Sunday , October 22 2017
Home / آپ کے سوال / بیوہ بتاکر دوسری شادی کرنا

بیوہ بتاکر دوسری شادی کرنا

سوال :  زید جدہ میں مقیم تھے اور ان کی بیوی زینب حیدرآباد میں مقیم تھی اور وہ اپنی بیوی سے برابر ربط رکھے ہوئے تھے اور متفرق اوقات میں نان و نفقہ کے لئے کبھی کم کبھی زیادہ رقم بھی روانہ کر رہے تھے لیکن زینب نے غلط باور کراکر کہ اس کے شوہر کی وفات ہوچکی ہے، دوسرا نکاح کسی اور فرد سے کرلیا ہے ، اب زینب کا وکیل زید پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے۔ زینب کو زید سے دو لڑکے 12 سالہ اور 5 سالہ ہیں جو زینب کے پاس مقیم ہیں اور وہ مذکورہ دونوں لڑکوں کا نان و نفقہ طلب کر رہی ہے ۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
مدثر خان، دبیر پورہ
جواب :  زینب نے اپنے زندہ وبا حیات شوہر زید کو مردہ بتاکر جو نکاح کرلیا ہے وہ سخت گناہ گار ہے اور غلط باور کرواکر دوسرے فرد سے نکاح کرلینے سے نہ صرف یہ کہ یہ نکاح منعقد نہیں ہوا بلکہ وہ زنا کی مرتکبہ ہے ۔ شوہر ثانی نے یہ حقیقت جانتے ہوئے اگر نکاح کیا ہے اور صحبت کی ہے تو وہ بھی مرتکب زنا ہے۔ عالمگیری جلد اول ص : 380 میں ہے ۔ لایجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ ۔ مذکورہ کتاب کے ص : 533 میں ہے ۔ واما المطلقۃ ثلاثا اذا جامعھا زوجھا فی العدۃ مع علمہ انھا حرام علیہ ومع اقرارہ بالحرمۃ لا تستانف العدۃ و لکن یرجم الزوج والمرأۃ کذلک۔
پس زینب زید کی ہی بیوی ہے ۔ دوسرے فرد نے جو زینب سے نکاح کیا ہے وہ جائز نہیں اس لئے اس دوسرے فرد کو زینب سے فوری علحدگی اختیار کرلینا شرعاً لازم ہے۔ زینب کے وکیل کا زید پر طلاق دینے کا دباؤ ڈالنا درست نہیں ہے ۔ زید مختار ہے چاہے طلاق دے یا نہ دے۔ زینب سے جو لڑکا زید کو بارہ سال کی عمر کا ہے ، وہ اپنی ماں کے ساتھ رہنے کا مجاز نہیں۔ شریعت نے اس کو اس کا اختیار نہیں دیا بلکہ وہ اپنے والد کے پاس رہے گا ۔ در مختار باب الحضانۃ میں ہے (قولہ ولا خیار للولد عندنا مطلقا) ای اذا بلغ السن الذی ینزع من الام یاخذہ الاب ولا اختیار للصغیرلا نہ لقصور عقلہ یختار من عندہ للعب وقد صح ان الصحابۃ لم یخیروا۔ البتہ 5 سالہ لڑکا ، سات سال کی عمر تک اپنی ماں کے پاس رہے گا ۔ مذکورہ کتاب کے اسی باب میں ہے۔ (والحاضنۃ) اما او غیر ھا (احق بہ) ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع و بہ یفتی مذکورہ پانچ سالہ لڑکے کے اخراجات اس کے والد پر شرعاً لازم رہیں گے ۔

موقوفہ جائیداد مارکٹ سے کم قیمت پر کرایہ دینا
سوال :  زید موقوفہ جائیداد کا کرایہ دار ہے اور برسہا برس سے اس میں اضافہ کرتے ہوئے بہ پابندی ادائی کر رہا ہے ۔ واضح ہو کہ واقف نے یتیموں کے ادارہ کے قیام کے ساتھ ایک سوسائٹی باضابطہ رجسٹرڈ کرواکر سوسائٹی کے ذریعہ اس ادارہ کے انتظامات تفویض کیا چنانچہ موجودہ منظورہ متولی صاحب بہ اعتبار عہدہ اس سوسائٹی کے معتمد بھی ہیں۔  موجودہ حالات کا لحاظ کرتے ہوئے کرایہ دار زید موجودہ کرایہ میں پانچ گنا اضافہ کرنے پر رضامند ہے۔ تو کیا متولی یا سوسائٹی سابقہ کرایہ دار سے ہٹ کر دوسرے کو کرایہ دار بناسکتے ہیں ؟ کیا شریعت میں موقوفہ جائیداد کے کرایہ کی کوئی حد یا شرح مقرر ہے یا بہ اعتبار حالات متولی یا کمیٹی اور کرایہ دار آپس میں طئے کرلینے کے مجاز ہیں ؟
محمد سبحان شریف
جواب :  شرعاً موقوفہ جائیداد کو محل وقوع کے لحاظ سے آس پاس کی جائیدادوں کے مماثل کرایہ پر دیا جانا چاہئے۔ تاہم متولی یا کمیٹی کچھ کم میں دے تو غبن فاحش نہ ہونے کی صورت میں درست ہے ۔ ورنہ کرایہ مثل پر لازماً دینا ہوگا۔ اگر کرایہ مثل سے زائد کرایہ رکھا جارہا ہے اور سابقہ کرایہ دار اس زیادتی کو قبول کرکے ادائی پر راضی ہے تو پھر شرعاً کسی دوسرے شخص کے مقابل سابقہ کرایہ دار ہی مستحق ہے۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 3 کتاب الوقف ص : 436 میں ہے ۔ (و یؤجر بأجر المثل ) ف (لا) یجوز بالأقل ) ولو ھوا لمستحق قاریٔ الھدایۃ الا بنقصان یسیر… (ولو زاد) اجرہ (علی اجر مثلہ قیل یعقد ثانیا بہ علی الأصح) … (والمستأجر الأول أولی من غیرہ اذا قبل الزیادۃ) اور رد المحتار میں ہے (قولہ فلا یجوز بالأقل) أی لایصحح اذا کان بغبن فاحش۔

درود شریف کی محفل
سوال :  ہم لوگ ہر اتوار کو مغرب تا عشاء گھر میں درود شریف کی محفل منعقد کرتے ہیں ۔ چند لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کی محفل شرعی لحاظ سے درست نہیں۔
آپ سے خواہش ہے کہ آپ ہی واضح کریں کہ ہمارا عمل ازروئے شرع درست ہے یا نہیں ؟
عبدالواسع، مراد نگر
جواب :  آیت قرانی  یایھالذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما (سورۃ الاحزاب 56/33 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو) کی رو سے درود و سلام گزارنے کا حکم مطلق اور عام ہے ۔ انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر دونوں طریقوں سے درود و سلام گزراننا شرعاً درست ہے اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔
اس لئے گھر میں درود شریف کی محفل کو غیر شرعی کہنا شرعاً درست نہیں۔

قرض سے نجات کی مجرب دعا
سوال :  میں بیوی بچے والا ہوں ، اور مقروض ہوں، کافی کوشش کرنے کے باوجود بھی میرا قرض ادا نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے میری ہمت ٹوٹتی جارہی ہے ۔ آپ سے التجا ہے کہ کوئی موثر دعا کی رہنمائی فرمائے تاکہ اس کی برکت سے مجھے اس جان لیوا قرض سے نجات نصیب ہو۔
نام مخفی
جواب :  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی رسولؓ کو قرض سے نجات کیلئے ایک جامع دعاء کی تعلیم دی اور فرمایا : اگر تم پر احد کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ ادا فرمادے گا۔
اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَاْء وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَائُ بِیَدکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَئی قَدِیر تُولِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَ تُولِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَ تُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَائُ بِغَیْرِ حِسَاب رَحْمٰنَ الدُّنیا وَالآخِرَۃِ وَ رَحِیْمَھُمَا تُعْطِی مَنْ تَشَائُ وَ تَمْنَعُ مَنْ تَشَائُ اِرْحَمْنِی رَحْمَۃً تَْغنِیْنِی بِھَا عَنْ رَحْمَۃِ مَنْ سِوَاکَ اَللّٰھُمَّ اَغْنِنِی مِنَ الْفَقرِ وَ اقْض عَنِّی الدَّیْنَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! تو ہی کل بادشاہت کا مالک ہے ۔ جسے چاہتا ہے بادشاہت عطا فرماتاہے اور جس سے چاہے ملک چھین لیتا ہے جس کو چاہتا ہے عزت سے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے ۔ پس تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے تو ہر چیز پر قادر ہے ، تو ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے ۔ اے دنیا اور آخرت میں خوب رحم فرمانے والے نہایت مہربانی فرمانے والے تو جس کو چاہے عطا کردے اور جس کو چاہے منع کردے تو مجھ پر ایسی رحمت نازل فرما جو مجھے تیرے سوا دوسروں کی مہربانی سے بے نیاز کردے ۔ اے اللہ مجھے فقر سے بے نیاز کردے اور میری طرف سے قرض ادا کردے ( طبرانی ، مجمع الزوائد کتاب الادعیتہ)
حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی أعُؤذُبِکَ مِن غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ غَلَبَۃ العَدُوِّ وَ شِمَاتَۃِ الْاَاعْدَائِ
اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، قرض کے غلبہ سے اور دشمن کے طلب سے اور دشمن کی ہنسی سے۔ (سنن نسائی ، کتاب الاستعاذۃ باب الاستعاذۃ من غلبہ العدو۔)

امامت کی اہلیت
سوال :   شرائط امامت کیا ہیں ؟ کونسا شخص امامت کرسکتا ہے ؟
نام …
جواب :   شرعاً ایسے شحص کی امامت درست ہے جو تمام شرائط صحت نماز کا جامع ہو۔ یعنی مسلم ہو، عاقل ہو ، بالغ ہو، طہارت وضوء ، غسل، شرعی طریقہ سے انجام دیتا ہو، صحیح الاعتقاد ہو، تلاوت قرآن صحیح تجویدکے موافق کرتا ہو، احکام صلاۃ فرائض واجبات سنن و مفسداتِ نماز سے واقف ہو ، ہیئت اسلامی و سنن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ہو ۔ فاسق و فاجر معلن یعنی علانیہ احکام شریعت و سنن کی خلاف ورزی کرنے والا نہ ہو، نیز اخلاق ذمیمہ کا مرتکب نہ ہو۔
جیسا کہ تنویر الابصار میں ہے : اعلم باحکام الصلوۃ ثم الاحسن تلاوۃ و تجوید اللقرأۃ ثم الاورع ای اکثر اتقا ء للشبھات … ثم الاحسن خلقا … عالمگیری جلد اول باب الامامۃ میں ہے ۔ و یجتنب الفواحش الظاہرۃ۔

پرانی قبر میں دوبارہ تدفین
سوال :   عرض کرنا یہ ہے کہ میں ادارہ سیاست کی ہدایت پر نہ معلوم مسلم نعشوں کی تدفین کرتا ہوں۔ مختلف قبرستانوں میں تدفین کی گئی جن کی تعداد ہزار سے زائد ہوگئی اور اب جس قبرستان میں جگہ دی گئی ہے وہ بھی نا کافی ہورہی ہے۔ اگر ایک بڑی قبر کھودی جائے اور اس کے دو طرف دو نعشوں کو رکھ کر ہر نعش پر بغلی پتھر ڈھانپ دیا جائے تو کیا یہ عمل درست ہوگا ۔ اس سلسلہ میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں ؟
(2  عرض کرنا یہ ہے کہ ایک پرانی قبر میں دوبارہ کب تدفین کی جاسکتی ہے ؟
سیدزاہد ، حیدرآباد
جواب :  بلا ضرورت ایک قبر میں ایک سے زائد میت کی تدفین نہیں کرنی چاہئے۔ ہاں اگر جگہ کی تنگی یا کسی ضرورت کی بناء ایک قبر میں ایک سے زائد میت کی تدفین ناگزیر ہو تو اس کی اجازت ہے ۔ قبلہ سے متصل مرد پھر بچہ پھر مخنث پھر عورت کی میت رکھی جائے اور ہر میت کے درمیان میں تفریق کے لئے چھوٹی دیوار بنائی جائے ۔ عالمگیری جلد اول ص : 166 میں ہے : ولا یدفن اثنان اوثلاثۃ فی قبرو احد الا عندالحاجۃ فیوضع الرجل ممایلی القبلۃ ثم خلفہ الغلام ثم خلفہ الخنثی ثم خلفہ المرأۃ و یجعل بین کل میتین حا جزمن التراب۔
لہذا بوقت ضرورت ایک کشادہ قبر میں ایک سے زائد میت کی تدفین بغلی پتھر کے ساتھ درست ہے۔
(2  قبر اگر اس قدر پرانی ہے کہ اس کے مردے کی ہڈیوں کا گل کر مٹی ہوجانے کا یقین ہے تو ایسی حالت میں اس قبر کو کھول کر نیا مردہ اس میں دفن کرسکتے ہیں۔ اگر کھولنے کے بعد اس میں ہڈیاں نکل آئیں تو چاہئے کہ ان کو ایک جگہ جمع کر کے نئے مردے اور ان  ہڈیوں کے درمیان مٹی کی روک بنا دیجائے ۔

TOPPOPULARRECENT