Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / بی ایس مبارک قونصل جنرل کی سیاست نیوز کو الوداعی انٹرویو

بی ایس مبارک قونصل جنرل کی سیاست نیوز کو الوداعی انٹرویو

عارف قریشی جدہ
میں ایک مہینے سے انڈین اسکول کے کتابیں لینے اور دینے میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ مبارک صاحب کی وطن واپسی ہورہی ہے۔ 5 اپریل کی شام مجھے جیسے ہی معلوم ہوا میں نے مبارک صاحب کو فون کیا اور دریافت کیا کہ کیا واقعی آپ کی واپسی ہورہی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ہاں کل جارہا ہوں ، میں نے فوری سیاست نیوز کو الوداعی انٹرویو کیلئے وقت مانگا ، انہوں نے کہا کہ اب تو بہت مشکل ہے ، مجھے جانے کیلئے 24 گھنٹے باقی ہیں، میں نے ان سے گزارش کی کہ کچھ وقت دیجئے ۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے کل یعنی 6 اپریل کو سعودی ایرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں 8 بجے رات آجائیے۔ میں 6 اپریل کو رات ٹھیک 8 بجے ایرپورٹ پہونچ گیا ۔ ایرپورٹ پر انڈین کمیونٹی کی تعداد کافی تھی جو مبارک صاحب کو خدا حافظ کہنے کیلئے آئے تھے ۔ مجھے لگا کہ اب انٹرویو نہیں ہوسکے گا مگر جیسے ہی مبارک صاحب کی نظر مجھ پر پڑی ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر الگ لے گئے اور کہاکہ لیجئے انٹرویو۔ میں نے بھی وقت ضائع کئے بغیر پہلا سوال کیا۔
سوال : حج 2016 ء کے حجاج کرام کے رہائشی عمارتوں کے انتظامات کہاں تک ہوئے ہیں؟
جواب : مبارک صاحب نے بے حد خوشی سے جواب دیتے ہوئے کہاکہ خدا کے فضل سے حج 2016 ء کے گرین کیٹگری کے حجاج کرام کیلئے رہائش کے سارے انتظامات میری موجودگی میں مکمل ہوچکے ہیں۔ اب العزیزیہ محلے کی عمارتوں میں باقی کے حجاج کرام کیلئے عمارتیں تلاش کی جارہی ہیں ۔ مبارک صاحب نے مزید کہا کہ آنے والے نئے قونصل جنرل مسٹر محمد نور رحمان شیخ جو پچھلے سال تک جدہ کے قونصلیٹ میں قونصل حج کے فرائض انجام دے رہے تھے ،ان کو حج کے انتظامات کا بہت اچھا تجربہ ہے، وہ ایک قابل ترین ڈپلومیٹ ہیں، ان کو اور نئے قونصل حج کو شاہد عالم کو حج 2016 ء کے سارے انتظامات کرنا ہے۔ مبارک صاحب نے نئے قونصل حج محمد شاہد عالم کے بارے میں بتایا کہ وہ مکہ مکرمہ میں حج 2016 ء کے حجاج کرام کے رہائشی عمارتوں کی تلاش میں شب و روز مصروف ہیں اور وہ ایک بہترین اور محنتی قونصل حج ثابت ہوں گے۔
سوال : امسال ہندوستانی حجاج کرام کے کوٹہ میں اضافہ ہوا یا نہیں؟

جواب : پچھلے ماہ ہندوستان کے مملکتی وزیر برائے امور خارجہ مسٹر وی کے سنگھ نے جدہ میں حج 2016  کے لئے سعودی عرب کے وزیر حج کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں، اس وقت ہمارے ہندوستانی وزیر برائے امور خارجہ مسٹر وی کے سنگھ نے سعودی عرب کے وزیر حج سے ہندوستانی حجاج کرام کے کوٹہ میں اضافہ کیلئے گزارش کی تھی اور ہم نے بھی سفارتی سطح پر بھی کوشش کی ہے مگر ابھی تک سعودی حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔
سوال :  آپ کی نظر میں انڈین کمیونٹی کے سب سے زیادہ مسائل کیا ہیں؟
جواب : اس وقت جو ہندوستانی سعودی عرب میں برسر روزگار ہیں، ان کے مسائل یہ ہیں کہ ان کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی اور جس کام پر لایا گیا تھا ، وہ کام نہیں ملتا۔ ہماری قونصلیٹ ان مسائل کو سعودی عرب کے قانون کے دائرے میں حل کرتی ہے ۔ مبارک صاحب نے زور دے کر کہا کہ ہمارے ہندوستانی روزگار کے لئے سعودی عرب آنا چاہئے ، ان کو چاہئے کہ وہ سعودی عرب آنے سے قبل اپنے کنٹراکٹ پر دستخط کرنے سے پہلے کنٹراکٹ کو اچھی طرح پڑھ لیں اور اس کنٹراکٹ کی کاپی اپنے ساتھ سعودی عرب لائیں تاکہ اس کنٹراکٹ کے تحت کام کرسکیں۔ اگر کنٹراکٹ کے مطابق کام نہیں ملتا ہے تو وہ کنٹراکٹ لے کر ہماری انڈین قونصلیٹ جائیں ، تب ہماری انڈین قونصلیٹ آسانی سے ان کے مسائل حل کرسکتی ہے ۔ بغیر کنٹراکٹ کے مسائل کو حل کرنا ہمارے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ، اس کے باوجود ہماری انڈین قونصلیٹ ہر ہندوستانی کے مسائل حل کرتی ہے ۔ ان کی ہر طرح کی مدد کرتی ہے ۔ ان کے حقوق دلواتی ہے اور ان کو مشکلات سے نجات دلواتی ہے۔
سوال : آپ انڈین قونصلیٹ جدہ میں پہلی بار قونصل حج بن کر آئے تھے ۔ دوسری بار قونصل جنرل بن کر آئے۔ کیا تیسری بار سفیر ہند بن کر آنا پسند کریں گے؟
جوا ب:  مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور جدہ میرے دل کے بہت قریب ہے۔ میری آنکھوں میں بسا ہوا ہے ۔ مجھے امریکہ ، جنیوا اور دوسرے ممالک میں پوسٹنگ دی جارہی تھی، مگر میں نے جدہ کو ہی پسند کیا۔ میں ایک مسلمان ہوں ، حجاج کرام کی خدمت کرنا میری زندگی کا اولین فرض ہے ۔ جدہ ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حجاج کرام کی خدمت کا جو موقع ملتا ہے، وہ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتا۔ حجاج کرام کی خدمت کرنے سے جو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے ، اس کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔ ہاں ! اللہ نے چاہا تو تیسری بار بھی میں حجاج کرام اور انڈین کمیونٹی کی خدمت کے لئے سعودی عرب آنا پسند کروں گا ۔
سوال : سعودی عرب میں مقیم ہندوستانی ورکرز کیلئے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں ؟
جواب : جدہ میں ہندوستانی کمیونٹی کے کئی تنظیمیں ہیں جو اپنے اپنے طریقے سے کمیونٹی کی خدمات انجام دے رہی ہے ۔ یہاں پر ہر ہندوستانی اپنے ملک کا سفیر ہے اور ہر ہندوستانی کا اولین فرض ہے کہ وہ سعودی عرب کے قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی خدمات انجام دے ۔ مبارک صاحب نے مزید کہا کہ ہندوستانی ورکرز نے سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی کیلئے بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کا اظہار سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی کیا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ ہماری ہندوستانی کمیونٹی اس طرح ایمانداری اور محنت سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنے ملک و قوم کا نام روشن کرے گی۔

قونصل جنرل مبارک صاحب نے مزید کہاکہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت اور سعودی عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے حجاج کرام کیلئے ہرطرح کا آرام و سکون اور رہائش وطعام کے بارے میں انتظامات بہترین انداز میں فراہم کر رہے ہیں اور مملکت میں مقیم ہمارے 3 ملین ہندوستانی ورکرز کیلئے بھی سعودی حکومت رہائش اور کھانے پینے کے بہترین انتظامات کر رہے ہیں۔عزت مآب بی ایس مبارک قونصل جنرل ہند کی حیثیت سے سیاست نیوز کو آخری انٹرویو دے کر سعودی ایرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج سے گزر کرایر انڈیا کی فلائیٹ سے اپنے وطن ہندوستان واپس چلے گئے۔

TOPPOPULARRECENT