Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / بین ریاستی کونسل اجلاس

بین ریاستی کونسل اجلاس

کہاں بچ کر چلی اے فصل گل، مجھ آبلہ پا سے
مرے قدموں کی گلکاری بیاباں سے چمن تک ہے
بین ریاستی کونسل اجلاس
ریاستوں کے ساتھ مرکز کے تعلقات کو بہتر بنانے ریاستوں کے مسائل کی یکسوئی میں مالی تعاون کرنے اور فلاحی و بہبودی اسکیمات کو فروغ دینے سے متعلق امور پر غور و خوص کرنے کے لئے مرکز کی جانب سے بین ریاستی کونسل اجلاس منعقد کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی قریب میں یہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے جائزہ لینے کے بعد نریندر مودی نے بھی اپنے اقتدار کے پہلے سال میں ریاستوں کے چیف منسٹروں سے ایک پلیٹ فارم پر ملاقات کرنے سے گریز کیا تاہم گزشتہ دنوں دہلی میں منعقدہ بین ریاستی کونسل اجلاس میں مختلف ریاستوں کے چیف منسٹروں کی مجموعی رائے یہی تھی کہ ریاستوں کے ساتھ مرکز کا رویہ ہمدردانہ اور دوستانہ ہونا چاہئے لیکن مرکز کی حکمراں پارٹی کی اقتدار والی ریاستوں کو ہی مالی امداد جاری کرنے میں دلچسپی سے دیگر پارٹیوں کی حکمرانی والی ریاستوں کو جو شکایت پیدا ہوتی ہے اس کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی نے اگرچیکہ ریاستی چیف منسٹروں سے خواہش کی کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش چیلنجس سے نمٹنے کی کس طرح تیاری کی جانی چاہئے اس پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔ ملک کی داخلی سلامتی کو بہتر بنانے میں ریاستوں کا رول اہم ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے انٹلیجنس معلومات کو فراہم کرنے پر ریاستوں کو زور دیا تاکہ وقتاً فوقتاً داخلی سلامتی سے متعلق چیلنجس سے نمٹنے میں چوکسی اختیار کی جاسکے۔ ڈھائی سال قبل اقتدار حاصل کرنے والے نریندر مودی کو پہلی مرتبہ ایک شہ نشین پر چیف منسٹروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی کہ وفاقی تعاون کے بغیر مرکز کو اپنی مختلف اسکیمات اور پروگرام روبہ عمل لانے میں کامیابی نہیں ملتی۔ ریاست، مرکز قریبی تعاون سے ہی ایک مضبوط نظم و نسق فراہم کیا جاسکتا ہے۔ شہریوں کے بہتر مستقبل کے لئے مرکز ریاست تعلقات کو ایک خوشگوار سطح تک لے جانا ضروری ہے کوئی بھی حکومت اپنے بل پر ایک اسکیم کو کامیابی سے روبہ عمل نہیں لاسکتی۔ اس کے لئے ایک دوسرے کا تعاون لازمی ہے۔ مناسب مالیاتی وسائل کو متحرک کرنا اور انہیں دیگر مدات میں مشغول کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ عوام کے مفاد میں ہی اگر مرکز ریاست مل کر کام کرلیا تو بلاشبہ اچھے سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ مرکز سے ہر سال ریاستوں کو جو رقومات ملتی ہیں ان کا صحیح اور راست مصرف ہو تو عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس کانفرنس میں مختلف ریاستوں کے چیف منسٹروں نے اپنی اپنی رائے تجاویز پیش کی۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر رائو اگرچیکہ کانفرنس میں شریک تھے لیکن ناسازی مزاج کی وجہ سے وہ درست نمائندگی نہیں کرسکے البتہ ان کی تجاویز اور مشوروں کو چیف سکریٹری نے مرکز تک پہونچایا۔ چیف منسٹر کی یہ تجویز کہ اس طرح کا بین ریاستی کونسل کو اہم ترین فورم سمجھ کر مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون کے جذبہ کو فروغ دینا چاہئے تاکہ ایک مضبوط وفاقی ڈھانچہ کے ساتھ ملک کی معاشی ترقی کو یقینی بناکر مضبوط اور خوشحال معاشرہ فروغ دیا جاسکے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ چیف منسٹر نے ریاستوں کے حق میں مرکز کے رویہ کی درست نشاندہی کی اور فنڈس کی اجرائی میں کوتاہی سے گریز کرنے پر زور دیا۔ ریاستوں پر پڑھنے والے مالیاتی بوجھ کو کم کرنے کے لئے ریاستوں کی شکایت کی سماعت مرکز کی ذمہ داری ہے۔ مرکز کی جانب سے شروع کردہ بعض اسکیمات پر فنڈس کی عدم اجرائی کے باعث عمل آوری نہیں ہوئی جیسا کہ ماڈل اسکولس کے قیام کے لئے مرکز نے اسکیم تیار کی لیکن فنڈس کی کمی کے باعث یہ اسکیم ادھوری رہ گئی۔ بعض معاملوں میں مرکز۔ریاست تنازعات طول اختیار کر جاتے ہیں جس سے ہر دو جانب ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں پنچھی کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے مرکز۔ریاست تنازعات کی کم وقت میں ہی یکسوئی کرلی جائے تو ترقیاتی کام بروقت انجام دینے میں مدد ملے گی۔ مرکز کے حق تعلیم قانون کو روبہ عمل لانے کے لئے ریاست تلنگانہ سالانہ 300 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے لیکن جن دیگر مرکزی اسکیمات کے فنڈس کی عدم اجرائی کا سوال ہے اس پر توجہ دینا مرکز کا کام ہے۔ اکثر دیکھا جارہا ہے کہ مرکز نے جس اسکیم کا اعلان کیا اور اس پر ابتدائی عمل آوری ہونے کے بعد اسکیم بند کردی جاتی ہے تو اس ابتدائی اقدامات کے لئے ریاست نے جو رقومات خرچ کئے ہیں اس کی مرکز سے پابجائی نہیں ہوتی اور ریاستی خزانہ پر زائد بوجھ پڑنے کی شکایت پیدا ہوتی ہے ۔ ایسی شکایت کا ازالہ کرکے ریاستوں کو مالی طور پر پریشان ہونے سے گریز کرنا بھی مرکز کا اخلاقی فرض ہوتا ہے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھررائو نے اس اجلاس میں نئی ریاست تلنگانہ کی ضرورتوں اور تقاضوں کو پیش کرنے کی کوشش کی تاہم آندھراپردیش ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ کو موثر طور پر پیش نہیں کیا جس پر اپوزیشن کی شدید شکایت غور طلب ہے۔

TOPPOPULARRECENT