Wednesday , June 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیٹی کی پیدائش پر خوش دلی کا اظہار کریں

بیٹی کی پیدائش پر خوش دلی کا اظہار کریں

آج کے اس تعلیم یافتہ دور میں بھی مسلم معاشرے میں بعض گھر ایسے ہیں جہاں پر بیٹیوں کی پیدائش پر ان کا خاندان غم اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور گھر میں کئی دن تک غم کا ماحول چھایا رہتا ہے اور وہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کاش ہمارے گھر لڑکا پیدا ہوجاتا …!
مسلم معاشرے میں زوال پذیر معیار زندگی کی سب سے بڑی وجہ عصری علوم سے بچیوں کو محروم رکھنا ہے اور تعلیم و ملازمت کے سلسلہ میں لڑکیوں کو وہ سہولت حاصل نہیں ہے ،جو ہونی چاہئے ۔ لڑکیوں کو یہ کہہ کر تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے کہ اسے کون سی نوکری کرنی ہے ۔ تعلیم حاصل کرکے کیا کرے گی ؟ ایک دن تو شادی ہونی ہے ۔ لڑکیوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ صنف نازک ہوتی ہیں اور کسی بھی ذمہ داری کو بحوبی انجام نہیں دے سکتی ۔ جتنا پیار والدین اپنے بیٹوں سے کرتے ہیں اس کے عشر عشیربھی اپنی بیٹیوں سے نہیں کرتے اور ان کی ضرورتوں اور خواہشات کو بھی نظرانداز کردیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ کسی کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے یہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں کہ ’’اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو ‘‘ ۔ پھر وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں ’’یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا ، قیامت تک اﷲ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ شامل حال رہے گی ۔ حضرت عبداﷲ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی وہ اس کو تکلیف نہ پہنچائے اور نہ لڑکوں کو ان پر ترجیح دے اور نہ لڑکی کے ساتھ توہین آمیز معاملہ کرے تو ایسا شخص قیامت کے روز رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ ہوگا ۔
والدین کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ آج کے بعد وہ لڑکی کی پیدائش پر خوش دلی کا اظہار کریں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT