Tuesday , April 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بیگم پیٹ پولیس کی حراست میں ایک شخص کی موت ‘ رشتہ داروں کا احتجاج

بیگم پیٹ پولیس کی حراست میں ایک شخص کی موت ‘ رشتہ داروں کا احتجاج

حیدرآباد۔/8 اپریل ، ( سیاست نیوز) بیگم پیٹ پولیس کی حراست میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی۔ برہم رشتہ داروں نے رات دیر گئے پولیس اسٹیشن کے روبرو دھرنا منظم کیا جس کے بعد وہاں ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوگئی۔26سالہ موہن کرشنا عرف رامو ساکن پاٹی گڈہ ( سکندرآباد ) کوکل بیگم پیٹ پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر رویندر نے اسکے رشتہ داروںکی جانب سے کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی شکایت پر اسے پولیس اسٹیشن طلب کیا تھا۔ متوفی کے رشتہ دار ڈی جئے رام ساکن پاٹی گڈہ نے اس کی 16سالہ بیٹی کو ہراساں کئے جانے کی شکایت درج کروائی تھی۔ پولیس نے رامو کے خلاف ایک معمولی مقدمہ درج کیا تھا۔ رامو کو پولیس اسٹیشن میں محروس رکھنے کے دوران اس کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے مقامی دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں رات دیر گئے اس کی موت واقع ہوگئی۔ برہم رشتہ داروں نے پولیس کی کارروائی کے خلاف پولیس اسٹیشن کے روبرو دھرنا منظم کیا اور خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے تحویل میں ملزم کی موت کے دعویٰ کو بے بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ متوفی ذیابیطس کا مریض تھا اور رشتہ داروں کے درمیان تنازعہ سے وہ مایوس تھا اور دو تا تین دن سے مناسب غذا لینے سے قاصر رہا جسکے سبب اس کا شوگر لیول انتہا کو پہنچ گیا اور اس کی موت ہوگئی۔ پولیس بیگم پیٹ نے مشتبہ حالت میں موت کا مقدمہ درج کرلیا اور سپریم کورٹ کے رہنمایانہ ہدایات کے مطابق متوفی کی نعش کا تحصیلدار کی نگرانی میں فارنسک ماہرین (ڈاکٹرس ) کے ذریعہ پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور اس کارروائی کی مکمل ویڈیو گرافی کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر پولیس نارتھ زون شریمتی سومتی نے بتایا کہ ڈاکٹرس جنہوں نے متوفی کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا ہے ابتدائی رائے میں بتایا کہ متوفی کی نعش پر زخموں کے کوئی نشان موجود نہیں ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT