Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / بیوروکریٹس اور آئی پی ایس عہدیداروں میں تشویش کی لہر

بیوروکریٹس اور آئی پی ایس عہدیداروں میں تشویش کی لہر

وقت مقررہ میں جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر ، مرکزی حکومت کے نئے احکامات
حیدرآباد ۔ /26 مئی (سیاست نیوز) جائیدادوںکی تفصیلات کے متعلق عام شہری ہی نہیں بلکہ بیورو کریٹس بھی پس و پیش کا شکار ہوتے ہیں ؟ جائیداد کی تفصیل اور حصول جائیداد کے وسائل کو پیش کرنا ضروری و لازم ہوتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ کے تقریباً 90 فیصد آئی پی ایس عہدیداروں نے اپنی جائیدادوں کی تفصیلات کو پیش نہیں کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر سال آئی پی ایس عہدیداروں کو اپنی آمدنی کی تفصیلات ڈپارٹمنٹ کو پیش کرنی پڑتی ہے ۔ اور /31 ڈسمبر تک ان تفصیلات کو باضابطہ پیش کیا جانا پڑتا ہے جس کے بعد انہیں ویجیلنس کی جانب سے کلیرنس دیا جاتا ہے ۔ تاہم اس سال 90 فیصد عہدیدار اپنی جائیداد کی تفصیلات پیش نہیں کرپائے ۔ اس دوران عہدیداروں کی الجھن میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب مرکزی معتمد داخلہ نے ایک پیغام جاری کردیا کہ اب کسی بھی تفصیل کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ چونکہ سال 2016 ء کا وقت ہوچکا ہے ۔ ایسے میں عہدیداروں کی الجھنیں بڑھ گیئں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذریعہ آمدنی کے لحاظ سے جائیداد کا تخمینہ اور اس کی مالی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ تاہم جائیداد کو تیار کرنے میں کن وسائل کا استعمال کیا گیا اور آخر دولت آئی تو کہاں سے اس کی تفصیل بھی ان عہدیداروں کو پیش کرنا پڑتی ہے ۔ ویجیلنس کی جانب سے حاصل کلیرنس سرویس ریکارڈ میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ دیگر صورت سرویس ریکارڈ میں ریمارک کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ مرکزی معتمد داخلہ کے پیام میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اب ایک نیا رول بنایا جارہا ہے ۔ یکم ڈسمبر 2016 ء کے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اب کوئی بھی اپنے ریٹرنس داخل نہیں کرے گا چونکہ اب نیا رول فریم تیار کیا جارہا ہے ۔ تاہم اس رول فریم کے خدوخال کو بیان نہیں کیا گیا ۔ عہدیداروں کی ایسی جائیدادیں جو غیر مستقل و نقل مقام نہیں کی جاسکتی ۔ معتمد داخلہ مسٹر مکیش ساہنی نے /13 ڈسمبر کے دن جاری کردہ اپنے ایک خط میں جو ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور ڈی سی پیز کو جاری کیا گیا تھا یہ بات بتائی گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT