Sunday , April 30 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیٹیاں ۔اللہ سبحانہ کی رحمت

بیٹیاں ۔اللہ سبحانہ کی رحمت

نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہﷺ کی بعثت مبارکہ سے ساری انسانیت کیلئے رحمت کا سائبان سایہ افگن ہو گیا ،مظلوم انسانیت کی جس سے ڈھارس بندہی، ظلم وستم کی تاریک راتوں کے بعدپیارومحبت ،عدل وانصاف کی روشن صبح امیدطلوع ہوگئی۔لڑکیاں جوسخت بے رحمی ودرندگی کا شکارتھیں انکوبھی رحمتوں کا سہارا ملاجوبرسوں سے ظلم کی چکی میں پس رہی تھیں اورناکردہ جرم کی پاداش میں زندہ درگورکی جارہی تھیں ، اب وہ بے یارومددگارنہیں رہی تھیں بلکہ انکی حامی ومددگاراورانکوپناہ دینے والی اللہ کی محبوب ہستی سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکی دنیا میں تشریف آوری ہوگئی تھی۔آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ سے قبل پتھردلی قساوت قلبی کی ایسی دردناک داستانیں صفحہ ہستی پر رقم ہوچکی تھیں جوایک رحم دل انسان کو خون کے آنسورلائے بغیرنہیں رہ سکتی تھیں ، سمندوں سے پانی کی لہروں کے بجائے آگ کے شعلے لپک رہے ہوں تواس قدرتعجب خیزنہیں جتنا کہ انسان کا پتھردل ہوجانا ،بے رحمی وشقاوت میں درندوں کو بھی پیچھے چھوڑدینا اوراپنی ہی پیاری پیاری آنکھوں کی دلاری بیٹیوں کو زندہ درگورکردینا اورانکی جان کے درپئیے ہو جانا انتہائی تعجب خیز ہے۔دورجاہلیت اسی طرح کی قبیح، بزدلانہ وسنگ دلانہ رسوم ورواج پر مشتمل غیرانسانی معاشرہ تھا جہاں صرف جنگل کا قانون رائج تھا۔ان میں سے اکثرانسانی اخلاق وکردارسے ایسے عاری ہوگئے تھے کہ انکو اپنے سیا ہ کرتوت پر نہ کوئی پشیمانی ہواکرتی تھی نہ انکے دل رنج وغم میں مبتلا ہوتے تھے۔ظلم ڈھاتے اوراپنی ہی لخت جگرکا گلاگھونٹتے نہ ان کا دل پسیجتا ، نہ تو ان کی پلکیں نم ہوتیں۔ایک صحابی ہمیشہ مغموم رہا کرتے تھے ،اس بارے میں حضور انور ﷺنے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ دورجاہلیت میں مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوا کہ ڈرتاہوں کہیں اللہ سبحانہ اسلام لانے کے باوجود میری مغفرت نہ فرمائے ۔واقعہ یہ ہے کہ دورجاہلیت میں ہم بتوں کو پوجتے اوراپنی بچیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے،کہنے لگے میری بھی ایک بیٹی تھی جب میں اسے بلاتا تووہ خوشی خوشی میرے ہاں چلی آتی ،ایک دن میرے جی میں آیا کہ کیوں نہ آج اس کا کام تمام کردوں، اس خیال کا آنا تھاکہ میں اسے اپنے ساتھ لیے ایک کنویں کے پاس پہنچا اوراسے اس کنویں میں ڈھکیل دیا وہ موت کی آغوش میں پہنچتے پہنچتے بھی پیارسے مجھے پکاررہی تھی لیکن مجھکو اس پر رحم نہیں آیا، بیان کرنے والا اپنی جاہلانہ زندگی کی تاریخ کا ایک ورق الٹ رہا تھا اورادھرنبی رحمت ﷺ کی آنکھوں سے اشکوں کے دریا رواں تھے ، آپﷺ کی لحیہ مبارکہ کے موئے مبارک آنسووں کے سیلاب سے بھیگ گئے تھے۔آپ ﷺ دل گرفتہ ودل گیر انداز سے گویا ہوئے ۔دور جاہلیت میں ہوئے معاملات پر اگر سزا دیئے جانے کا مجھ کو حکم دیا جاتا تو ضرور میں تم کو سزا دیتا ۔(قرطبی۔۷؍۹۷)الغرض غربت وافلاس کے خوف سے تو کہیں عاروشرم کے باعث بعض قبائل اپنی ہی بیٹیوں پر اس طرح ظلم ڈھاتے ،لڑکی جب چھ سال کی ہوجاتی تواسکا باپ پہلے ہی سے جنگل میں گڑھا کھودکرتیارکرلیتا پھربچی کی ماں سے کہتا کہ بیٹی کوغسل دواورعمدہ لباس اسکے زیب تن کرو،اس تیاری کے ساتھ بچی جب اپنے انجام سے بے خبرخوشی خوشی اپنے باپ کی انگلی پکڑکرچلتی لیکن وہ بے رحم باپ اس گڑھے میں اسکو ڈھکیل دیتا جسکواس نے پہلے ہی سے تیارکررکھا تھا۔وہ پیارومحبت سے باپ کو آوازدیتی لیکن وہ بے رحم انسان اس پر منوںمٹی ڈال کر زندہ درگورکردیتا ۔ مردایسے کٹھوردل تھے ،عورت تو عورت ہوتی ہے وہ کب اسکو پسندکرتی ماں کی ممتاکواس سے کیا مطلب اس کے اندرپلنے والی جان لڑکی ہے یا لڑکا،اسکوتو خوشی اس بات کی ہوتی کہ وہ ماں بننے جارہی ہے،اسکواپنی ممتا بھری محبتیں نچھاورکرنے اورروحانی آسودگی حاصل کرنے سے مطلب ہوتا،چونکہ رحمت ومہربانی اسکی خمیرمیں گندھی ہوتی ہے وہ تو مامتاکی ماری غم کے گھونٹ دل میں اتارلیتی،اس ظلم کے خلاف وہ نہ کوئی آواز اٹھا سکتی تھی،نہ حرف شکایت زبان پر لانے کی روادار تھی ، البتہ مرداپنی جاہلانہ غیرت کی وجہ لڑکیوں کی پیدائش کو اپنے اوراپنے خاندان کیلئے ذلت اورعارکا باعث سمجھتے تھے۔قرآن پاک میںجسکی منظرکشی اس طرح کی گئی ہے:’’ان میں سے جب کسی کو لڑکی کی پیدائش کی خبرمل جاتی تو اسکا چہرہ سیاہ پڑجاتا ،دل ہی دل میں گھٹنے لگتا شرم وعارکی وجہ لوگوں کی نگاہوں سے چھپے چھپے پھرتا، اس خبرکووہ بہت بری خبرجانتا ،لڑکی کواپنے گھررکھکرذلت ورسوائی برداشت کرے یا اسے مٹی کی تہہ میں دبا دے ،اس طرح کافکری طوفان اسکو اندرسے تہہ وبالا رکھتا ،آہ کتنا براہے وہ جوفیصلہ کرتے ہیں‘‘۔ (النحل:۵۸؍۵۹) الغرض لڑکیوں کوزندہ درگورکرنے ان معصوم ننھی منی کلیوں کو کھل کرپھول بننے اوراپنے رنگ ونورسے خوش منظربننے اوراپنی خوشبوسے عالم گیتی کومہکا نے ومعطرکرنے سے پہلے مسل دینے کی ریت کو اس جاہلانہ سماج میں نہ ظلم سمجھا جاتا نہ معیوب جانا جاتا تھا،ظلم کی راہ سے کسی اورانسان کی جان لی جاتی تو ظالمانہ وجاہلانہ سماج میں کوئی نہ کوئی زبان تو کھلتی اوراس ظلم پر روک لگانے کیلئے کوئی نہ کوئی ہاتھ ضروراٹھتا ،لیکن معصوم لڑکیوں کا قاتل باپ گویا اس سماج کا ایک ہیروتھا ۔نہ اس پر کوئی اعتراض ہوتا اورنہ اس مظلوم ومعصوم جان کی موت پر کوئی آنسوبہانے والا ہوتاالاماشا ء اللہ کچھ لوگ رہے ہوں جودورجاہلیت میں بھی پیکررحمت بن کر جان سے محروم کی جانے والی لڑکیوں کو اپنی آغوش رحمت میں لیتے ہوئے چمنستان دہرمیں ان معصوم کلیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے ہوں ۔ایسی ہی ایک نادرمثال زیدبن عمروبن نفیل کی ہے جواس جاہلی ظالمانہ سماج میں گویا انسانیت کا ایک ٹمٹماتا چراغ تھے جس کی روشنی زندگی سے ہاتھ دھونے والی اورجان سے محروم ہونے والی ننھی ہستیوں کو زندگی کی امیددلا رہی ہوتی تھی۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ ایسی بچیوں کی جان بچاتے اوراپنی بیٹیوں جیسا پیاردیتے انکے دل لبھاتے ،رحمت ومہربانی کے ساتھ انکی پرورش کرتے اورجب بڑی ہوجاتیں تو پھرکسی شریف نیک اورباکردارانسان سے ان کا بیاہ کر کے اس کے نازک ہاتھوں کواسکے ہاتھ میں تھمادیتے۔روزقیامت اللہ سبحانہ زندہ درگورکی ہوئی بچیوں سے دریافت کریں گے کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں جان سے ہاتھ دھوبیٹھیں (التکویر:۸؍۹) ہرطرح کے جرائم کا سوال جبکہ جرم کرنے والوں سے کیا جا ئیگا لیکن یہ جرم اتنا گھناؤنا ہے کہ یہاں ان لڑکیوں سے توپوچھا جائے گا لیکن اس جرم کے مرتکبین سے نہیں،

 

اس میں رمزہے کہ اللہ سبحانہ کے ہاں یہ جرم ایسا نا قابل معافی ہے اوریہ ایسا باعث رسوائی کام ہے کہ جسکی وجہ اللہ سبحانہ اس سے ایسے ناراض ہے کہ اس سے خطاب بھی گوارہ نہیں فرمایا ۔ چونکہ دنیا میں ان کا کوئی حامی اورمددگارنہیں تھا ،ظاہرہے میدان حشرمیں اس معصوم وبے بس اورمجبورلڑکیوں کی دادرسی انکا خالق فرما ئیگا اور ان معصوم بچیوں کا وہی پاسداربنے گا۔دورجاہلیت کے سنگدلانہ ماحول میں نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺنے معصوم، مظلوم لڑکیوں کی حیات وزندگی کا سامان فرماکر اس قیبح وظالمانہ رواج کی بیخ کنی فرمائی ،اوررہتی دنیا تک ساری انسانیت کیلئے لڑکیوں سے متعلق ایسا بیش بہا حیات آفریں پیغام دیا جوآج بھی تاریخ کے زرین اوراق میں سنہرے الفاظ سے رقم ہے اورآج بھی اسی پیغام کی برکت ہے کہ بیٹیاں دنیا میں اپنی پوری عظمت ووقاراوراحترام کے ساتھ مامون ومحفوظ ہیں ، دشمن بھی جسکے معترف ہیں آپ ﷺ کی زرین ہدایات سے ’’مشتے نمونہ ازخروارے‘‘ یہاں پیش ہیںجسکی وجہ سخت دل انسانی قلوب میں شفقت ومحبت ، ہمدردی ومہربانی ،رافت ومروت کی تخم ریزی ہوسکی۔جسکے نتیجہ میں انسانیت نوازاخلاقی اقدار مانند شجرِسایہ داربرگ وبارلاسکے اورمعاشرہ ظلم کے سورج کی سخت تمازت جھیلنے سے محفوظ ہوگیا۔’’ ارشادفرمایا جوباپ اپنی بچیوں کی وجہ آزمایا گیا ہو اوراس نے انکے ساتھ عمدہ وبہتر سلوک کیا ہو تو وہ بچیاں اسکے لئے دوزخ کی آگ سے بچنے کیلئے اسکے حق میں ڈھال ثابت ہونگی‘‘ اورفرمایا ’’جس نے دولڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے دن وہ اورمیں اس طرح قریب ہونگے جیسے یہ انگلیاں اورپھرآپ ﷺ نے ان انگلیوں کو باہم جوڑدیا‘‘ (الترمذی:۱۹۱۴) فرمایا جس کسی کی ایک لڑکی ہو وہ نہ تواسے زندہ درگورکرے اورنہ اسکی اہانت کا ارتکاب کرے اورنہ اس پر اپنے بیٹے کو فوقیت دے تو اللہ سبحانہ اسکو جنت میں داخل فرما ئیں گے،ایک اور فرمان مبارک ہے ’’جوکوئی تین لڑکیوں کی یا اس جیسی تین بہنوں کی پرورش کرے اورانہیں تعلیم وتربیت سے آراستہ کرے اورانکے اخلاق کو نکھارے اورسنوارے اوران کے ساتھ رحمت ومہربانی کا برتاؤ کرے یہاں تک کہ وہ بے نیازہوجائیں اللہ سبحانہ انکو اسکے صلہ میں جنت عطافرمائیں گے‘‘ ۔اس مجلس میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! کسی کی دوبیٹیاں  یا دوبہنیں ہوں اورپھر عرض کیا گیا کسی کی ایک لڑکی یا ایک بہن ہو ، آپ ﷺ کا دریا ئے رحمت جوش میں تھا آپ  ﷺنے فرمایا ہاں ہاں انکے لئے بھی جنت کی خوشخبری ہے ۔(ترمذی:باب ماجاء فی النفقۃ علی البنات) چنانچہ ایک فرمان مبارک ہے ’’جسکی ایک بیٹی ہواس نے اسکوادب سکھلایا اوراچھا ادب سکھلایا اوراسکی بہتراوراچھی تعلیم کا بندوبست کیا اورجن نوازشات سے اللہ سبحانہ نے اسکو مالامال کیا ہے ان نوازشات سے اپنی بیٹی کو بہرہ مندکیا  ’’کانت لہ سترا وحجابا من النار‘‘وہ بیٹی اسکے حق میں جہنم کی آگ سے آڑبن جائیگی۔ آپ ﷺ نے صرف ارشاد ہی نہیں فرمایا اوربیٹیوں سے پیارومحبت کا صرف زبانی پیغام ہی نہیں دیا بلکہ ایسے پیارے عملی نقوش چھوڑے جواس پیغام کوابدی اورحیات آفریں بناتے ہیں ،آپ ﷺ کی تین بیٹیاں پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں البتہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا حیات تھی،اسلئے آپ ﷺ کا معمول مبارک تھا جب بھی بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوتیں توآپﷺ انکے استقبال میں کھڑے ہوجاتے اورانکی پیشانی کو بوسہ دیتے اوراپنے بازو بٹھالیتے اورجب بھی آپ ﷺ مدینہ پاک سے کہیں باہرتشریف لے جاتے توسب سے آخرمیں بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھرپر تشریف لے جاتے ملاقات فرماتے اور سفر کے لئے روانہ ہوجاتے ،جب آپﷺ باہرسے مدینہ پاک میں رونق آفروزہوتے تو کچھ وقت مسجدنبوی میں گزارکرسب سے پہلے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کیلئے انکے کاشانہ پر پہنچتے ۔ بیٹیاں اللہ سبحانہ کی رحمت ہیں ،جوپیارومحبت کا پیکرہوتی ہیں،اللہ سبحانہ نے ان کی خمیرمیں بیٹوں سے زیادہ محبت رکھی ہے ، اصحاب بصیرت کا ماننا ہے جتنی محبت ماں باپ سے بچیوں کو ہوتی ہے شایدہی بچوں کو اتنی ہو ۔ ماں باپ جب بیمارہوتے یا کسی آزمائش سے دوچارہوجاتے ہیں تو جتنی دلجوئی بیٹیوں سے ملتی ہے اتنی بیٹوں سے شاید ہی ملے ،وہ اپنی فطری محبت کی وجہ بے چین و         بے قرارہوجاتی ہیں جوکچھ بن پڑتا ہو وہ کرگزرتی ہیں ،اور اشک بارسجدہ ریزہوکربارگاہ الہی میں ملتجیانہ وعاجزانہ معروضات پیش کرکے مصیبت زدہ والدین کیلئے بہت بڑااورقیمتی سہارا بنتی ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT