Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بی ایس تھری گاڑیوں کی فروختگی پر کل سے امتناع

بی ایس تھری گاڑیوں کی فروختگی پر کل سے امتناع

سپریم کورٹ کا فیصلہ ، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ پر سخت اقدام
حیدرآباد۔30مارچ(سیاست نیوز) ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا سبب بننے والی سب سے اہم وجہ BS-IIIگاڑیوں کی فروخت پر سپریم کورٹ نے یکم اپریل سے مکمل امتناع عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے بعد ملک بھر میں موجود بھارت اسٹیج ۔IIIکی کوئی گاڑی خواہ وہ کسی کمپنی کی کیوں نہ ہو ااسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے جو احکام جاری کئے ہیں ان میں واضح طور پر یہ ہدایت جاری کی ہیں کہ ملک میں کسی بھی مقام پر BS-IIIگاڑیوں کی فروخت نہ کی جائے اور نہ ہی ان گاڑیوں کا رجسٹریشن کیا جائے۔ موٹر کاریں تیار کرنے والی کمپنیوں کے علاوہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا اثر موٹر سیکل ساز کمپنیوں پر بھی پڑے گا اور حمل و نقل کیلئے استعمال کی جانے والی ٹرانسپورٹ وہیکل بھی اس فیصلہ سے متاثر ہوں گی۔بتایا جاتاہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کئے گئے اس فیصلہ کے اثرات 8.24لاکھ گاڑیوں پر مرتب ہوں گے جو فروخت کیلئے تیار ہیں جن میں 96ہزار تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے علاوہ 6 لاکھ موٹر سیکلیں اور 40ہزار آٹو رکشا شامل ہیں ۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف BS-IIIگاڑیوں کی فروخت کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ BS-IVگاڑیوں کے علاوہ کسی بھی گاڑی کی فروخت یا رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی ہے اور یکم اپریل کے بعد BS-IV معیار کی حامل گاڑیوں کے علاوہ ملک بھر میں کوئی اور گاڑی فروخت نہیں کی جا سکے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر ڈیلر اور موٹر سازی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے ذمہ داران کا کہنا ہیکہ حکومت نے انہیں اس بات کی طمانیت دی تھی کہ یکم اپریل سے BS-III گاڑیوں کی فروخت پر امتناع عائد نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں حکومت ہند نے اعلامیہ بھی جاری کیا تھا جس کے سبب تیارکنندگان نے گذشتہ برسوں کے دوران کئی گاڑیاں تیار کرلی ہیں جو فروخت کے لئے تیار ہیں لیکن سپریم کورٹ کے ان احکام نے ان تمام گاڑیوں کی فروخت کو مکمل طور پر بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ موٹر سازی صنعت کیلئے ایک بہت بڑا دھکہ ہے۔ فوری طور پر بازار میں BS-IVمعیار کی حامل گاڑیاں خواہ وہ کار ہوں یا موٹر سیکل یا پھر آٹو رکشا ہو یا تجارتی حمل و نقل کیلئے استعمال کی جانے والی گاڑیاں ہوں ان کی طلب کے مطابق ڈیلرس کے پاس دستیاب نہیں ہیں جس سے طلب کے مطابق سپلائی میں دشواریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT