Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / بیک وقت پارلیمانی و اسمبلی انتخابات کی تجویز پر ملاجلا ردعمل

بیک وقت پارلیمانی و اسمبلی انتخابات کی تجویز پر ملاجلا ردعمل

امریکی صدارتی انتخابات کے طرز پر رائے دہی کو انا ڈی ایم کے تائید‘ کانگریس مخالف
نئی دہلی۔20ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت منعقد کرنے ایک پارلیمانی پیانل کی سفارشات پر سیاسی جماعتوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ پارلیمانی پیانل نے انتخابی مصارف میں کمی اور عام زندگی میں خلل اندازی سے گریز کیلئے پارلیمانی و اسمبلی انتخابات کے بیک وقت انعقاد کی سفارش کی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس تجویز کی قبویت کی صورت میں مختلف دشواریوں کی نشاندہی کی ہے ۔ اُمور سرکاری ملازمین و قانون سے متعلق پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ملک بھر میں بیک وقت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کرنے کی پُرزور وکالت کیتھی ۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’ کمیٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں ہر پانچ کے دوران ملک میں بیک وقت لوک سبھا و اسمبلی انتخابات منعقد  نہیں ہوں گے  لیکن یہ عمل قدرے سست روی کے ساتھ ایسے مرحلہ میں داخل ہوسکتا ہے جب بعض ریاستی اسمبلیوں کی میعاد مقررہ وقت سے پہلے ختم کی جائے یا پھر اس میں توسیع کی جائے ‘‘ ۔

کمیٹی کی یہ رپورٹ رواں ہفتہ کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ۔ انا ڈی ایم کے ‘ آسام گن پریشد ‘ انڈین یونین مسلم لیگ ۔ آئی یو ایم ایل ) اور شرومن اکالی دل ( ایس اے ڈی) نے بیک وقت انتخابات  کے نظریہ کی حمایت کی ہے لیکن کانگریس ‘ ترنمول کانگریس ‘ این سی پی اور اے آئی ایم آئی ایم نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے ۔رپورٹ نے بشمول بی جے پی دیگر چند جماعتوں کے موقف کا حوالہ نہیں دیا ۔ انا ڈی ایم کے ے اُصولی طور پر اس نظریہ کی تائید کی ہے ۔ ٹاملناڈو کی چیف منسٹر جیہ للیتا کی پارٹی نے کہا ہے کہ ’’ ہندوستان میں بیک وقت انتخابات کا مطلب یہ ہوگا کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی میعاد مقرر کی جائے اور امریکی صدارتی انتخابات  کی طرز پر انتخابی رائے دہی اور ووٹوں کی گنتی کی مقررہ تواریخ کا بھی اعلان کیا جائے  ‘‘ ۔ کانگریس ‘ این سی پی اور ایم آئی ایم نے اس نظریہ کو ناقابل عمل قرار دیا ۔ ترنمول کانگریس نے بیک وقت انتخابات کی تجویز کو غیر جمہوری اور غیر دستوری قرار دیا ۔

TOPPOPULARRECENT