Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیوی کا شوہر کے بلانے پراسکے گھر نہ جانا نافرمانی ہے

بیوی کا شوہر کے بلانے پراسکے گھر نہ جانا نافرمانی ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کی زوجہ ہندہ تقریبا ایک سال سے اپنے میکے میں ہی قیام پذیر ہے۔ بارہا شوہر کے بلانے پر اسکے گھر نہ آتے ہوئے چندمطالبات رکھی ہے۔
۱۔ شوہر کے والدین سے علحدہ مکان میں رکھے۔
۲۔ماہانہ خرچ کے لئے کثیررقم دیں۔ اسکے علاوہ مزید شرائط رکھی۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: ۱۔ ہندہ بلااجازت شوہر ، شوہر کے گھر سے چلے جانے اور بلانے پر بھی نہ آنے سے وہ ناشزہ (نافرمان) ہے، شوہر کے گھر واپسی تک شوہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب النفقات ص ۵۴۵ میں ہے: وان نشزت فلانفقۃ لھا حتی تعود الی منزلہ والناشزۃ ھی الخارجۃ عن منزل زوجھا المانعۃ نفسھا منہ۔
۲۔ ماں باپ کے گھر میں علحدہ ایسا کمرہ، جس میں اسکے رہنے اور اسکے اسباب کی حفاظت کیلئے ایسی مستقل جگہ ہو کہ جہاں ساس، سسر کا دخل نہ ہو تو اسکو علحدہ گھر طلب کرنے کا حق نہیں ہے، ورنہ اس کامطالبہ درست ہے۔ فتاوی عالگیری جلد اول فصل فی السکنی ص ۵۵۶ میں ہے: امرأۃ أبت أن تسکن مع ضرتھا أو مع أحمائھا کامہ وغیرھا فان کان فی الدار بیوت و فرّغ لھا بیتا و جعل لبیتھا غلقا علی حدۃ لیس لھا أن تطلب من الزوج بیتا آخر فان لم یکن فیھا الابیت واحد فلھا ذلک۔
کسی مسلمان کا کفر ثابت نہ ہوتو وہ مسلمان ہی ہوگا
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنامی شخص نے غیرمسلم عورت کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے نکاح کیا، بعدازاں وہ مرتدہ ہوگئی۔ اس کے باوجود دونوں علی حالہٖ زندگی بسرکئے۔ شوہر شرابی تھا۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ روزہ دار و نمازی بھی تھا۔ اس نے خودکشی کرکے جان دیدی۔
کیا شرعًا ایسے شخص کی نمازجنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کی تدفین کرنا درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
جواب: بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں زیدنامی شخص کا بیوی مرتدہ ہونے کے بعداسکے ساتھ زندگی گذارنا، شراب نوشی کرنا اور خودکشی کرکے جان دینا سب حرام و ناجائز امور ہیں۔ اگر اُس نے کوئی کفر نہیں کیا ہے، تو وہ مسلمان ہوگا۔ اور اسکی نمازجنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کی طرح سلوک کرتے ہوئے، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا تمام مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے۔ اگر کوئی بھی اس کی نمازجنازہ نہ پڑھے اور تدفین نہ کرے تو اس علاقہ کے تمام مسلمان گنہگار ہونگے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول فصل فی الصلاۃ علی المیت ص ۱۶۲ میں ہے: الصلاۃ علی الجنائز فرض کفایۃ اذا قام بہ البعض واحدا کان أو جماعۃ ذکرا کان أو انثی سقط عن الباقین واذا ترک الکل اثم وھکذا فی التتارخانیۃ … وشرطھا اسلام المیت ۔ اور ص ۱۶۳ میں ہے: ومن قتل نفسہ عمدا یصلی علیہ عندأبی حنیفۃ و محمدرحمہما اﷲ وھو الأصح کذا فی التبیین و من قتل بحق بسلاح أو غیرہ کما فی القود و الرجیم یغسل و یصلی علیہ و یصنع بہ ما یصنع بالموتی کذا فی الذخیرۃ۔
فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT