Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بیگم بازار کے ٹھوک تاجرین کا چلر فروشی سے گریز

بیگم بازار کے ٹھوک تاجرین کا چلر فروشی سے گریز

بل کے بغیر تجارت اور ہزار روپئے سے کم کی اشیاء فروخت کرنے سے انکار ، گاہکوں کو مشکلات
حیدرآباد۔27نومبر(سیاست نیوز) شہر کے ٹھوک تاجرین جو چلر فروشی کرلیا کرتے تھے نے اب چلر فروشی بند کردی ہے اور ممکنہ حد تک بل کے بغیر تجارت سے گریز کرنے لگے ہیں۔ بغیر بل اشیا کی فروخت کیلئے معروف بیگم بازار کی دکانوں میں جہاں ٹھوک کے ساتھ چلر فروشی ہوا کرتی تھی اچانک اب بند ہوچکی ہے۔ بیگم بازار کے تاجرین 1000 روپئے سے کم کی اشیا فروخت کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور 1000 روپئے کے اشیاء کی خریدی پر بل کے ساتھ مطلوبہ سامان فروخت کیا جانے لگا ہے۔ گاہکوں کو تاجرین کے اس عمل سے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بیشتر شہری جو چھوٹی اشیاء ٹھوک قیمت میں میسر آجاتی تھی اس کیلئے بیگم بازار کا رخ کیا کرتے تھے اب انہیں 1000روپئے سے کم کی خریدی نہ کر پانے سے مایوسی ہونے لگی ہے۔ بیگم بازار تاجرین کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس اور کمرشیل ٹیکس کی ہراسانیوں اور جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد دشواریوں سے بچنے انہوں نے بل کے بغیر کاروبار کو بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے اور چلر فروشی سے ان کے ٹھوک بھاؤ پر منفی اثرات ہونگے اس کیلئے 1000روپئے سے کم کی اشیاکی فروخت کیلئے انہوں نے عارضی روک لگا رکھی ہے ایسا کرنے سے انہیں دو فائدے ہونگے ایک تو ٹیکس کے حساب مناسب رکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور موجودہ حالات میں چلر کی قلت سے انہیں دو چار ہونے کی نوبت نہیں آرہی ہے۔ تجارتی برادری جو بیگم بازار میں کاروبار کرتی ہے اس کی جانب سے بغیر بل کے کاروبار نہ کئے جانے کے فیصلہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان تاجرین نے مستقبل میں پیش آنے والی دشواریوں کو دور
کرنے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود اس مخصوص طبقہ کے تاجرین نے قوانین کے مطابق بلس کی اجرائی کے فیصلہ کے ذریعہ اپنی آمدنی اور فروخت کا ریکارڈ رکھنا شروع کردیا ہے جو کہ ان کیلئے آئندہ سودمند ثابت ہوگا۔ بیگم بازار میں چلر فروشی اور بغیر بل کے کاروبارکو مفقود کردیئے جانے سے متعلق چھوٹے تاجرین کا کہنا ہے کہ یہ محلہ واری اساس پر کھولی جانے والی دکانوں کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی کیونکہ ٹھوک قیمت میں معمولی اشیاء کیلئے بیگم بازار کی رخ کرنے والے گاہک اپنی قریبی دکانات کا رخ کریں گے۔ شہر میں بیگم بازار کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ اس بازار میں بھاری پیمانے پر کچے بلوں کے ذریعہ خرید و فروخت ہوا کرتی ہے لیکن نوٹوں کی تنسیخ اور محکمہ انکم ٹیکس و کمرشیل ٹیکس کی جانب سے اچانک کاروائیوں کے آغاز کے فوری بعد تاجرین کی جانب سے تبدیل کی گئی حکمت عملی کامیاب تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے فوائد تاجرین اور گاہک دونوں کو ملیں گے۔

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT