالت کی کارروائی کی تفصیلات سے ہندوستان کو واقف کروائے اور جو ثبوت فوجی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اسے بھی ہندوستان کے حوالے کیا جائے ۔ جادھو کس حال میں ہے اور اسے کہاں رکھا گیا ہے اس سے بھی واقف کروایا جائے اور ہندوستانی سفارتکاروں کو اس سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ یہ سب کچھ کرنا بین الاقوامی قوانین کے تحت ضروری ہے اور پاکستان اب تک اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ پاکستان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی نوعیت کے معاملات میں من مانی انداز میں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی اور نہ کسی مقدمہ کی کارروائی کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے ایک اچانک فیصلہ سنایا جاسکتا ہے ۔ دنیا میں بین الاقوامی قوانین موجود ہیں اور ان کی پاسداری ہر ملک کیلئے ضروری ہوتی ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر ثبوت و شواہد کی موجودگی پر ہی سوال اٹھ سکتے ہیں اور کلبھوشن جادھو کے مسئلہ میں پاکستان کے رویہ سے یہی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی عدالت انصاف کا جو فیصلہ آیا ہے وہ ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے اور ہندوستان نے موثر ڈھنگ سے اپنے کیس کو عدالت میں پیش کیا تھا ۔ اب جو اقدامات کی عدالت نے سفارش کی ہے ان کی تکمیل کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اسے کلبھوشن جادھو کے خلاف کوئی ثبوت و شواہد موجود ہوں تو اسے عدالت میں پیش کرنا چاہئے ۔ اس سے قبل یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ثبوت و شواہد ہندوستان کے بھی سپرد کئے جائیں۔ جادھو کے افراد خاندان اور ہندوستانی سفارتی ٹیم کو اس سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔ عالمی سطح پر مزید یکا و تنہا ہونے سے بچنے کیلئے پاکستان کو یہی ایک طریقہ اختیار کرنا ہوگا ۔ اگر ایسا کرنے سے انکار کیا جاتا ہے تو وہ پاکستان انصاف کے بین الاقوامی تقاضوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پا ئیگا ۔

TOPPOPULARRECENT