Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / بیوروکریٹس سیاسی آقاؤں کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں

بیوروکریٹس سیاسی آقاؤں کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں

غیر جانبداری کے ساتھ ملک کی بہتری کیلئے کام کرتے رہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا خطاب
نئی دہلی 20 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راجح ناتھ سنگھ نے آج بیوروکریٹس سے کہا کہ وہ اپنے سیاسی آقاوں کی غلط کاریوں کے خلاف کھڑے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ سیول سرونٹس کو چاہئے کہ وہ ملک کے مفاد اور عوام کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں مسلسل کام کرتے رہیں۔ سیول سروسیس ڈے کے افتتاحی سشن میں خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ سیول سرونٹس کو چاہئے کہ وہ کسی بھی مسئلہ کا حل دریافت کرنے کا حصہ بنیں اور کسی مسئلہ کی وجہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیای ذمہ دار کی جانب سے غلط احکام جاری کئے جاتے ہیں تو انہیں قوانین سمجھانے میں خوف محسوس نہیں کیا جانا چاہئے ۔ سیاسی ذمہ داریوں سے کہا جانا چاہئے کہ وہ قانونی طور پر غلط ہیں ۔ ایسی فائیلوں پر دستخط نہ کئے جائیں۔ ہاں میں ہاں نہ ملائیے ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اپنے ضمیر سے دھوکہ نہ کریں۔ اس تقریب میں بیشتر آئی اے ایس اوردوسری آل انڈیا خدمات سے متعلق عہدیداروں نے شرکت کی ۔ سماج میں تبدیلیاں لانے میں بیوروکریٹس کے رول کی ستائش کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملازمت ایک عہدیدار کو ذمہ دار ‘ جواب دہ اور غیر جانبدار بناتی ہے ۔ سیول سروسیس میں اختیارات ہیں لیکن اس اختیار کے ساتھ بھاری ذمہ داری آتی ہے ‘ جوابدہی ضروری ہوتی ہے ۔ ہم کو چاہئے کہ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ ذمہ داری اور جوابدہی کے ساتھ غیر جانبداری بھی سیول سرویس کا تیسرا اہم ترین پہلو ہے ۔ غیر جانبداری کے فقدان سے آپ عہدیداروں کی فیصلہ کرنے کیصلاحیت متاثر ہوسکتی ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں کبھی کوئی خلا نہیں رہا اور یہ اتنے برسوں سے تسلسل کے ساتھ برقرار رہی ہے اور سیول سرونٹس نے اس تواتر کی برقراری میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی کامیابی کی اہم وجوہات میں یہی انتظامی تسلسل اور تواتر ایک اہم وجہ رہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے ایسے عہدیداروں پر تنقید کی جو فیصلے کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پس و پیش سے ملک کے مفادات متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضروری ہوجائے تو سینئر عہدیداروں کے ساتھ مشاورت اور تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے لیکن فیصلے کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت نے جن دھن ‘ آدھار اور مبائیل رابطوں کے ذریعہ بہتر حکمرانی کو اسمارٹ حکمرانی میں تبدیل کرنے کی پہل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT